Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 279

تفصیلی وضاحت — حکمت (279) : جب مستحبات فرائض میں سدِ راہ ہوں تو انہیں چھوڑ دو۔ (279- فرائض کی اہمیت)

حکمت (۲۷۹): جب مستحبات فرائض میں سد راہ ہوں تو انہیں چھوڑ دو۔

یہ حکمت اس وقت کی ہے جب خلیفہ عمر بن خطاب کے سامنے کعبہ کی زینت اور اس کی فراوانی کا ذکر ہوا۔ کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اگر ان زینتوں کو لے کر مسلمانوں کی فوج پر خرچ کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کعبہ کو ان زینتوں کی کیا ضرورت ہے؟ اس پر عمر نے اس معاملے میں غور کیا اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے سوال کیا۔

امیر المؤمنین نے فرمایا کہ جب قرآن کریم نازل ہوا تو اس وقت چار قسم کی دولت موجود تھی: پہلی مسلمانوں کی ذاتی دولت، دوسری غنیمت جو مستحقین میں تقسیم کی جاتی تھی، تیسری خمس جو خاص خرچوں کے لیے تھی، اور چوتھی زکات اور صدقات۔ اللہ تعالیٰ نے ان زینتوں کو اسی حالت میں برقرار رکھنے کی اجازت دی، اور یہ اس کی بھول بھلیوں میں نہیں تھا۔ اس پر عمر نے کہا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ہم شرمندہ ہوتے اور ان جواہرات کو چھوڑ دیتے۔

یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب مستحبات فرائض کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں تو ہمیں انہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں بنیادی واجبات اور فرائض کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ جب بھی ہم کسی چیز کی طرف راغب ہوں، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ ہمارے واجبات کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں بن رہی۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض چیزیں اللہ کی رضا کے لیے مخصوص ہوتی ہیں، جیسے کہ کعبہ کی زینت۔ ہمیں ان چیزوں کی قدر کرنی چاہیے اور ان کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی، ہمیں اپنے اعمال میں توازن رکھنا چاہئے تاکہ ہم دین کی روح کو سمجھ سکیں۔