خطبہ خطبہ : 80

خطبہ (80) : اہلِ دنیا کے ساتھ دنیا کی روش (80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش)

خطبہ (۸۰)
(دنیا کی حقیقت)
میں اس دارِ دنیا کی حالت کیا بیان کروں کہ جس کی ابتدا رنج اور انتہا فنا ہو، جس کے حلال میں حساب اور حرام میں سزا و عقاب ہو۔ یہاں کوئی غنی ہو تو فتنوں سے واسطہ اور فقیر ہو تو حزن و ملال سے سابقہ رہے۔ جو دنیا کیلئے سعی و کوشش میں لگا رہتا ہے اس کی دُنیوی آرزوئیں بڑھتی ہی جاتی ہیں اور جو کوششوں سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے دنیا خود ہی اس سے ساز گار ہو جاتی ہے۔ جو شخص دنیا کو عبرتوں کا آئینہ سمجھ کر دیکھتا ہے تو وہ اس کی آنکھوں کو روشن و بینا کر دیتی ہے اور جو صرف دنیا ہی پر نظر رکھتا ہے تو وہ اسے کور و نابینا بنا دیتی ہے۔ [۱]
علامہ رضیؒ کہتے ہیں کہ: اگر کوئی غور و فکر کرنے والا حضرتؑ کے اس ارشاد: «وَمَنْ اَبْصَرَبِهَا بَصَّرَتْهُ» (جو اس دنیا کو عبرت حاصل کرنے کیلئے دیکھے تو وہ اسے بصیر و بینا بنا دیتی ہے) کو دقت و غور کی نگاہوں سے دیکھے تو وہ اس میں عجیب و غریب معنی اور گہرے مطالب پائے گا کہ نہ اس کی انتہا تک پہنچ اور نہ اس کے گہراؤ تک رسائی ہو سکتی ہے، خصوصاً اس کے ساتھ یہ جملہ: «وَ مَنْ اَبْصَرَ اِلَیْهَا اَعْمَتْهُ» (اور جو صرف دنیا کو دیکھتا رہے تو وہ اس سے آنکھوں کی روشنی چھین لیتی ہے) بھی ملا یا جائے تو «اَبْصَرَ بِهَا» اور «اَبْصَرَ اِلَیْهَا» میں واضح فرق محسوس کرے گا اور حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گے۔