حکمت (323) میں امام علی علیہ السلام نے نہروان کے دن خوارج کے کشتوں کی طرف گزرنے کے دوران ان کی ہلاکت و تباہی کی خبر دی۔ یہ واقعہ ایک اہم تاریخی پس منظر میں واقع ہوا، جب خوارج نے اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کی اور امام علی علیہ السلام کے ساتھ جنگ کی۔ امام نے ان کی حالت پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کے گمراہ ہونے کی وجوہات بیان کیں۔
یہ حکمت بنیادی طور پر انسانی نفسیات اور شیطانی وسوسوں کی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ ان خوارج کو گمراہ کرنے والا شیطان اور ان کا نفس ہے، جو انہیں امیدوں کے فریب میں مبتلا کر کے گناہوں کی طرف لے گیا۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور شیطانی وسوسوں سے بچنے کی کوشش کرے۔
امام کی یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کو اپنے نفس کی کمزوریوں کا سامنا کرنا چاہیے اور شیطانی وسوسوں سے بچنے کے لیے اللہ کی مدد طلب کرنی چاہیے۔ یہ حکمت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ گمراہی کی راہ پر چلنے والے لوگ کس طرح اپنی تباہی کا سامان خود ہی تیار کرتے ہیں۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اخلاقی اور روحانی اصولوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ جب ہم اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے لگتے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ راستہ ہمیں ہلاکت کی طرف لے جا سکتا ہے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ نصیحت ہمیں خود احتسابی کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے، تاکہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہیں۔
