Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

497 اندراجات
حکمت (410) :  تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔ (410- تقویٰ) حکمت حکمت 410

حکمت (410) : تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔ (410- تقویٰ)

تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (379) :  رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو، اور ایک وہ جو تمہاری جستجو میں ہے۔ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو گے، تو وہ تم تک پہنچ کر رہے گا۔ لہٰذا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔ جو ہر دن کا رزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے، تو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگار تمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہو چکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہو گی۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ) یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہو چکا ہے۔ مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھا،اس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گزر چکا ہے۔ (379- رزق وروزی) حکمت حکمت 379

حکمت (379) : رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو، اور ایک وہ جو تمہاری جستجو میں ہے۔ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو گے، تو وہ تم تک پہنچ کر رہے گا۔ لہٰذا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔ جو ہر دن کا رزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے، تو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگار تمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہو چکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہو گی۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ) یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہو چکا ہے۔ مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھا،اس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گزر چکا ہے۔ (379- رزق وروزی)

رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلاش میں تم ہو، اور ایک وہ جو تمہاری جستجو…

مزید پڑھیے
حکمت (395) :  جس چیز پر قناعت کر لی جائے و ہ کافی ہے۔ (395- قناعت) حکمت حکمت 395

حکمت (395) : جس چیز پر قناعت کر لی جائے و ہ کافی ہے۔ (395- قناعت)

جس چیز پر قناعت کر لی جائے وہ کافی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (411) :  جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت گُفتار کا مظاہرہ نہ کرو۔ (411- استاد کا احترام) حکمت حکمت 411

حکمت (411) : جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت گُفتار کا مظاہرہ نہ کرو۔ (411- استاد کا احترام)

جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (380) :  بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔ اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ رات کے پہلے حصہ میں ان پر رشک کیا جاتا ہے اور آخر ی حصہ میں ان پر رونے والیوں کا کہرام بپا ہوتا ہے۔ (380- زندگی و موت) حکمت حکمت 380

حکمت (380) : بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔ اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ رات کے پہلے حصہ میں ان پر رشک کیا جاتا ہے اور آخر ی حصہ میں ان پر رونے والیوں کا کہرام بپا ہوتا ہے۔ (380- زندگی و موت)

بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیے
حکمت (396) :  موت ہو اور ذلت نہ ہو۔کم ملے اور دوسروں کو وسیلہ بنانا نہ ہو ،جسے بیٹھے بٹھائے نہیں ملتا اسے اٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا زمانہ دو دنوں پر منقسم ہے ایک دن تمہارے موافق اور ایک تمہارے مخالف۔جب موافق ہو تو اتراؤ نہیں۔ اور جب مخالف ہو تو صبر کرو۔ (396- دو دن) حکمت حکمت 396

حکمت (396) : موت ہو اور ذلت نہ ہو۔کم ملے اور دوسروں کو وسیلہ بنانا نہ ہو ،جسے بیٹھے بٹھائے نہیں ملتا اسے اٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا زمانہ دو دنوں پر منقسم ہے ایک دن تمہارے موافق اور ایک تمہارے مخالف۔جب موافق ہو تو اتراؤ نہیں۔ اور جب مخالف ہو تو صبر کرو۔ (396- دو دن)

موت ہو اور ذلت نہ ہو۔ کم ملے اور دوسروں کو وسیلہ بنانا نہ ہو۔

مزید پڑھیے
حکمت (412) :  تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس سے خود بھی پرہیز کرو۔ (412- آراستگیٔ نفس) حکمت حکمت 412

حکمت (412) : تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس سے خود بھی پرہیز کرو۔ (412- آراستگیٔ نفس)

تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس…

مزید پڑھیے
حکمت (365) :  فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبرت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے، نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔ (365- پسندیدہ صفتیں) حکمت حکمت 365

حکمت (365) : فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبرت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے، نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔ (365- پسندیدہ صفتیں)

فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبرت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (366) :  علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے اور علم عمل کو پکارتا ہے۔ اگر وہ لبیک کہتا ہے تو بہتر، ورنہ وہ بھی اس سے رخصت ہو جاتا ہے۔ (366- علم و عمل) حکمت حکمت 366

حکمت (366) : علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے اور علم عمل کو پکارتا ہے۔ اگر وہ لبیک کہتا ہے تو بہتر، ورنہ وہ بھی اس سے رخصت ہو جاتا ہے۔ (366- علم و عمل)

علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (367) :  اے لوگو! دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اور صرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہو چکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہارا دیا گیا ہے۔ جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے، وہ انجام کار اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے، اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلا گھوٹا جانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کا فنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بندوں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہو جاتا ہے۔مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔ جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہو گیا ہے تو پھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہو گیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پر غم بھی ہوتا ہے۔ یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔ (367- تغیر و انقلاب) حکمت حکمت 367

حکمت (367) : اے لوگو! دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اور صرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہو چکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہارا دیا گیا ہے۔ جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے، وہ انجام کار اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے، اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلا گھوٹا جانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کا فنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بندوں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہو جاتا ہے۔مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔ جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہو گیا ہے تو پھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہو گیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پر غم بھی ہوتا ہے۔ یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔ (367- تغیر و انقلاب)

دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پیدا کرنے والا ہے۔

مزید پڑھیے