Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 322

تفصیلی وضاحت — حکمت (322) : وارد ہوا ہے کہ جب حضرت صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ پہنچے تو قبیلہ شبام کی آبادی سے ہو کر گزرے۔ جہاں صفین کے کشتوں پر رونے کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی اتنے میں حرب ابن شرجیل شبامی جو اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں میں سے تھے، حضرت کے پاس آئے تو آپ نے اس سے فرمایا ! کیا تمہارا ان عورتوں پر بس نہیں چلتا جو میں رونے کی آوازیں سن رہا ہوں اس رونے چلانے سے تم انہیں منع نہیں کرتے؟ حرب آگے بڑھ کر حضرت کے ہمرکاب ہو لیے در آں حالیکہ حضرت سوار تھے تو آپ نے فرمایا ! پلٹ جاؤ تم۔ ایسے آدمی کا مجھ ایسے کے ساتھ پیادہ چلنا والی کے لیے فتنہ اور مومن کے لیے ذلت ہے۔ (322- زنانِ کوفہ)

حکمت (322) میں حضرت علی علیہ السلام کی ایک اہم گفتگو کا ذکر ہے جو انہوں نے صفین کی جنگ کے بعد کوفہ کے راستے میں قبیلہ شبام سے گزرتے ہوئے کی۔ اس موقع پر انہوں نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی جو صفین میں ہلاک ہونے والوں کے لیے تھی۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ کی تباہ کاریوں کا اثر کس طرح عام لوگوں پر پڑتا ہے، خاص طور پر عورتوں اور بچوں پر۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس موقع پر حرب ابن شرجیل شبامی سے پوچھا کہ کیا وہ ان عورتوں کو اس رونے سے منع نہیں کرتے؟ یہ سوال دراصل ایک اخلاقی اور سماجی ذمہ داری کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

اس حکمت میں حضرت علی علیہ السلام نے حرب کو یہ بھی کہا کہ وہ ان کے ساتھ پیادہ چلنے کی بجائے واپس چلے جائیں۔ یہ بات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ایک مومن کا مقام ہمیشہ بلند ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ چلنے والے کو بھی اپنی حیثیت کا خیال رکھنا چاہیے۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ چلنا جو ان کے مرتبے سے کم ہوں، مومن کے لیے ذلت کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ حکمت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنی عزت اور حیثیت کا خیال رکھنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے۔ اگر ہم دیکھیں کہ ہماری قوم یا معاشرت میں کچھ غلط ہو رہا ہے، تو ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔ یہ نہ صرف ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ یہ ہماری روحانی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔