Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

497 اندراجات
حکمت (360) :  کسی کے منہ سے نکلنے والی بات میں اگر اچھائی کا پہلو نکل سکتا ہو، تو اس کے بارے میں بدگمانی نہ کرو۔ (360- بدگمانی) حکمت حکمت 360

حکمت (360) : کسی کے منہ سے نکلنے والی بات میں اگر اچھائی کا پہلو نکل سکتا ہو، تو اس کے بارے میں بدگمانی نہ کرو۔ (360- بدگمانی)

کسی کے منہ سے نکلنے والی بات میں اگر اچھائی کا پہلو نکل سکتا ہو، تو اس کے بارے میں…

مزید پڑھیے
حکمت (376) :  حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا،مگر وبا پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ (376- حق و باطل کا نتیجہ) حکمت حکمت 376

حکمت (376) : حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا،مگر وبا پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ (376- حق و باطل کا نتیجہ)

حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا، مگر وبا پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (361) :  جب اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرو، تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجو، پھر اپنی حاجت مانگو، کیونکہ خداوند عالم اس سے بلند تر ہے کہ اس سے دو حاجتیں طلب کی جائیں اور وہ ایک پوری کر دے اور ایک روک لے۔ (361- دُعا کا طریقہ) حکمت حکمت 361

حکمت (361) : جب اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرو، تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجو، پھر اپنی حاجت مانگو، کیونکہ خداوند عالم اس سے بلند تر ہے کہ اس سے دو حاجتیں طلب کی جائیں اور وہ ایک پوری کر دے اور ایک روک لے۔ (361- دُعا کا طریقہ)

جب اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرو، تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود…

مزید پڑھیے
حکمت (377) :  اس امت کے بہترین شخص کے بارے میں بھی اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن نہ ہو جاؤ۔کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہی اللہ کے عذاب سے مطمئن ہو بیٹھے ہیں «۔اور اس امت کے بدترین آدمی کے بارے میں بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کیونکہ ارشاد الہی ہے کہ »خدا کی رحمت سے کافروں کے علاوہ کوئی اور ناامید نہیں ہوتا «۔ (377- امید و یاس) حکمت حکمت 377

حکمت (377) : اس امت کے بہترین شخص کے بارے میں بھی اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن نہ ہو جاؤ۔کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہی اللہ کے عذاب سے مطمئن ہو بیٹھے ہیں «۔اور اس امت کے بدترین آدمی کے بارے میں بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کیونکہ ارشاد الہی ہے کہ »خدا کی رحمت سے کافروں کے علاوہ کوئی اور ناامید نہیں ہوتا «۔ (377- امید و یاس)

اس امت کے بہترین شخص کے بارے میں بھی اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن نہ ہو جاؤ۔

مزید پڑھیے
حکمت (362) :  جسے اپنی آبرو عزیز ہو، وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔ (362- عزت کی نگہداشت) حکمت حکمت 362

حکمت (362) : جسے اپنی آبرو عزیز ہو، وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔ (362- عزت کی نگہداشت)

جسے اپنی آبرو عزیز ہو، وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (363) :  امکان پیدا ہونے سے پہلے کسی کام میں جلد بازی کرنا اور موقع آنے پر دیر کرنا دونوں حماقت میں داخل ہیں۔ (363- موقع و محل) حکمت حکمت 363

حکمت (363) : امکان پیدا ہونے سے پہلے کسی کام میں جلد بازی کرنا اور موقع آنے پر دیر کرنا دونوں حماقت میں داخل ہیں۔ (363- موقع و محل)

امکان پیدا ہونے سے پہلے کسی کام میں جلد بازی کرنا اور موقع آنے پر دیر کرنا دونوں حماقت میں…

مزید پڑھیے
حکمت (364) :  جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرو۔ اس لیے کہ جو ہے، وہی تمہارے لیے کافی ہے۔ (364- بے فائدہ سوال) حکمت حکمت 364

حکمت (364) : جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرو۔ اس لیے کہ جو ہے، وہی تمہارے لیے کافی ہے۔ (364- بے فائدہ سوال)

جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (349) :  جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔ اور جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر خوش رہے گا، وہ نہ ملنے والی چیز پر رنجیدہ نہیں ہو گا۔ جو ظلم کی تلوار کھینچتا ہے وہ اسی سے قتل ہوتا ہے جو اہم امور کو زبردستی انجام دینا چاہتا ہے۔ وہ تباہ و بر باد ہوتا ہے، جو اٹھتی ہوئی موجوں میں پھاندتا ہے، وہ ڈوبتا ہے، جو بدنامی کی جگہوں پر جائے گا، وہ بدنام ہو گا، جو زیادہ بولے گا، وہ زیادہ لغزشیں کرے گا اور جس میں حیا کم ہو اس میں تقویٰ کم ہو گا اور جس میں تقویٰ کم ہو گا اس کا دل مردہ ہو جائے گا۔ اور جس کا دل مردہ ہو گیا وہ دوزخ میں جا پڑا۔ جو شخص لوگوں کے عیوب کو دیکھ کر نا ک بھول چڑھائے اور پھر انہیں اپنے لیے چاہے اور سرا سرا حمق ہے قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ جو موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے وہ تھوڑی سی دنیا پر بھی خوش ہو رہتا ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا قول بھی عمل کا ایک جز ہے، وہ مطلب کی بات کے علاوہ کلام نہیں کرتا۔ (349- اچھے اور بُرے اوصاف) حکمت حکمت 349

حکمت (349) : جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔ اور جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر خوش رہے گا، وہ نہ ملنے والی چیز پر رنجیدہ نہیں ہو گا۔ جو ظلم کی تلوار کھینچتا ہے وہ اسی سے قتل ہوتا ہے جو اہم امور کو زبردستی انجام دینا چاہتا ہے۔ وہ تباہ و بر باد ہوتا ہے، جو اٹھتی ہوئی موجوں میں پھاندتا ہے، وہ ڈوبتا ہے، جو بدنامی کی جگہوں پر جائے گا، وہ بدنام ہو گا، جو زیادہ بولے گا، وہ زیادہ لغزشیں کرے گا اور جس میں حیا کم ہو اس میں تقویٰ کم ہو گا اور جس میں تقویٰ کم ہو گا اس کا دل مردہ ہو جائے گا۔ اور جس کا دل مردہ ہو گیا وہ دوزخ میں جا پڑا۔ جو شخص لوگوں کے عیوب کو دیکھ کر نا ک بھول چڑھائے اور پھر انہیں اپنے لیے چاہے اور سرا سرا حمق ہے قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ جو موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے وہ تھوڑی سی دنیا پر بھی خوش ہو رہتا ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا قول بھی عمل کا ایک جز ہے، وہ مطلب کی بات کے علاوہ کلام نہیں کرتا۔ (349- اچھے اور بُرے اوصاف)

جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (350) :  لوگوں میں جو ظالم ہو اس کی تین علامتیں ہیں :وہ ظلم کرتا ہے اپنے سے بالا ہستی کی خلاف ورزی سے، اور اپنے سے پست لوگوں پر قہر و تسلط سے اور ظالموں کی کمک و امداد کرتا ہے۔ (350- ظالم کے علامات) حکمت حکمت 350

حکمت (350) : لوگوں میں جو ظالم ہو اس کی تین علامتیں ہیں :وہ ظلم کرتا ہے اپنے سے بالا ہستی کی خلاف ورزی سے، اور اپنے سے پست لوگوں پر قہر و تسلط سے اور ظالموں کی کمک و امداد کرتا ہے۔ (350- ظالم کے علامات)

لوگوں میں جو ظالم ہو اس کی تین علامتیں ہیں: وہ ظلم کرتا ہے اپنے سے بالا ہستی کی خلاف…

مزید پڑھیے
حکمت (351) :  جب سختی انتہا کو پہنچ جائے تو کشائش و فراخی ہو گی اور جب ابتلاء و مصیبت کی کڑیاں تنگ ہو جائیں تو راحت و آسائش حاصل ہوتی ہے۔ (351- سختی کے بعد آسانی) حکمت حکمت 351

حکمت (351) : جب سختی انتہا کو پہنچ جائے تو کشائش و فراخی ہو گی اور جب ابتلاء و مصیبت کی کڑیاں تنگ ہو جائیں تو راحت و آسائش حاصل ہوتی ہے۔ (351- سختی کے بعد آسانی)

جب سختی انتہا کو پہنچ جائے تو کشائش و فراخی ہو گی۔

مزید پڑھیے