Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

483 اندراجات
حکمت (261) :  جب امیرالمومنین علیہ السلام کو یہ اطلاع ملی کہ معاویہ کے ساتھیوں نے (شہر)انبار پر دھاوا کیا تو آپ بنفس نفیس پیادہ پا چل کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ نخیلہ تک پہنچ گئے، اتنے میں لوگ بھی آپ کے پاس پہنچ گئے اور کہنے لگے یا امیر المومنین علیہ السّلام ! ہم دشمن سے نپٹ لیں گے۔ آپ کے تشریف لے جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے سے تو میرا بچاؤ کر نہیں سکتے دوسروں سے کیا بچاؤ کرو گے۔ مجھ سے پہلے رعایا اپنے حاکموں کے ظلم و جور کی شکایت کیا کرتی تھی مگر میں آج اپنی رعیت کی زیادتیوں کا گلہ کرتا ہوں، گویا کہ میں رعیت ہوں اور وہ حاکم اور میں حلقہ بگوش ہوں اور وہ فرمانروا۔

(سید رضی کہتے ہیں کہ )جب امیرالمومنین علیہ السلام نے ایک طویل کلام کے ذیل میں کہ جس کا منتخب حصہ ہم خطب میں درج کر چکے ہیں یہ کلمات ارشاد فرمائے توآ پ کے اصحاب میں سے دو شخص اٹھ کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ یا امیر المومنین علیہ السّلام مجھے اپنی ذات اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر اختیار نہیں تو آپ ہمیں حکم دیں ہم اسے بجالائیں گے جس پر حضرت نے فرمایا کہ میں جو چاہتا ہوں وہ تم دو آدمیوں سے کہاں سرانجام پا سکتا ہے۔ (261- بے وفا ساتھی) حکمت حکمت 261

حکمت (261) : جب امیرالمومنین علیہ السلام کو یہ اطلاع ملی کہ معاویہ کے ساتھیوں نے (شہر)انبار پر دھاوا کیا تو آپ بنفس نفیس پیادہ پا چل کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ نخیلہ تک پہنچ گئے، اتنے میں لوگ بھی آپ کے پاس پہنچ گئے اور کہنے لگے یا امیر المومنین علیہ السّلام ! ہم دشمن سے نپٹ لیں گے۔ آپ کے تشریف لے جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے سے تو میرا بچاؤ کر نہیں سکتے دوسروں سے کیا بچاؤ کرو گے۔ مجھ سے پہلے رعایا اپنے حاکموں کے ظلم و جور کی شکایت کیا کرتی تھی مگر میں آج اپنی رعیت کی زیادتیوں کا گلہ کرتا ہوں، گویا کہ میں رعیت ہوں اور وہ حاکم اور میں حلقہ بگوش ہوں اور وہ فرمانروا۔ (سید رضی کہتے ہیں کہ )جب امیرالمومنین علیہ السلام نے ایک طویل کلام کے ذیل میں کہ جس کا منتخب حصہ ہم خطب میں درج کر چکے ہیں یہ کلمات ارشاد فرمائے توآ پ کے اصحاب میں سے دو شخص اٹھ کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ یا امیر المومنین علیہ السّلام مجھے اپنی ذات اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر اختیار نہیں تو آپ ہمیں حکم دیں ہم اسے بجالائیں گے جس پر حضرت نے فرمایا کہ میں جو چاہتا ہوں وہ تم دو آدمیوں سے کہاں سرانجام پا سکتا ہے۔ (261- بے وفا ساتھی)

جب امیرالمومنین علیہ السلام کو یہ اطلاع ملی کہ معاویہ کے ساتھیوں نے دھاوا کیا تو آپ بنفس نفیس پیادہ…

مزید پڑھیے
حکمت (277) :  (کسی موقع پرقسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا)اس ذات کی قسم جس کی بدولت ہم نے ایسی شبِ تار کے باقی ماندہ حصہ کو بسر کر دیا۔ جس کے چھٹتے ہی روز  درخشاں ظاہر ہو گا ایسا اور ایسا نہیں ہوا۔ (277- ایک قسم) حکمت حکمت 277

حکمت (277) : (کسی موقع پرقسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا)اس ذات کی قسم جس کی بدولت ہم نے ایسی شبِ تار کے باقی ماندہ حصہ کو بسر کر دیا۔ جس کے چھٹتے ہی روز درخشاں ظاہر ہو گا ایسا اور ایسا نہیں ہوا۔ (277- ایک قسم)

(کسی موقع پرقسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا) اس ذات کی قسم جس کی بدولت ہم نے ایسی شبِ تار کے…

مزید پڑھیے
حکمت (262) :  بیان کیا گیا ہے کہ حارث ابن حوط حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ کیا آپ کے خیال میں اس کا گمان بھی ہوسکتا ہے کہ اصحاب جمل گمراہ تھے؟
حضرت نے فرمایا کہ اے حارث !تم نے نیچے کی طرف دیکھا اوپر کی طر ف نگا ہ نہیں ڈالی، جس کے نتیجہ میں تم حیران و سر گردان ہو گئے ہو، تم حق ہی کو نہیں جانتے کہ حق والوں کو جانو اور باطل ہی کو نہیں پہچانتے کہ باطل کی راہ پر چلنے والوں کو پہچانو۔
حارث نے کہا کہ میں سعد ابن مالک اور عبداللہ ابن عمر کے ساتھ گوشہ گزیں ہو جاؤں گا۔
حضرت نے فرمایا کہ 
سعد اور عبداللہ ابن عمر نے حق کی مدد کی، اور نہ باطل کی نصرت سے ہاتھ اٹھایا۔ (262- حارث ابن حُوط) حکمت حکمت 262

حکمت (262) : بیان کیا گیا ہے کہ حارث ابن حوط حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ کیا آپ کے خیال میں اس کا گمان بھی ہوسکتا ہے کہ اصحاب جمل گمراہ تھے؟ حضرت نے فرمایا کہ اے حارث !تم نے نیچے کی طرف دیکھا اوپر کی طر ف نگا ہ نہیں ڈالی، جس کے نتیجہ میں تم حیران و سر گردان ہو گئے ہو، تم حق ہی کو نہیں جانتے کہ حق والوں کو جانو اور باطل ہی کو نہیں پہچانتے کہ باطل کی راہ پر چلنے والوں کو پہچانو۔ حارث نے کہا کہ میں سعد ابن مالک اور عبداللہ ابن عمر کے ساتھ گوشہ گزیں ہو جاؤں گا۔ حضرت نے فرمایا کہ سعد اور عبداللہ ابن عمر نے حق کی مدد کی، اور نہ باطل کی نصرت سے ہاتھ اٹھایا۔ (262- حارث ابن حُوط)

حق ہی کو نہیں جانتے کہ حق والوں کو جانو اور باطل ہی کو نہیں پہچانتے کہ باطل کی راہ…

مزید پڑھیے
حکمت (278) :  وہ تھوڑا عمل جو پابندی سے بجا لایا جاتا ہے زیادہ فائدہ مند ہے اس کثیر عمل سے کہ جس سے دل اکتا جائے۔ (278- مفید عمل) حکمت حکمت 278

حکمت (278) : وہ تھوڑا عمل جو پابندی سے بجا لایا جاتا ہے زیادہ فائدہ مند ہے اس کثیر عمل سے کہ جس سے دل اکتا جائے۔ (278- مفید عمل)

وہ تھوڑا عمل جو پابندی سے بجا لایا جاتا ہے زیادہ فائدہ مند ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (263) :  باد شاہ کا ندیم و مصاحب ایسا ہے جیسے شیر پر سوار ہونے والا کہ اس کے مرتبہ پر رشک کیا جاتا ہے وہ اپنے موقف سے خوب واقف ہے۔ (263- مصاحب سلطان) حکمت حکمت 263

حکمت (263) : باد شاہ کا ندیم و مصاحب ایسا ہے جیسے شیر پر سوار ہونے والا کہ اس کے مرتبہ پر رشک کیا جاتا ہے وہ اپنے موقف سے خوب واقف ہے۔ (263- مصاحب سلطان)

باد شاہ کا ندیم و مصاحب ایسا ہے جیسے شیر پر سوار ہونے والا کہ اس کے مرتبہ پر رشک…

مزید پڑھیے
حکمت (279) :  جب مستحبات فرائض میں سدِ راہ ہوں تو انہیں چھوڑ دو۔ (279- فرائض کی اہمیت) حکمت حکمت 279

حکمت (279) : جب مستحبات فرائض میں سدِ راہ ہوں تو انہیں چھوڑ دو۔ (279- فرائض کی اہمیت)

جب مستحبات فرائض میں سدِ راہ ہوں تو انہیں چھوڑ دو۔

مزید پڑھیے
حکمت (264) :  دوسروں کے پسماندگان سے بھلائی کرو۔ تاکہ تمہارے پسماند گان پر بھی نظر شفقت پڑے۔ (264- حُسنِ سلوک) حکمت حکمت 264

حکمت (264) : دوسروں کے پسماندگان سے بھلائی کرو۔ تاکہ تمہارے پسماند گان پر بھی نظر شفقت پڑے۔ (264- حُسنِ سلوک)

دوسروں کے پسماندگان سے بھلائی کرو۔ تاکہ تمہارے پسماند گان پر بھی نظر شفقت پڑے۔

مزید پڑھیے
حکمت (265) :  جب حکماء کا کلام صحیح ہو تو وہ دوا ہے اور غلط ہو تو سراسر مرض ہے۔ (265- کلام حکماء) حکمت حکمت 265

حکمت (265) : جب حکماء کا کلام صحیح ہو تو وہ دوا ہے اور غلط ہو تو سراسر مرض ہے۔ (265- کلام حکماء)

جب حکماء کا کلام صحیح ہو تو وہ دوا ہے اور غلط ہو تو سراسر مرض ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (266) :  حضرت سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایمان کی تعریف کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کل میرے پاس آنا تاکہ میں تمہیں اس موقع پر بتاؤں کہ دوسرے لوگ بھی سن سکیں کہ اگر تم بھول جاؤ تو دوسرے یاد رکھیں۔ اس لیے کلام بھڑکے ہوئے شکار کے مانند ہوتا ہے کہ اگر ایک کی گرفت میں آ جاتا ہے اور دوسرے کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
(سید رضی کہتے ہیں کہ)حضرت نے اس کے بعد جواب دیا وہ آپ کا یہ ارشا د تھا کہ »الایمان علی اربع شعب «( ایمان کی چار قسمیں ہیں ) (266- ایک سائل کے جواب میں) حکمت حکمت 266

حکمت (266) : حضرت سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایمان کی تعریف کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کل میرے پاس آنا تاکہ میں تمہیں اس موقع پر بتاؤں کہ دوسرے لوگ بھی سن سکیں کہ اگر تم بھول جاؤ تو دوسرے یاد رکھیں۔ اس لیے کلام بھڑکے ہوئے شکار کے مانند ہوتا ہے کہ اگر ایک کی گرفت میں آ جاتا ہے اور دوسرے کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ (سید رضی کہتے ہیں کہ)حضرت نے اس کے بعد جواب دیا وہ آپ کا یہ ارشا د تھا کہ »الایمان علی اربع شعب «( ایمان کی چار قسمیں ہیں ) (266- ایک سائل کے جواب میں)

حضرت علی نے ایمان کی تعریف بیان کی کہ یہ روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (267) :  اے فرزند آدم علیہ السّلام ! اس دن کی فکر کا بار جو ابھی آیا نہیں، آج کے اپنے دن پر نہ ڈال کہ جو آ چکا ہے۔ اس لیے کہ اگر ایک دن بھی تیری عمر کا باقی ہو گا، تو اللہ تیرا رزق تجھ تک پہنچائے گا۔ (267- فکر فردا) حکمت حکمت 267

حکمت (267) : اے فرزند آدم علیہ السّلام ! اس دن کی فکر کا بار جو ابھی آیا نہیں، آج کے اپنے دن پر نہ ڈال کہ جو آ چکا ہے۔ اس لیے کہ اگر ایک دن بھی تیری عمر کا باقی ہو گا، تو اللہ تیرا رزق تجھ تک پہنچائے گا۔ (267- فکر فردا)

اے فرزند آدم علیہ السّلام ! اس دن کی فکر کا بار جو ابھی آیا نہیں، آج کے اپنے دن…

مزید پڑھیے