Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 235

تفصیلی وضاحت — خطبہ (235) : حکمین کے بارے میں فرمایا (235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا)

خطبہ ۲۳۵ میں امام علی (علیہ السلام) نے دو ثالثوں، ابو موسیٰ اور عمرو ابن عاص کے بارے میں گفتگو کی ہے اور اہل شام کی مذمت کی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت کا ہے جب مسلمانوں میں اختلافات اور فتنہ و فساد کی کیفیت تھی، خاص طور پر جنگ صفین کے بعد۔ اس خطبہ میں امام نے ان لوگوں کی جہالت اور بدکرداری کی نشاندہی کی ہے جو اسلامی قیادت کے لئے منتخب کئے گئے تھے۔ امام نے ان کی ناپسندیدہ حیثیت کو واضح کیا اور یہ بتایا کہ وہ نہ تو مہاجر ہیں، نہ انصار، اور نہ ہی مدینہ کے رہائشی۔

امام علی (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو تندخو، اوباش اور بدقماش قرار دیا ہے، جو کہ اسلامی اصولوں سے نابلد ہیں۔ یہ الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امام نے ان کی کمزوریوں اور جہالت کو اجاگر کیا۔ اس کے ساتھ ہی، امام نے یہ بھی کہا کہ اہل شام نے اپنے لئے ایک ایسا شخص منتخب کیا ہے جو ان کے مقاصد کے قریب ہے، جبکہ آپ لوگوں نے ایک شخص کو چنا ہے جو آپ کے مقاصد کے خلاف ہے۔ یہ بات اس وقت کی سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ہر فریق اپنے مفادات کی خاطر کام کر رہا تھا۔

امام نے ابو موسیٰ کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ وہ جنگ کو فتنہ قرار دیتے تھے، اور اگر وہ سچے تھے تو انہیں اس جنگ میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قیادت کے انتخاب میں لوگوں کو اپنے فیصلوں پر غور کرنا چاہیے۔ امام نے لوگوں کو یہ نصیحت کی کہ وہ عبد اللہ ابن عباس کو چنیں تاکہ عمرو ابن عاص کے مقابلے میں ان کی قیادت کی جا سکے۔ یہ ایک حکمت عملی تھی کہ اسلامی سرحدوں کی حفاظت کی جائے اور دشمن کی طاقت کو کمزور کیا جائے۔

اس خطبہ میں امام علی (علیہ السلام) نے مسلمانوں کو یہ یاد دلایا کہ ان کی سرزمین پر حملے ہو رہے ہیں اور انہیں اپنی قوت کو مجتمع کرنا چاہیے۔ یہ نصیحت آج کے دور میں بھی اہمیت رکھتی ہے، جہاں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ امام کی یہ باتیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ قیادت کا انتخاب کرتے وقت ہمیں اپنے اصولوں اور مقاصد کو مدنظر رکھنا چاہیے۔