خطبہ خطبہ : 117

خطبہ (117) : جب اپنے ساتھیوں کو دعوتِ جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا (117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا)

خطبہ (۱۱۷)
امیر المومنین علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کیا اور انہیں جہاد پر آمادہ کرنا چاہا تو وہ لوگ دیر تک چپ رہے، تو آپؑ نے فرمایا: [۱]
تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کیا تم گونگے ہو گئے ہو؟
تو ایک گروہ نے کہا کہ اے امیر المومنین علیہ السلام اگر آپؑ چلیں، تو ہم بھی آپؑ کے ہمراہ چلیں گے۔ جس پر حضرتؑ نے فرمایا:
تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تمہیں ہدایت کی توفیق نہ ہو اور نہ سیدھی راہ دیکھنا نصیب ہو! کیا ایسے حالات میں میں ہی نکلوں۔ اس وقت تو تمہارے جواں مردوں اور طاقتوروں میں سے جس شخص کو میں پسند کروں اسے جانا چاہیے، میرے لئے مناسب نہیں کہ میں لشکر، شہر، بیت المال، زمین کے خراج کی فراہمی، مسلمانوں کے مقدمات کا تصفیہ اور مطالبہ کرنے والوں کے حقوق کی دیکھ بھال چھوڑ دوں اور لشکر لئے ہوئے دوسرے لشکر کے پیچھے نکل کھڑا ہوں اور جس طرح خالی ترکش میں بے پیکاں کا تیر ہلتا جلتا ہے جنبش کھاتا رہوں۔ میں چکی کے اندر کا وہ قطب ہوں کہ جس پر وہ گھومتی ہے جب تک میں اپنی جگہ پر ٹھہرا رہوں اور اگر میں نے اپنا مقام چھوڑ دیا تو اس کے گھومنے کا دائرہ متزلزل ہو جائے گا اور اس کا نیچے والا پتھر بھی بے ٹھکانے ہو جائے گا۔
خدا کی قسم! یہ بہت بُرا مشورہ ہے۔ قسم بخدا! اگر دشمن کا مقابلہ کرنے سے مجھے شہادت کی امید نہ ہو جب کہ وہ مقابلہ میرے لئے مقدر ہو چکا ہو تو میں اپنی سواریوں کو(سوار ہونے کیلئے) قریب کر لیتا اور تمہیں چھوڑ چھاڑ کر نکل جاتا اور جب تک جنوبی و شمالی ہوائیں چلتی رہتیں تمہیں کبھی طلب نہ کرتا۔
تمہارے شمار میں زیادہ ہونے سے کیا فائدہ جبکہ تم یک دل نہیں ہو پاتے۔ میں نے تمہیں صحیح راستے پر لگایا ہے کہ جس میں ایسا ہی شخص تباہ و برباد ہو گا جو خود اپنے لئے ہلاکت کا سامان کئے بیٹھا ہو اور جو اس راہ پر جما رہے گا وہ جنت کی طرف اور جو پھسل جائے گا وہ دوزخ کی جانب بڑھے گا۔