Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

483 اندراجات
حکمت (362) :  جسے اپنی آبرو عزیز ہو، وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔ (362- عزت کی نگہداشت) حکمت حکمت 362

حکمت (362) : جسے اپنی آبرو عزیز ہو، وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔ (362- عزت کی نگہداشت)

جسے اپنی آبرو عزیز ہو، وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (363) :  امکان پیدا ہونے سے پہلے کسی کام میں جلد بازی کرنا اور موقع آنے پر دیر کرنا دونوں حماقت میں داخل ہیں۔ (363- موقع و محل) حکمت حکمت 363

حکمت (363) : امکان پیدا ہونے سے پہلے کسی کام میں جلد بازی کرنا اور موقع آنے پر دیر کرنا دونوں حماقت میں داخل ہیں۔ (363- موقع و محل)

امکان پیدا ہونے سے پہلے کسی کام میں جلد بازی کرنا اور موقع آنے پر دیر کرنا دونوں حماقت میں…

مزید پڑھیے
حکمت (364) :  جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرو۔ اس لیے کہ جو ہے، وہی تمہارے لیے کافی ہے۔ (364- بے فائدہ سوال) حکمت حکمت 364

حکمت (364) : جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرو۔ اس لیے کہ جو ہے، وہی تمہارے لیے کافی ہے۔ (364- بے فائدہ سوال)

جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (349) :  جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔ اور جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر خوش رہے گا، وہ نہ ملنے والی چیز پر رنجیدہ نہیں ہو گا۔ جو ظلم کی تلوار کھینچتا ہے وہ اسی سے قتل ہوتا ہے جو اہم امور کو زبردستی انجام دینا چاہتا ہے۔ وہ تباہ و بر باد ہوتا ہے، جو اٹھتی ہوئی موجوں میں پھاندتا ہے، وہ ڈوبتا ہے، جو بدنامی کی جگہوں پر جائے گا، وہ بدنام ہو گا، جو زیادہ بولے گا، وہ زیادہ لغزشیں کرے گا اور جس میں حیا کم ہو اس میں تقویٰ کم ہو گا اور جس میں تقویٰ کم ہو گا اس کا دل مردہ ہو جائے گا۔ اور جس کا دل مردہ ہو گیا وہ دوزخ میں جا پڑا۔ جو شخص لوگوں کے عیوب کو دیکھ کر نا ک بھول چڑھائے اور پھر انہیں اپنے لیے چاہے اور سرا سرا حمق ہے قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ جو موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے وہ تھوڑی سی دنیا پر بھی خوش ہو رہتا ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا قول بھی عمل کا ایک جز ہے، وہ مطلب کی بات کے علاوہ کلام نہیں کرتا۔ (349- اچھے اور بُرے اوصاف) حکمت حکمت 349

حکمت (349) : جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔ اور جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر خوش رہے گا، وہ نہ ملنے والی چیز پر رنجیدہ نہیں ہو گا۔ جو ظلم کی تلوار کھینچتا ہے وہ اسی سے قتل ہوتا ہے جو اہم امور کو زبردستی انجام دینا چاہتا ہے۔ وہ تباہ و بر باد ہوتا ہے، جو اٹھتی ہوئی موجوں میں پھاندتا ہے، وہ ڈوبتا ہے، جو بدنامی کی جگہوں پر جائے گا، وہ بدنام ہو گا، جو زیادہ بولے گا، وہ زیادہ لغزشیں کرے گا اور جس میں حیا کم ہو اس میں تقویٰ کم ہو گا اور جس میں تقویٰ کم ہو گا اس کا دل مردہ ہو جائے گا۔ اور جس کا دل مردہ ہو گیا وہ دوزخ میں جا پڑا۔ جو شخص لوگوں کے عیوب کو دیکھ کر نا ک بھول چڑھائے اور پھر انہیں اپنے لیے چاہے اور سرا سرا حمق ہے قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ جو موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے وہ تھوڑی سی دنیا پر بھی خوش ہو رہتا ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا قول بھی عمل کا ایک جز ہے، وہ مطلب کی بات کے علاوہ کلام نہیں کرتا۔ (349- اچھے اور بُرے اوصاف)

جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (350) :  لوگوں میں جو ظالم ہو اس کی تین علامتیں ہیں :وہ ظلم کرتا ہے اپنے سے بالا ہستی کی خلاف ورزی سے، اور اپنے سے پست لوگوں پر قہر و تسلط سے اور ظالموں کی کمک و امداد کرتا ہے۔ (350- ظالم کے علامات) حکمت حکمت 350

حکمت (350) : لوگوں میں جو ظالم ہو اس کی تین علامتیں ہیں :وہ ظلم کرتا ہے اپنے سے بالا ہستی کی خلاف ورزی سے، اور اپنے سے پست لوگوں پر قہر و تسلط سے اور ظالموں کی کمک و امداد کرتا ہے۔ (350- ظالم کے علامات)

لوگوں میں جو ظالم ہو اس کی تین علامتیں ہیں: وہ ظلم کرتا ہے اپنے سے بالا ہستی کی خلاف…

مزید پڑھیے
حکمت (351) :  جب سختی انتہا کو پہنچ جائے تو کشائش و فراخی ہو گی اور جب ابتلاء و مصیبت کی کڑیاں تنگ ہو جائیں تو راحت و آسائش حاصل ہوتی ہے۔ (351- سختی کے بعد آسانی) حکمت حکمت 351

حکمت (351) : جب سختی انتہا کو پہنچ جائے تو کشائش و فراخی ہو گی اور جب ابتلاء و مصیبت کی کڑیاں تنگ ہو جائیں تو راحت و آسائش حاصل ہوتی ہے۔ (351- سختی کے بعد آسانی)

جب سختی انتہا کو پہنچ جائے تو کشائش و فراخی ہو گی۔

مزید پڑھیے
حکمت (352) :  اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو، اس لیے کہ اگر وہ دوستان خدا ہیں تو خدا اپنے دوستوں کو برباد نہ ہونے دے گا اور اگر دشمنان خدا ہیں تو تمہیں دشمنان خدا کی فکروں اور دھندوں میں پڑنے سے مطلب ہی کیا۔ (352- زن و فرزند سے لگاؤ) حکمت حکمت 352

حکمت (352) : اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو، اس لیے کہ اگر وہ دوستان خدا ہیں تو خدا اپنے دوستوں کو برباد نہ ہونے دے گا اور اگر دشمنان خدا ہیں تو تمہیں دشمنان خدا کی فکروں اور دھندوں میں پڑنے سے مطلب ہی کیا۔ (352- زن و فرزند سے لگاؤ)

اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو، اس لیے کہ اگر…

مزید پڑھیے
حکمت (353) :  سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس عیب کو برا کہو، جس کے مانند خود تمہارے اندر موجود ہے۔ (353- عیب جوئی) حکمت حکمت 353

حکمت (353) : سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس عیب کو برا کہو، جس کے مانند خود تمہارے اندر موجود ہے۔ (353- عیب جوئی)

سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس عیب کو برا کہو، جس کے مانند خود تمہارے اندر موجود ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (338) :  علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جو نفس میں بس جائے اور ایک وہ جو صرف سن لیا گیاہو اور سناسنایا فائدہ نہیں دیتا جب تک وہ دل میں راسخ نہ ہو۔ (338- علم کی دو قسمیں) حکمت حکمت 338

حکمت (338) : علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جو نفس میں بس جائے اور ایک وہ جو صرف سن لیا گیاہو اور سناسنایا فائدہ نہیں دیتا جب تک وہ دل میں راسخ نہ ہو۔ (338- علم کی دو قسمیں)

علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جو نفس میں بس جائے اور ایک وہ جو صرف سن لیا…

مزید پڑھیے
حکمت (354) :  حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پیدا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ »شہسوار مبارک ہو«۔جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ تم بخشنے والے (خدا) کے شکر گزار ہوئے یہ بخشی ہوئی نعمت تمہیں مبارک ہو، یہ اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت تمہیں نصیب ہو۔ (354- تہنیت فرزند) حکمت حکمت 354

حکمت (354) : حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پیدا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ »شہسوار مبارک ہو«۔جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ تم بخشنے والے (خدا) کے شکر گزار ہوئے یہ بخشی ہوئی نعمت تمہیں مبارک ہو، یہ اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت تمہیں نصیب ہو۔ (354- تہنیت فرزند)

حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پیدا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ »شہسوار مبارک…

مزید پڑھیے