خطبہ (۲۰۸)
ایک شخص [۱] نے آپؑ سے من گھڑت اور متعارض حدیثوں کے متعلق دریافت کیا جو (عام طور سے) لوگوں کے ہاتھوں میں پائی جاتی ہیں تو آپؑ نے فرمایا کہ:
لوگوں کے ہاتھوں میں حق اور باطل، سچ اور جھوٹ، ناسخ اور منسوخ، عام اور خاص، واضح اور مبہم، صحیح او رغلط، سب ہی کچھ ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ کے دور میں آپؐ پر بہتان لگائے گئے، یہاں تک کہ آپؐ کو کھڑے ہو کر خطبہ میں کہنا پڑا کہ: «جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر بہتان باندھے گا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے»۔
تمہارے پاس چار طرح کے لوگ حدیث لانے والے ہیں کہ جن کا پانچواں نہیں [۲] :
ایک تو وہ جس کا ظاہر کچھ ہے اور باطن کچھ، وہ ایمان کی نمائش کرتا ہے اور مسلمانوں کی سی وضع قطع بنا لیتا ہے، نہ گناہ کرنے سے گھبراتا ہے اور نہ کسی افتاد میں پڑنے سے جھجکتا ہے۔وہ جان بوجھ کر رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ اگر لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ یہ منافق اور جھوٹا ہے تو اس سے نہ کوئی حدیث قبول کرتے اور نہ اس کی بات کی تصدیق کرتے، لیکن وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا صحابی ہے، اس نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا بھی ہے اور ان سے حدیثیں بھی سنی ہیں اور آپؐ سے تحصیل علم بھی کی ہے۔ چنانچہ وہ (بے سوچے سمجھے) اس کی بات کو قبول کر لیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے تمہیں منافقوں کے متعلق خبر دے رکھی ہے اور ان کے رنگ ڈھنگ سے بھی تمہیں آگاہ کر دیا ہے۔ پھر وہ رسول ﷺ کے بعد بھی باقی و برقرار رہے اور کذب و بہتان کے ذریعہ گمراہی کے پیشواؤں اور جہنم کا بلاوا دینے والوں کے یہاں اثر و رسوخ پیدا کیا۔ چنانچہ انہوں نے ان کو (اچھے اچھے) عہدوں پر لگایا اور حاکم بنا کر لوگوں کی گردنوں پر مسلط کر دیا اور ان کے ذریعہ سے اچھی طرح دنیا کو حلق میں اتارا اور لوگوں کا تو یہ قاعدہ ہے ہی کہ وہ بادشاہوں اور دنیا (والوں)کا ساتھ دیا کرتے ہیں۔مگر سوا ان (معدودے چند) افراد کے کہ جنہیں اللہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ چار میں سے ایک تو یہ ہوا۔
اور دوسرا شخص وہ ہے جس نے (تھوڑا بہت) رسول اللہ ﷺ سے سنا، لیکن جوں کا توں اسے یاد نہ رکھ سکا او راس میں اسے سہو ہو گیا۔ یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا، یہی کچھ اس کے دسترس میں ہے، اسے ہی دوسروں سے بیان کرتا ہے اور اسی پر خود بھی عمل پیرا ہوتا ہے اور کہتا بھی یہی ہے کہ: میں نے رسول ﷺ سے سنا ہے۔ اگر مسلمانوں کو یہ خبر ہو جاتی کہ اس کی یادداشت میں بھول چوک ہو گئی ہے تو وہ اس کی بات کو نہ مانتے اور اگر خود بھی اسے اس کا علم ہو جاتا تو اسے چھوڑ دیتا۔
تیسرا شخص وہ ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی زبان سے سنا کہ آپؐ نے ایک چیز کے بجا لانے کا حکم دیا ہے، پھر پیغمبر ﷺ نے تو اس سے روک دیا، لیکن یہ اسے معلوم نہ ہو سکا، یا یوں کہ اس نے پیغمبر ﷺ کو ایک چیز سے منع کرتے ہوئے سنا پھر آپؐ نے اس کی اجازت دے دی، لیکن اس کے علم میں یہ چیز نہ آسکی۔ اس نے (قول) منسوخ کو یاد رکھا اور (حدیث) ناسخ کو محفوظ نہ رکھ سکا۔ اگر اسے خود معلوم ہو جاتا کہ یہ منسوخ ہے تو وہ اسے چھوڑ دیتا اور مسلمانوں کو بھی اگر اس کے منسوخ ہو جانے کی خبر ہوتی تو وہ بھی اسے نظر انداز کر دیتے۔
یہ ہیں لوگوں کے احادیث و روایات میں اختلاف کے وجوہ و اسباب۔
