Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

497 اندراجات
حکمت (293) :  بے وقوف کی ہم نشینی اختیار نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے سامنے اپنے کاموں کو سجا کر پیش کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تم اسی کے ایسے ہو جاؤ۔ (293- بے وقوف کی مصاحبت) حکمت حکمت 293

حکمت (293) : بے وقوف کی ہم نشینی اختیار نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے سامنے اپنے کاموں کو سجا کر پیش کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تم اسی کے ایسے ہو جاؤ۔ (293- بے وقوف کی مصاحبت)

بے وقوف کی ہم نشینی اختیار نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے سامنے اپنے کاموں کو سجا کر پیش کرے گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (308) :  باپوں کی باہمی محبت اولاد کے درمیان ایک قرابت ہوا کرتی ہے اور محبت کو قرابت کی اتنی ضرورت نہیں جتنی قرابت کو محبت کی۔ (308- دوستی و قرابت) حکمت حکمت 308

حکمت (308) : باپوں کی باہمی محبت اولاد کے درمیان ایک قرابت ہوا کرتی ہے اور محبت کو قرابت کی اتنی ضرورت نہیں جتنی قرابت کو محبت کی۔ (308- دوستی و قرابت)

باپوں کی باہمی محبت اولاد کے درمیان ایک قرابت ہوا کرتی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (294) :  آپ سے دریافت کیا گیا کہ مشرق و مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟آپ نے فرمایا »سورج کا ایک دن کا راستہ«۔ (294- مغرب و مشرق کا فاصلہ) حکمت حکمت 294

حکمت (294) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ مشرق و مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟آپ نے فرمایا »سورج کا ایک دن کا راستہ«۔ (294- مغرب و مشرق کا فاصلہ)

آپ سے دریافت کیا گیا کہ مشرق و مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟

مزید پڑھیے
حکمت (309) :  اہل ایمان کے گمان سے ڈرتے رہو، کیونکہ خداوند عالم نے حق کو ان کی زبانوں پر قرار دیا ہے۔ (309- ظن مومن) حکمت حکمت 309

حکمت (309) : اہل ایمان کے گمان سے ڈرتے رہو، کیونکہ خداوند عالم نے حق کو ان کی زبانوں پر قرار دیا ہے۔ (309- ظن مومن)

اہل ایمان کے گمان سے ڈرتے رہو، کیونکہ خداوند عالم نے حق کو ان کی زبانوں پر قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (295) :  تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔ دوست یہ ہیں :تمہارا دوست، تمہارے دوست کا دوست، اور تمہارے دشمن کا دشمن اور دشمن یہ ہیں :تمہارا دشمن، تمہارے دوست کا دشمن اور تمہارے دشمن کا دوست۔ (295- دوست و دشمن) حکمت حکمت 295

حکمت (295) : تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔ دوست یہ ہیں :تمہارا دوست، تمہارے دوست کا دوست، اور تمہارے دشمن کا دشمن اور دشمن یہ ہیں :تمہارا دشمن، تمہارے دوست کا دشمن اور تمہارے دشمن کا دوست۔ (295- دوست و دشمن)

تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔

مزید پڑھیے
حکمت (310) :  کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے اس پر زیادہ اطمینان نہ ہو جو قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ (310- توکل) حکمت حکمت 310

حکمت (310) : کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے اس پر زیادہ اطمینان نہ ہو جو قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ (310- توکل)

کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے…

مزید پڑھیے
حکمت (280) :  جو سفرکی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتا ہے۔ (280- آخرت) حکمت حکمت 280

حکمت (280) : جو سفرکی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتا ہے۔ (280- آخرت)

جو سفر کی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (296) :  حضرت نے ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دشمن کو ایسی چیز کے ذریعہ سے نقصان پہنچانے کے درپے ہے جس میں خود اس کو بھی نقصان پہنچے گا، تو آ پ نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہو جو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے اپنے سینہ میں نیزہ مارے۔ (296- ایذا رسانی) حکمت حکمت 296

حکمت (296) : حضرت نے ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دشمن کو ایسی چیز کے ذریعہ سے نقصان پہنچانے کے درپے ہے جس میں خود اس کو بھی نقصان پہنچے گا، تو آ پ نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہو جو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے اپنے سینہ میں نیزہ مارے۔ (296- ایذا رسانی)

حضرت نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہو جو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے…

مزید پڑھیے
حکمت (311) :  جب حضرت بصرہ میں وارد ہوئے تو انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا تھا کہ ان دونوں کو کچھ وہ اقوال یاد دلائیں جو آپ علیہ السّلام کے بارے میں انہوں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنے ہیں۔ مگر انہوں نے اس سے پہلوتہی کی، اور جب پلٹ کر آئے تو کہا کہ وہ بات مجھے یاد نہیں رہی اس پر حضرت نے فرمایا اگر تم جھو ٹ بول رہے ہو تو اس کی پاداش میں خداوند عالم ایسے چمکدار داغ میں تمہیں مبتلا کرے، کہ جسے دستار بھی نہ چھپا سکے۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ) سفید داغ سے مراد برص ہے چنانچہ انس مر ض میں مبتلا ہو گئے جس کی وجہ سے ہمیشہ نقاب پوش دکھائی دیتے تھے۔ (311- اَنس ابن مالک) حکمت حکمت 311

حکمت (311) : جب حضرت بصرہ میں وارد ہوئے تو انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا تھا کہ ان دونوں کو کچھ وہ اقوال یاد دلائیں جو آپ علیہ السّلام کے بارے میں انہوں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنے ہیں۔ مگر انہوں نے اس سے پہلوتہی کی، اور جب پلٹ کر آئے تو کہا کہ وہ بات مجھے یاد نہیں رہی اس پر حضرت نے فرمایا اگر تم جھو ٹ بول رہے ہو تو اس کی پاداش میں خداوند عالم ایسے چمکدار داغ میں تمہیں مبتلا کرے، کہ جسے دستار بھی نہ چھپا سکے۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ) سفید داغ سے مراد برص ہے چنانچہ انس مر ض میں مبتلا ہو گئے جس کی وجہ سے ہمیشہ نقاب پوش دکھائی دیتے تھے۔ (311- اَنس ابن مالک)

حضرت علی علیہ السلام نے انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے اقوال یاد دلانے بھیجا تھا، مگر انہوں…

مزید پڑھیے
حکمت (281) :  آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں کیونکہ آنکھیں کبھی اپنے اشخاص سے غلط بیانی بھی کر جاتی ہیں مگر عقل اس شخص کو جو اس سے نصیحت چاہے کبھی فریب نہیں دیتی۔ (281- عقل کی رہبری) حکمت حکمت 281

حکمت (281) : آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں کیونکہ آنکھیں کبھی اپنے اشخاص سے غلط بیانی بھی کر جاتی ہیں مگر عقل اس شخص کو جو اس سے نصیحت چاہے کبھی فریب نہیں دیتی۔ (281- عقل کی رہبری)

آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں کیونکہ آنکھیں کبھی اپنے اشخاص سے غلط بیانی بھی کر جاتی ہیں۔

مزید پڑھیے