0 اندراجات
حکمت (82) : تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے۔ کہ اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنکاؤ، تو وہ اسی قابل ہوں گی۔ تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے اور اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خوف نہ کھائے اور اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے وہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا اور اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں، اور صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے۔ اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے، یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں۔ (82- پانچ نصیحتیں) حکمت حکمت 82

حکمت (82) : تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے۔ کہ اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنکاؤ، تو وہ اسی قابل ہوں گی۔ تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے اور اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خوف نہ کھائے اور اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے وہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا اور اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں، اور صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے۔ اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے، یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں۔ (82- پانچ نصیحتیں)

تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (83) :  ایک شخص نے آپ کی بہت زیادہ تعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عقیدت و ارادت نہ رکھتا تھا ، تو آپ نے فرمایا جب تمہاری زبان پر ہے میں اس سے کم ہوں اور جو تمہارے دل میں ہے اس سے زیادہ ہوں۔ (83- مدح سرائی) حکمت حکمت 83

حکمت (83) : ایک شخص نے آپ کی بہت زیادہ تعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عقیدت و ارادت نہ رکھتا تھا ، تو آپ نے فرمایا جب تمہاری زبان پر ہے میں اس سے کم ہوں اور جو تمہارے دل میں ہے اس سے زیادہ ہوں۔ (83- مدح سرائی)

ایک شَخص نے آپ کی بَہت زیادہ تَعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عَقیدَت و اِرادَت نہ رکھتا تھا۔

مزید پڑھیے
حکمت (84) : تلوار سے بچے کھچے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی نسل زیادہ ہوتی ہے۔ (84- بقیۃ السیف) حکمت حکمت 84

حکمت (84) : تلوار سے بچے کھچے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی نسل زیادہ ہوتی ہے۔ (84- بقیۃ السیف)

تلوار سے بچے کھچے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی نسل زیادہ ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (85) : جب کی زبان پر کبھی یہ جملہ نہ آئے کہ »میں نہیں جانتا «۔ تو وہ چوٹ کھانے کی جگہوں پر چوٹ کھا کر رہتا ہے۔ (85- ہمہ دانی) حکمت حکمت 85

حکمت (85) : جب کی زبان پر کبھی یہ جملہ نہ آئے کہ »میں نہیں جانتا «۔ تو وہ چوٹ کھانے کی جگہوں پر چوٹ کھا کر رہتا ہے۔ (85- ہمہ دانی)

جس کی زَبان پر کبھی یہ جُملہ نہ آئے کہ »میں نہیں جانتا«۔

مزید پڑھیے
حکمت (86) :  بوڑھے کی رائے مجھے جوان کی ہمت سے زیادہ پسند ہے (ایک روایت میں یوں ہے کہ بوڑھے کی رائے مجھے جوان کے خطرے میں ڈٹے رہنے سے زیادہ پسند ہے ) (86- بڑوں کا مشورہ) حکمت حکمت 86

حکمت (86) : بوڑھے کی رائے مجھے جوان کی ہمت سے زیادہ پسند ہے (ایک روایت میں یوں ہے کہ بوڑھے کی رائے مجھے جوان کے خطرے میں ڈٹے رہنے سے زیادہ پسند ہے ) (86- بڑوں کا مشورہ)

بوڑھے کی رائے مجھے جوان کی ہمت سے زیادہ پسند ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (87) :  اس شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ جب توبہ کی گنجائش کے ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے (87- استغفار) حکمت حکمت 87

حکمت (87) : اس شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ جب توبہ کی گنجائش کے ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے (87- استغفار)

اس شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ جب توبہ کی گنجائش کے ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے

مزید پڑھیے
حکمت (88) :  دنیا میں عذابِ خدا سے دو چیزیں باعثِ امان تھیں، ایک ان میں سے اٹھ گئی، مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے۔ لہٰذا اسے مضبوطی سے تھامے رہو۔ وہ امان جو اٹھا لی گئی وہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور وہ امان جو باقی رہ گئی ہے وہ توبہ و استغفار ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: »اللہ لوگوں پر عذاب نہیں کرے گا جب تک تم ان میں موجود ہو«۔ اللہ ان لوگوں پر عذاب نہیں اتارے گا، جب کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کر رہے ہوں گے۔ (88- ایک لطیف استنباط) حکمت حکمت 88

حکمت (88) : دنیا میں عذابِ خدا سے دو چیزیں باعثِ امان تھیں، ایک ان میں سے اٹھ گئی، مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے۔ لہٰذا اسے مضبوطی سے تھامے رہو۔ وہ امان جو اٹھا لی گئی وہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور وہ امان جو باقی رہ گئی ہے وہ توبہ و استغفار ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: »اللہ لوگوں پر عذاب نہیں کرے گا جب تک تم ان میں موجود ہو«۔ اللہ ان لوگوں پر عذاب نہیں اتارے گا، جب کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کر رہے ہوں گے۔ (88- ایک لطیف استنباط)

دنیا میں عذابِ خدا سے دو چیزیں باعثِ امان تھیں، ایک اٹھ گئی، مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (89) : جب نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا، تو اللہ اس کے اور لوگوں کے معاملات سلجھائے رکھے گا اور جب نے اپنی آخرت کو سنوار لیا، تو خدا اس کی دنیا بھی سنوار دے گا اور جب خود اپنے کو وعظ و پند کر لے، تو اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہوتی رہے گی۔ (89- اللہ سے خوش معاملگی) حکمت حکمت 89

حکمت (89) : جب نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا، تو اللہ اس کے اور لوگوں کے معاملات سلجھائے رکھے گا اور جب نے اپنی آخرت کو سنوار لیا، تو خدا اس کی دنیا بھی سنوار دے گا اور جب خود اپنے کو وعظ و پند کر لے، تو اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہوتی رہے گی۔ (89- اللہ سے خوش معاملگی)

جس نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا، اللہ اس کے معاملات سلجھائے رکھے گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (90) :  پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے، اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے۔ (90- پورا علم) حکمت حکمت 90

حکمت (90) : پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے، اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے۔ (90- پورا علم)

پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس نہ کرے۔

مزید پڑھیے
حکمت (91) : یہ دل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو) ان کے لیے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو۔ (91- دل کی خستگی) حکمت حکمت 91

حکمت (91) : یہ دل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو) ان کے لیے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو۔ (91- دل کی خستگی)

یہ دِل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بَدَن اکتا جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے