Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

483 اندراجات
حکمت (380) :  بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔ اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ رات کے پہلے حصہ میں ان پر رشک کیا جاتا ہے اور آخر ی حصہ میں ان پر رونے والیوں کا کہرام بپا ہوتا ہے۔ (380- زندگی و موت) حکمت حکمت 380

حکمت (380) : بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔ اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ رات کے پہلے حصہ میں ان پر رشک کیا جاتا ہے اور آخر ی حصہ میں ان پر رونے والیوں کا کہرام بپا ہوتا ہے۔ (380- زندگی و موت)

بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیے
حکمت (396) :  موت ہو اور ذلت نہ ہو۔کم ملے اور دوسروں کو وسیلہ بنانا نہ ہو ،جسے بیٹھے بٹھائے نہیں ملتا اسے اٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا زمانہ دو دنوں پر منقسم ہے ایک دن تمہارے موافق اور ایک تمہارے مخالف۔جب موافق ہو تو اتراؤ نہیں۔ اور جب مخالف ہو تو صبر کرو۔ (396- دو دن) حکمت حکمت 396

حکمت (396) : موت ہو اور ذلت نہ ہو۔کم ملے اور دوسروں کو وسیلہ بنانا نہ ہو ،جسے بیٹھے بٹھائے نہیں ملتا اسے اٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا زمانہ دو دنوں پر منقسم ہے ایک دن تمہارے موافق اور ایک تمہارے مخالف۔جب موافق ہو تو اتراؤ نہیں۔ اور جب مخالف ہو تو صبر کرو۔ (396- دو دن)

موت ہو اور ذلت نہ ہو۔ کم ملے اور دوسروں کو وسیلہ بنانا نہ ہو۔

مزید پڑھیے
حکمت (412) :  تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس سے خود بھی پرہیز کرو۔ (412- آراستگیٔ نفس) حکمت حکمت 412

حکمت (412) : تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس سے خود بھی پرہیز کرو۔ (412- آراستگیٔ نفس)

تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس…

مزید پڑھیے
حکمت (365) :  فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبرت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے، نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔ (365- پسندیدہ صفتیں) حکمت حکمت 365

حکمت (365) : فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبرت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے، نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔ (365- پسندیدہ صفتیں)

فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبرت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (366) :  علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے اور علم عمل کو پکارتا ہے۔ اگر وہ لبیک کہتا ہے تو بہتر، ورنہ وہ بھی اس سے رخصت ہو جاتا ہے۔ (366- علم و عمل) حکمت حکمت 366

حکمت (366) : علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے اور علم عمل کو پکارتا ہے۔ اگر وہ لبیک کہتا ہے تو بہتر، ورنہ وہ بھی اس سے رخصت ہو جاتا ہے۔ (366- علم و عمل)

علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (367) :  اے لوگو! دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اور صرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہو چکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہارا دیا گیا ہے۔ جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے، وہ انجام کار اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے، اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلا گھوٹا جانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کا فنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بندوں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہو جاتا ہے۔مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔ جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہو گیا ہے تو پھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہو گیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پر غم بھی ہوتا ہے۔ یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔ (367- تغیر و انقلاب) حکمت حکمت 367

حکمت (367) : اے لوگو! دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اور صرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہو چکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہارا دیا گیا ہے۔ جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے، وہ انجام کار اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے، اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلا گھوٹا جانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کا فنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بندوں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہو جاتا ہے۔مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔ جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہو گیا ہے تو پھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہو گیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پر غم بھی ہوتا ہے۔ یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔ (367- تغیر و انقلاب)

دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پیدا کرنے والا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (368) :  اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پر ثواب اور اپنی معصیت پر سزا اس لیے رکھی ہے کہ اپنے بندوں کو عذاب سے دور کرے اور جنت کی طرف گھیر کر لے جائے۔ (368- ثواب و عقاب) حکمت حکمت 368

حکمت (368) : اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پر ثواب اور اپنی معصیت پر سزا اس لیے رکھی ہے کہ اپنے بندوں کو عذاب سے دور کرے اور جنت کی طرف گھیر کر لے جائے۔ (368- ثواب و عقاب)

اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پر ثواب اور معصیت پر سزا رکھی تاکہ بندے عذاب سے دور رہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (369) :  لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائے گا، اس وقت مسجدیں تعمیر و زینت کے لحاظ سے آباد اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ ان میں ٹھہرنے والے اور انہیں آباد کرنے والے تمام اہل زمین میں سب سے بدتر ہوں گے، وہ فتنوں کا سرچشمہ اور گناہوں کا مرکز ہوں گے جو ان فتنوں سے منہ موڑ ے گا، انہیں انہی فتنوں کی طرف پلٹائیں گے اور جو قدم پیچھے ہٹائے گا، انہیں دھکیل کر ان کی طرف لائیں گے۔ ارشاد الہی ہے کہ »مجھے اپنی ذات کی قسم میں ان لوگوں پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس میں حلیم و بردبار کو حیران و سر گردان چھوڑ دوں گا «۔ چنانچہ وہ ایسا ہی کرے گا، ہم اللہ سے غفلت کی ٹھوکروں سے عفو کے خواستگار ہیں۔ (369- ایک زمانہ) حکمت حکمت 369

حکمت (369) : لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائے گا، اس وقت مسجدیں تعمیر و زینت کے لحاظ سے آباد اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ ان میں ٹھہرنے والے اور انہیں آباد کرنے والے تمام اہل زمین میں سب سے بدتر ہوں گے، وہ فتنوں کا سرچشمہ اور گناہوں کا مرکز ہوں گے جو ان فتنوں سے منہ موڑ ے گا، انہیں انہی فتنوں کی طرف پلٹائیں گے اور جو قدم پیچھے ہٹائے گا، انہیں دھکیل کر ان کی طرف لائیں گے۔ ارشاد الہی ہے کہ »مجھے اپنی ذات کی قسم میں ان لوگوں پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس میں حلیم و بردبار کو حیران و سر گردان چھوڑ دوں گا «۔ چنانچہ وہ ایسا ہی کرے گا، ہم اللہ سے غفلت کی ٹھوکروں سے عفو کے خواستگار ہیں۔ (369- ایک زمانہ)

لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا صرف نام باقی…

مزید پڑھیے
حکمت (370) :  جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلمات نہ فرمائیں۔
اے لوگو! اللہ سے ڈرو،کیونکہ کوئی شخص بے کار پیدا نہیں کیا گیا کہ وہ کھیل کود میں پڑ جائے، اور نہ اسے بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہے کہ بیہودگیاں کرنے لگے اور دنیا جو اس کے لیے آراستہ و پیراستہ ہے اس آخرت کا عوض نہیں ہوسکتی جس کو اس کی غلط نگاہ نے بری صورت میں پیش کیا ہے وہ فریب خوردہ جو اپنی بلند ہمتی سے دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اس دوسرے شخص کے مانند نہیں ہوسکتا جس نے تھوڑا بہت آخرت کا حصہ حاصل کر لیا ہو۔ (370- تقویٰ و پرہیزگاری) حکمت حکمت 370

حکمت (370) : جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلمات نہ فرمائیں۔ اے لوگو! اللہ سے ڈرو،کیونکہ کوئی شخص بے کار پیدا نہیں کیا گیا کہ وہ کھیل کود میں پڑ جائے، اور نہ اسے بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہے کہ بیہودگیاں کرنے لگے اور دنیا جو اس کے لیے آراستہ و پیراستہ ہے اس آخرت کا عوض نہیں ہوسکتی جس کو اس کی غلط نگاہ نے بری صورت میں پیش کیا ہے وہ فریب خوردہ جو اپنی بلند ہمتی سے دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اس دوسرے شخص کے مانند نہیں ہوسکتا جس نے تھوڑا بہت آخرت کا حصہ حاصل کر لیا ہو۔ (370- تقویٰ و پرہیزگاری)

جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلمات…

مزید پڑھیے
حکمت (371) :  کوئی شرف اسلام سے بلند تر نہیں کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں، کوئی پناہ گاہ پرہیز گاری سے بہتر نہیں، کوئی سفارش کرنے والا توبہ سے بڑھ کر کامیاب نہیں، کوئی خزانہ قناعت سے زیادہ بے نیاز کرنے والا نہیں کوئی مال بقدر کفاف پر رضا مند رہنے سے بڑھ کر فقر و احتیاج کا دور کرنے والا نہیں۔ جو شخص قدر حاجت پر اکتفا کر لیتا ہے وہ آسائش و راحت پا لیتا ہے۔ اور آرام و آسودگی میں منزل بنا لیتا ہے۔ خواہش و رغبت، رنج و تکلیف کی کلید اور مشقت و اندو ہ کی سوار ی ہے۔حرص تکبر اور حسد گناہوں میں پھاند پڑنے کے محرکات ہیں اور بدکرداری تمام برے عیوب کو حاوی ہے۔ (371- اچھی اور بُری صفتیں) حکمت حکمت 371

حکمت (371) : کوئی شرف اسلام سے بلند تر نہیں کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں، کوئی پناہ گاہ پرہیز گاری سے بہتر نہیں، کوئی سفارش کرنے والا توبہ سے بڑھ کر کامیاب نہیں، کوئی خزانہ قناعت سے زیادہ بے نیاز کرنے والا نہیں کوئی مال بقدر کفاف پر رضا مند رہنے سے بڑھ کر فقر و احتیاج کا دور کرنے والا نہیں۔ جو شخص قدر حاجت پر اکتفا کر لیتا ہے وہ آسائش و راحت پا لیتا ہے۔ اور آرام و آسودگی میں منزل بنا لیتا ہے۔ خواہش و رغبت، رنج و تکلیف کی کلید اور مشقت و اندو ہ کی سوار ی ہے۔حرص تکبر اور حسد گناہوں میں پھاند پڑنے کے محرکات ہیں اور بدکرداری تمام برے عیوب کو حاوی ہے۔ (371- اچھی اور بُری صفتیں)

کوئی شرف اسلام سے بلند تر نہیں، کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں۔

مزید پڑھیے