Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

497 اندراجات
حکمت (327) :  جس پر گناہ قابو پا لے، وہ کامران نہیں اور شر کے ذریعہ غلبہ پانے والا حقیقتاً مغلوب ہے۔ (327- غلط طریقہ سے کامیابی) حکمت حکمت 327

حکمت (327) : جس پر گناہ قابو پا لے، وہ کامران نہیں اور شر کے ذریعہ غلبہ پانے والا حقیقتاً مغلوب ہے۔ (327- غلط طریقہ سے کامیابی)

جس پر گناہ قابو پا لے، وہ کامران نہیں اور شر کے ذریعہ غلبہ پانے والا حقیقتاً مغلوب ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (328) :  خداوند عالم نے دولتمندوں کے مال میں فقیروں کا رزق مقرر کیا ہے لہٰذا اگر کوئی فقیر بھوکا رہتا ہے تو اس لیے کہ دولت مند نے دولت کو سمیٹ لیا ہے اور خدائے بزرگ و برتر ان سے اس کا مواخذہ کرنے والا ہے۔ (328- فقراء کا حصّہ) حکمت حکمت 328

حکمت (328) : خداوند عالم نے دولتمندوں کے مال میں فقیروں کا رزق مقرر کیا ہے لہٰذا اگر کوئی فقیر بھوکا رہتا ہے تو اس لیے کہ دولت مند نے دولت کو سمیٹ لیا ہے اور خدائے بزرگ و برتر ان سے اس کا مواخذہ کرنے والا ہے۔ (328- فقراء کا حصّہ)

خداوند عالم نے دولتمندوں کے مال میں فقیروں کا رزق مقرر کیا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (328) :  خداوند عالم نے دولتمندوں کے مال میں فقیروں کا رزق مقرر کیا ہے لہٰذا اگر کوئی فقیر بھوکا رہتا ہے تو اس لیے کہ دولت مند نے دولت کو سمیٹ لیا ہے اور خدائے بزرگ و برتر ان سے اس کا مواخذہ کرنے والا ہے۔ حکمت حکمت 328

حکمت (328) : خداوند عالم نے دولتمندوں کے مال میں فقیروں کا رزق مقرر کیا ہے لہٰذا اگر کوئی فقیر بھوکا رہتا ہے تو اس لیے کہ دولت مند نے دولت کو سمیٹ لیا ہے اور خدائے بزرگ و برتر ان سے اس کا مواخذہ کرنے والا ہے۔

خداوند عالم نے دولتمندوں کے مال میں فقیروں کا رزق مقرر کیا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (329) :  سچاعذر پیش کرنے سے یہ زیادہ وقیع ہے کہ عذر کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ (329- عذر خواہی) حکمت حکمت 329

حکمت (329) : سچاعذر پیش کرنے سے یہ زیادہ وقیع ہے کہ عذر کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ (329- عذر خواہی)

سچاعذر پیش کرنے سے یہ زیادہ وقیع ہے کہ عذر کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

مزید پڑھیے
حکمت (330) :  اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں میں مدد نہ لو۔ (330- نعمت کا صرف بے جا) حکمت حکمت 330

حکمت (330) : اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں میں مدد نہ لو۔ (330- نعمت کا صرف بے جا)

اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں…

مزید پڑھیے
حکمت (331) :  جب کاہل اور ناکارہ افراد عمل میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے یہ عقلمندوں کے لیے ادائے فرض کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔ (331- ادائے فرض کا موقعہ) حکمت حکمت 331

حکمت (331) : جب کاہل اور ناکارہ افراد عمل میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے یہ عقلمندوں کے لیے ادائے فرض کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔ (331- ادائے فرض کا موقعہ)

کاہل اور ناکارہ افراد کی کوتاہی سے عقلمندوں کے لیے ادائے فرض کا موقع ملتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (332) :  حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔ (332- بادشاہ کی حیثیت) حکمت حکمت 332

حکمت (332) : حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔ (332- بادشاہ کی حیثیت)

حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (287) :  آپ سے قضا و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا ! یہ ایک تاریک راستہ ہے اس میں قدم نہ اٹھاؤ۔ایک گہرا سمندر ہے۔ اس میں نہ اترو اللہ کا ایک راز ہے اسے جاننے کی زحمت نہ اٹھاؤ۔ (287- قضا ا ور قدر) حکمت حکمت 287

حکمت (287) : آپ سے قضا و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا ! یہ ایک تاریک راستہ ہے اس میں قدم نہ اٹھاؤ۔ایک گہرا سمندر ہے۔ اس میں نہ اترو اللہ کا ایک راز ہے اسے جاننے کی زحمت نہ اٹھاؤ۔ (287- قضا ا ور قدر)

آپ سے قضا و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا ! یہ ایک تاریک راستہ…

مزید پڑھیے
حکمت (302) :  ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو۔ جتنا محتاج دعا ہے، اس سے کم وہ خیر و عافیت سے ہے۔ مگر اندیشہ ہے کہ نہ جانے کب مصیبت آ جائے۔ (302- محتاجِ دعا) حکمت حکمت 302

حکمت (302) : ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو۔ جتنا محتاج دعا ہے، اس سے کم وہ خیر و عافیت سے ہے۔ مگر اندیشہ ہے کہ نہ جانے کب مصیبت آ جائے۔ (302- محتاجِ دعا)

ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو۔ جتنا محتاج دعا ہے، اس سے کم وہ خیر و عافیت…

مزید پڑھیے
حکمت (318) :  حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی مقابلہ کر تا تھا وہ اپنے خلاف میری مدد کرتا تھا۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کی ہیبت دلوں پر چھا جاتی تھی۔ (318- غلبہ کا سبب) حکمت حکمت 318

حکمت (318) : حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی مقابلہ کر تا تھا وہ اپنے خلاف میری مدد کرتا تھا۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ )حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کی ہیبت دلوں پر چھا جاتی تھی۔ (318- غلبہ کا سبب)

حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا…

مزید پڑھیے