خطبہ (۶)
جب آپؑ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ آپ طلحہ و زبیر کا پیچھا نہ کریں اور ان سے جنگ کرنے کی نہ ٹھان لیں تو آپؑ نے فرمایا: [۱]
خدا کی قسم! میں اس بجو کی طرح نہ ہوں گا جو لگاتار کھٹکھٹائے جانے سے سوتا ہوا بن جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا طلبگار (شکاری) اس تک پہنچ جاتا ہے اور گھات لگا کر بیٹھنے والا اس پر اچانک قابو پا لیتا ہے، بلکہ میں تو حق کی طرف بڑھنے والوں اور گوش بر آواز اطاعت شعاروں کو لے کر ان خطا و شک میں پڑنے والوں پر اپنی تلوار چلاتا رہوں گا، یہاں تک کہ میری موت کا دن آ جائے۔ خدا کی قسم! جب سے اللہ نے اپنے رسولؐ کو دنیا سے اٹھایا، برابر دوسروں کو مجھ پر مقدم کیا گیا اور مجھے میرے حق سے محروم رکھا گیا۔
