Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 293
حکمت (293) : بے وقوف کی ہم نشینی اختیار نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے سامنے اپنے کاموں کو سجا کر پیش کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تم اسی کے ایسے ہو جاؤ۔ (293- بے وقوف کی مصاحبت)
بے وقوف کی ہم نشینی اختیار نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے سامنے اپنے کاموں کو سجا کر پیش کرے گا۔
حکمت
حکمت 308
حکمت (308) : باپوں کی باہمی محبت اولاد کے درمیان ایک قرابت ہوا کرتی ہے اور محبت کو قرابت کی اتنی ضرورت نہیں جتنی قرابت کو محبت کی۔ (308- دوستی و قرابت)
باپوں کی باہمی محبت اولاد کے درمیان ایک قرابت ہوا کرتی ہے۔
حکمت
حکمت 294
حکمت (294) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ مشرق و مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟آپ نے فرمایا »سورج کا ایک دن کا راستہ«۔ (294- مغرب و مشرق کا فاصلہ)
آپ سے دریافت کیا گیا کہ مشرق و مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟
حکمت
حکمت 309
حکمت (309) : اہل ایمان کے گمان سے ڈرتے رہو، کیونکہ خداوند عالم نے حق کو ان کی زبانوں پر قرار دیا ہے۔ (309- ظن مومن)
اہل ایمان کے گمان سے ڈرتے رہو، کیونکہ خداوند عالم نے حق کو ان کی زبانوں پر قرار دیا ہے۔
حکمت
حکمت 295
حکمت (295) : تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔ دوست یہ ہیں :تمہارا دوست، تمہارے دوست کا دوست، اور تمہارے دشمن کا دشمن اور دشمن یہ ہیں :تمہارا دشمن، تمہارے دوست کا دشمن اور تمہارے دشمن کا دوست۔ (295- دوست و دشمن)
تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔
حکمت
حکمت 310
حکمت (310) : کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے اس پر زیادہ اطمینان نہ ہو جو قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ (310- توکل)
کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے…
حکمت
حکمت 280
حکمت (280) : جو سفرکی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتا ہے۔ (280- آخرت)
جو سفر کی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتا ہے۔
حکمت
حکمت 296
حکمت (296) : حضرت نے ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دشمن کو ایسی چیز کے ذریعہ سے نقصان پہنچانے کے درپے ہے جس میں خود اس کو بھی نقصان پہنچے گا، تو آ پ نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہو جو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے اپنے سینہ میں نیزہ مارے۔ (296- ایذا رسانی)
حضرت نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہو جو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے…
حکمت
حکمت 311
حکمت (311) : جب حضرت بصرہ میں وارد ہوئے تو انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا تھا کہ ان دونوں کو کچھ وہ اقوال یاد دلائیں جو آپ علیہ السّلام کے بارے میں انہوں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنے ہیں۔ مگر انہوں نے اس سے پہلوتہی کی، اور جب پلٹ کر آئے تو کہا کہ وہ بات مجھے یاد نہیں رہی اس پر حضرت نے فرمایا اگر تم جھو ٹ بول رہے ہو تو اس کی پاداش میں خداوند عالم ایسے چمکدار داغ میں تمہیں مبتلا کرے، کہ جسے دستار بھی نہ چھپا سکے۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ) سفید داغ سے مراد برص ہے چنانچہ انس مر ض میں مبتلا ہو گئے جس کی وجہ سے ہمیشہ نقاب پوش دکھائی دیتے تھے۔ (311- اَنس ابن مالک)
حضرت علی علیہ السلام نے انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے اقوال یاد دلانے بھیجا تھا، مگر انہوں…
حکمت
حکمت 281
حکمت (281) : آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں کیونکہ آنکھیں کبھی اپنے اشخاص سے غلط بیانی بھی کر جاتی ہیں مگر عقل اس شخص کو جو اس سے نصیحت چاہے کبھی فریب نہیں دیتی۔ (281- عقل کی رہبری)
آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں کیونکہ آنکھیں کبھی اپنے اشخاص سے غلط بیانی بھی کر جاتی ہیں۔
