خطبہ (۶۹)
اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
اے اہل عراق! [۱] تم اس حاملہ عورت کے مانند ہو جو حاملہ ہونے کے بعد جب حمل کے دن پورے کرے تو مرا ہوا بچہ گرا دے اور اس کا شوہر بھی مر چکا ہو اور رنڈاپے کی مدت بھی دراز ہو چکی ہو اور (قریبی نہ ہونے کی وجہ سے) دور کے عزیز ہی اس کے وارث ہوں۔
بخدا! میں تمہاری طرف بخوشی نہیں آیا، بلکہ حالات سے مجبور ہو کر آ گیا۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم کہتے ہو کہ: علیؑ کذب بیانی کرتے ہیں۔ خدا تمہیں ہلاک کرے! (بتاؤ) میں کس پر جھوٹ باندھ سکتا ہوں؟ کیا اللہ پر؟ تو میں سب سے پہلے اس پر ایمان لانے والا ہوں، یا اس کے نبیؐ پر؟ تو میں سب سے پہلے ان کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ خدا کی قسم! ایسا ہرگز نہیں! بلکہ وہ ایک ایسا اندازِ کلام تھا جو تمہارے سمجھنے کا نہ تھا اور نہ تم میں اس کے سمجھنے کی اہلیت تھی۔ خدا تمہیں سمجھے! میں تو بغیر کسی عوض کے (علمی جواہر ریزے) ناپ ناپ کر دے رہا ہوں۔ کاش کہ ان کیلئے کسی کے ظرف میں سمائی ہوتی۔ ’’(ٹھہرو) کچھ دیر بعد تم بھی اس کی حقیقت کو جان لو گے‘‘۔
