Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

497 اندراجات
حکمت (352) :  اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو، اس لیے کہ اگر وہ دوستان خدا ہیں تو خدا اپنے دوستوں کو برباد نہ ہونے دے گا اور اگر دشمنان خدا ہیں تو تمہیں دشمنان خدا کی فکروں اور دھندوں میں پڑنے سے مطلب ہی کیا۔ (352- زن و فرزند سے لگاؤ) حکمت حکمت 352

حکمت (352) : اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو، اس لیے کہ اگر وہ دوستان خدا ہیں تو خدا اپنے دوستوں کو برباد نہ ہونے دے گا اور اگر دشمنان خدا ہیں تو تمہیں دشمنان خدا کی فکروں اور دھندوں میں پڑنے سے مطلب ہی کیا۔ (352- زن و فرزند سے لگاؤ)

اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو، اس لیے کہ اگر…

مزید پڑھیے
حکمت (353) :  سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس عیب کو برا کہو، جس کے مانند خود تمہارے اندر موجود ہے۔ (353- عیب جوئی) حکمت حکمت 353

حکمت (353) : سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس عیب کو برا کہو، جس کے مانند خود تمہارے اندر موجود ہے۔ (353- عیب جوئی)

سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس عیب کو برا کہو، جس کے مانند خود تمہارے اندر موجود ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (338) :  علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جو نفس میں بس جائے اور ایک وہ جو صرف سن لیا گیاہو اور سناسنایا فائدہ نہیں دیتا جب تک وہ دل میں راسخ نہ ہو۔ (338- علم کی دو قسمیں) حکمت حکمت 338

حکمت (338) : علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جو نفس میں بس جائے اور ایک وہ جو صرف سن لیا گیاہو اور سناسنایا فائدہ نہیں دیتا جب تک وہ دل میں راسخ نہ ہو۔ (338- علم کی دو قسمیں)

علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جو نفس میں بس جائے اور ایک وہ جو صرف سن لیا…

مزید پڑھیے
حکمت (354) :  حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پیدا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ »شہسوار مبارک ہو«۔جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ تم بخشنے والے (خدا) کے شکر گزار ہوئے یہ بخشی ہوئی نعمت تمہیں مبارک ہو، یہ اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت تمہیں نصیب ہو۔ (354- تہنیت فرزند) حکمت حکمت 354

حکمت (354) : حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پیدا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ »شہسوار مبارک ہو«۔جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ تم بخشنے والے (خدا) کے شکر گزار ہوئے یہ بخشی ہوئی نعمت تمہیں مبارک ہو، یہ اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت تمہیں نصیب ہو۔ (354- تہنیت فرزند)

حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پیدا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ »شہسوار مبارک…

مزید پڑھیے
حکمت (339) :  اصابتِ رائے اقبال و دولت سے وابستہ ہے اگر یہ ہے تو وہ بھی ہوتی ہے اور اگر یہ نہیں تو وہ بھی نہیں ہوتی۔ (339- اِقبال و اِدبار) حکمت حکمت 339

حکمت (339) : اصابتِ رائے اقبال و دولت سے وابستہ ہے اگر یہ ہے تو وہ بھی ہوتی ہے اور اگر یہ نہیں تو وہ بھی نہیں ہوتی۔ (339- اِقبال و اِدبار)

اصابتِ رائے اقبال و دولت سے وابستہ ہے اگر یہ ہے تو وہ بھی ہوتی ہے اور اگر یہ نہیں…

مزید پڑھیے
حکمت (355) :  حضرت کے عمال میں سے ایک شخص نے ایک بلند عمارت تعمیر کی جس پر آپ نے فرمایا۔ چاندی کے سکوں نے سر نکالا ہے۔ بلاشبہ یہ عمارت تمہاری ثروت کی غمازی کرتی ہے۔ (355- دولت کے آثار) حکمت حکمت 355

حکمت (355) : حضرت کے عمال میں سے ایک شخص نے ایک بلند عمارت تعمیر کی جس پر آپ نے فرمایا۔ چاندی کے سکوں نے سر نکالا ہے۔ بلاشبہ یہ عمارت تمہاری ثروت کی غمازی کرتی ہے۔ (355- دولت کے آثار)

حضرت کے عمال میں سے ایک شخص نے ایک بلند عمارت تعمیر کی جس پر آپ نے فرمایا۔

مزید پڑھیے
حکمت (340) :  فقر کی زینت پاکدامنی اور تونگری کی زینت شکر ہے۔ (340- عفت و شکر) حکمت حکمت 340

حکمت (340) : فقر کی زینت پاکدامنی اور تونگری کی زینت شکر ہے۔ (340- عفت و شکر)

فقر کی زینت پاکدامنی اور تونگری کی زینت شکر ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (356) :  حضرت سے کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو گھر میں چھوڑ کر اس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو اس کی روزی کدھر سے آئے گی؟ فرمایا
جدھر سے اس کی موت آئے گی۔ (356- رزق رسانی) حکمت حکمت 356

حکمت (356) : حضرت سے کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو گھر میں چھوڑ کر اس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو اس کی روزی کدھر سے آئے گی؟ فرمایا جدھر سے اس کی موت آئے گی۔ (356- رزق رسانی)

حضرت سے کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو گھر میں چھوڑ کر اس کا دروازہ بند کر دیا جائے…

مزید پڑھیے
حکمت (341) :  ظالم کے لیے انصاف کا دن اس سے زیادہ سخت ہو گا، جتنا مظلوم پر ظلم کا دن۔ (341- ظالم و مظلوم) حکمت حکمت 341

حکمت (341) : ظالم کے لیے انصاف کا دن اس سے زیادہ سخت ہو گا، جتنا مظلوم پر ظلم کا دن۔ (341- ظالم و مظلوم)

ظالم کے لیے انصاف کا دن اس سے زیادہ سخت ہو گا، جتنا مظلوم پر ظلم کا دن۔

مزید پڑھیے
حکمت (357) :  حضرت نے ایک جماعت کو ان کے مرنے والے کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ »موت کی ابتداء تم سے نہیں ہوئی ہے اور نہ اس کی انتہا تم پر ہے یہ تمہارا ساتھی مصروف سفر رہتا تھا۔ اب بھی یہی سمجھو کہ وہ اپنے کسی سفرمیں ہے اگر وہ آگیا تو بہتر، ورنہ تم خود اس کے پاس پہنچ جاؤ گے«۔ (357- تعزیت) حکمت حکمت 357

حکمت (357) : حضرت نے ایک جماعت کو ان کے مرنے والے کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ »موت کی ابتداء تم سے نہیں ہوئی ہے اور نہ اس کی انتہا تم پر ہے یہ تمہارا ساتھی مصروف سفر رہتا تھا۔ اب بھی یہی سمجھو کہ وہ اپنے کسی سفرمیں ہے اگر وہ آگیا تو بہتر، ورنہ تم خود اس کے پاس پہنچ جاؤ گے«۔ (357- تعزیت)

موت کی ابتداء تم سے نہیں ہوئی ہے اور نہ اس کی انتہا تم پر ہے۔

مزید پڑھیے