Khutba
نہج البلاغہ کے ۲۴۱ خطبات — اردو ترجمہ کے ساتھ
خطبہ
خطبہ 161
خطبہ (161) : اللہ کی توصیف اور انسان کی خلقت (161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی)
تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو بندوں کا پیدا کرنے والا ہے۔
خطبہ
خطبہ 177
خطبہ (177) : جب ذعلب یمانی نے یہ سوال کیا کہ آپ نے خدا کو دیکھا ہے تو اس کے جواب میں فرمایا (177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا)
ذعلب یمنی نے آپ سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟
خطبہ
خطبہ 193
خطبہ (193) : قیامت کے برپا ہونے کی کیفیت (193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت)
تمام تعریف اس اللہ کے ليےہے جس نے اپنی فرما نروائی و جلال کبریائی کے آثار کو نمایا ں کرکے...
خطبہ
خطبہ 162
خطبہ (162) : امیر المومنین ؑ کا حضرت عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر (162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر)
جب امیرالمومنین ﷷ کے پاس لوگ جمع ہو کر آئے اور عثمان کے متعلق جو باتیں انہیں بری معلوم ہوئی…
خطبہ
خطبہ 178
خطبہ (178) : اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا (178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا)
اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا: میں اللہ کی حمد و ثناء کرتا ہوں ہر اس امر پر جس کا…
خطبہ
خطبہ 194
خطبہ (194) : بعثتِ پیغمبر ﷺ کے وقت دنیا کی حالت (194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی)
اللہ نے اپنے رسول کو اس وقت مبعوث کیا جبکہ ہدایت کا کوئی نشان باقی نہ رہا تھا۔
خطبہ
خطبہ 163
خطبہ (163) : مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنت کے دلفریب مناظر (163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر)
جس میں مور کی عجیب و غریب آفرینش کا تذکرہ فرمایا ہے۔
خطبہ
خطبہ 179
خطبہ (179) : اس جماعت کے متعلق فرمایا کہ جو خوارج سے مل جانے کا تہیا کئے بیٹھی تھیں (179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا)
حضرت نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو سپاہ کوفہ کی خبر لانے کے لئے بھیجا جو خارجیوں سے…
خطبہ
خطبہ 195
خطبہ (195) : آپ ؑ نے ہی پیغمبر کی تجہیز و تکفین کے فرائض انجام دئے (195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین)
پیغمبر کی تجہیز و تکفین کے فرائض امام علی نے انجام دیئے۔
خطبہ
خطبہ 164
خطبہ (164) : شفقت و مہربانی کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال (164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال)
تمہارے چھوٹوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے بڑوں کی پیروی کریں۔
