Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 342
حکمت (342) : سب سے بڑی دولت مندی یہ ہے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جو ہے اس کی آس نہ رکھی جائے۔ (342- بڑی دولت مندی)
سب سے بڑی دولت مندی یہ ہے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جو ہے اس کی آس نہ رکھی جائے۔
حکمت
حکمت 343
حکمت (343) : گفتگوئیں محفوظ ہیں اور دلوں کے بھید جانچے جانے والے ہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی ہے اور لوگوں کے جسموں میں نقص اور عقلوں میں فتور آنے والا ہے مگر وہ کہ جسے اللہ بچائے رکھے۔ ان میں پوچھنے والا الجھانا چاہتا ہے اور جواب دینے والا (بے جانے بوجھے جواب کی)زحمت اٹھاتا ہے جو ان میں درست رائے رکھتا ہے۔ اکثر خوشنودی و ناراضگی کے تصورات اسے صحیح رائے سے موڑ دیتے ہیں اور جو ان میں عقل کے لحاظ سے پختہ ہوتا ہے بہت ممکن ہے کہ ایک نگا ہ اس کے دل پر اثر کر دے اور ایک کلمہ اس میں انقلاب پیدا کر دے۔ (343- کچھ لوگوں کی حالت)
گفتگوئیں محفوظ ہیں اور دلوں کے بھید جانچے جانے والے ہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی ہے۔
حکمت
حکمت 344
حکمت (344) : اے گروہ مردم! اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ کتنے ہی ایسی باتوں کی امید باندھنے والے ہیں جن تک پہنچتے نہیں اور ایسے گھر تعمیر کرنے والے ہیں جن میں رہنا نصیب نہیں ہوتا اور ایسا مال جمع کرنے والے ہیں جسے چھوڑ جاتے ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اسے غلط طریقہ سے جمع کیا ہو یا کسی کا حق دبا کر حاصل کیا ہو۔ اس طرح اسے بطور حرام پایا ہو اور اس کی وجہ سے گناہ کا بوجھ اٹھایا ہو، تو اس کا وبال لے کر پلٹے اور اپنے پروردگار کے حضور رنج و افسوس کرتے ہوئے جا پہنچے دنیا و آخرت دونوں میں گھاٹا اٹھایا۔ یہی تو کھلم کھلا گھاٹا ہے۔ (344- پندو موعظت)
اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ کتنے ہی ایسی باتوں کی امید باندھنے والے ہیں جن تک پہنچتے نہیں۔
حکمت
حکمت 345
حکمت (345) : گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔ (345- گناہ سے درماندگی)
گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔
حکمت
حکمت 346
حکمت (346) : تمہاری آبرو قائم ہے جسے دست سوال دراز کرنا بہا دیتا ہے۔ لہٰذا یہ خیال رہے کہ کس کے آگے اپنی آبرو ریزی کر رہے ہو۔ (346- سوال)
تمہاری آبرو قائم ہے جسے دست سوال دراز کرنا بہا دیتا ہے۔
حکمت
حکمت 347
حکمت (347) : کسی کو اس کے حق سے زیادہ سراہنا چاپلوسی ہے اور حق میں کمی کرنا کوتاہ بیانی ہے یا حسد۔ (347- مدح میں حد اعتدال)
کسی کو اس کے حق سے زیادہ سراہنا چاپلوسی ہے اور حق میں کمی کرنا کوتاہ بیانی ہے یا حسد۔
حکمت
حکمت 348
حکمت (348) : سب سے بھاری گناہ وہ ہے کہ جس کا ارتکاب کرنے والا اسے سبک سمجھے۔ (348- بڑا گناہ)
سب سے بھاری گناہ وہ ہے کہ جس کا ارتکاب کرنے والا اسے سبک سمجھے۔
حکمت
حکمت 333
حکمت (333) : مومن کے متعلق فرمایا! مومن کے چہرے پر بشاشت اور دل میں غم و اندوہ ہوتا ہے۔ ہمت اس کی بلند ہے اور اپنے دل میں وہ اپنے کو ذلیل سمجھتا ہے سر بلندی کو برا سمجھتا ہے اور شہرت سے نفرت کرتا ہے اس کا غم بے پایاں اور ہمت بلند ہوتی ہے۔ بہت خاموش ہمہ وقت مشغول، شاکر، صابر، فکر میں غرق، دست طلب بڑھانے میں بخیل، خوش خلق اور نرم طبیعت ہوتا ہے اور اس کا نفس پتھر سے زیادہ سخت اور خود غلام سے زیادہ متواضع ہوتا ہے۔ (333- مومن کے اوصاف)
مومن کے چہرے پر بشاشت اور دل میں غم و اندوہ ہوتا ہے۔ ہمت اس کی بلند ہے اور اپنے…
حکمت
حکمت 319
حکمت (319) : اپنے فرزند محمد ابن حنفیہ سے فرمایا ! اے فرزند ! میں تمہارے لیے فقر و تنگدستی سے ڈرتا ہوں لہٰذا فقر و ناداری سے اللہ کی پناہ مانگو۔ کیونکہ یہ دین کے نقص، عقل کی پریشانی اور لوگوں کی نفرت کا باعث ہے۔ (319- فقر و فاقہ)
اپنے فرزند محمد ابن حنفیہ سے فرمایا ! اے فرزند ! میں تمہارے لیے فقر و تنگدستی سے ڈرتا ہوں۔
حکمت
حکمت 334
حکمت (334) : اگر کوئی بندہ مدت حیات اور اس کے انجام کو دیکھے تو امیدوں اور ان کے فریب سے نفرت کرنے لگے۔ (334- فریب آرزو)
اگر کوئی بندہ مدت حیات اور اس کے انجام کو دیکھے تو امیدوں اور ان کے فریب سے نفرت کرنے…
