Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 268
حکمت (268) : اپنے دوست سے بس ایک حد تک محبت کرو کیونکہ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن ہو جائے اور دشمن کی دشمنی بس ایک حد تک رکھو ہوسکتا ہے کہ کسی دن وہ تمہارا دوست ہو جائے۔ (268- دوستی و دشمنی میں احتیاط)
اپنے دوست سے بس ایک حد تک محبت کرو کیونکہ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن ہو جائے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 269
حکمت (269) : دنیا میں کام کرنے والے دو قسم کے ہیں ایک وہ جو دنیا کے لیے سر گرم عمل رہتا ہے اور اسے دنیا نے آخرت سے روک رکھا ہے۔ وہ اپنے پسماندگان کے لیے فقر و فاقہ کا خوف کرتا ہے مگر اپنی تنگدستی سے مطمئن ہے تو وہ دوسروں کے فائدہ ہی میں پوری عمر بسر کر دیتا ہے اور ایک وہ ہے جو دنیا میں رہ کر اس کے لیے عمل کرتا ہے تو اسے تگ و دو کئے بغیر دنیا بھی حاصل ہو جاتی ہے اور اس طرح وہ دونوں حصوں کو سمیٹ لیتا ہے اور دونوں گھروں کا مالک بن جاتا ہے وہ اللہ کے نزدیک با وقار ہوتا ہے اور اللہ سے کوئی حاجت نہیں مانگتا جو اللہ پوری نہ کرے۔ (269- عمل دنیا و عمل آخرت)
دنیا میں کام کرنے والے دو قسم کے ہیں، ایک وہ جو دنیا کے لیے سرگرم عمل رہتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 270
حکمت (270) : بیان کیا گیا ہے کہ عمر ابن خطاب کے سامنے خانہ کعبہ کے زیورات اور ان کی کثرت کا ذکر ہوا تو کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ اگر آپ ان زیورات کو لے لیں اور انہیں مسلمانوں کے لشکر پر صرف کر کے ان کی روانگی کا سامان کریں تو زیادہ باعث اجر ہو گا، خانہ کعبہ کو ان زیورات کی کیا ضرورت ہے۔ چنانچہ عمر نے اس کا ارادہ کر لیا اور امیرالمومنین علیہ السلام سے اس کے بار ے میں مسئلہ پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب قرآن مجید نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تو اس وقت چار قسم کے اموال تھے، ایک مسلمانوں کا ذاتی مال تھا اسے آپ نے ان کے وارثوں میں ان کے حصہ کے مطابق تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ دوسرا مال غنیمت تھا، اسے اس کے مستحقین پر تقسیم کیا۔ تیسرا مال خمس تھا، اس مال کے اللہ تعالیٰ نے خاص مصارف مقرر کر دیئے۔ چوتھے زکوٰۃ و صدقات تھے۔ انہیں اللہ نے وہاں صرف کرنے کا حکم دیا جو ان کا مصرف ہے۔ یہ خانہ کعبہ کے زیورات اس زمانہ میں بھی موجود تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے حال پر رہنے دیا اور ایسا بھولے سے تو نہیں ہوا، اور نہ ان کا وجود اس پر پوشیدہ تھا۔ لہٰذا آپ بھی انہیں وہیں رہنے دیجئے جہاں اللہ اور اس کے رسول نے انہیں رکھا ہے۔ یہ سن کر عمر نے کہا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ہم رسوا ہو جاتے اور زیورات ان کی حالت پر رہنے دیا۔ (270- خانہ کعبہ کے زیور)
عمر ابن خطاب کے سامنے خانہ کعبہ کے زیورات اور ان کی کثرت کا ذکر ہوا۔ امیرالمومنین نے ان کے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 224
حکمت (224) : زیادہ خاموشی رعب و ہیبت کا باعث ہوتی ہے۔ اور انصاف سے دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے لطف و کرم سے قدر و منزلت بلند ہوتی ہے جھک کر ملنے سے نعمت تمام ہوتی ہے۔ دوسروں کا بوجھ بٹانے سے لازماً سرداری حاصل ہوتی ہے اور خوش رفتاری سے کینہ ور دشمن مغلوب ہوتا ہے اور سر پھر ے آدمی کے مقابلہ میں بردباری کرنے سے اس کے مقابلہ میں اپنے طرفدار زیادہ ہو جاتے ہیں۔ (224- چند اوصاف)
زیادہ خاموشی رعب و ہیبت کا باعث ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 240
حکمت (240) : گھر میں ایک غصبی پتھر اس کی ضمانت ہے کہ وہ تباہ و برباد ہو کر رہے گا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ ایک روایت میں یہ کلام رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہوا ہے اور اس میں تعجب ہی کیا ہے کہ دونوں کے کلام ایک دوسرے کے مثل ہوں کیونکہ دونوں کا سر چشمہ تو ایک ہی ہے۔ (240- غصب)
گھر میں ایک غصبی پتھر اس کی ضمانت ہے کہ وہ تباہ و برباد ہو کر رہے گا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 255
حکمت (255) : غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ضرور ہوتا ہے اور اگر پشیمان نہیں ہوتا تو اُس کی دیوانگی پختہ ہے۔ (255- غیظ و غضب)
غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ضرور ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 225
حکمت (225) : تعجب ہے کہ حاسد جسمانی تندرستی پر حسد کرنے سے کیوں غافل ہو گئے۔ (225- یہ حاسد)
تعجب ہے کہ حاسد جسمانی تندرستی پر حسد کرنے سے کیوں غافل ہو گئے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 241
حکمت (241) : مظلوم کے ظالم پر قابو پانے کا دن اس دن سے کہیں زیادہ ہو گا جس میں ظالم مظلوم کے خلاف اپنی طاقت دکھاتا ہے۔ (241- ظالم و مظلوم)
مظلوم کے ظالم پر قابو پانے کا دن اس دن سے کہیں زیادہ ہو گا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 256
حکمت (256) : حسد کی کمی بدن کی تندرستی کا سبب ہے۔ (256- حسد)
حسد کی کمی بدن کی تندرستی کا سبب ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 226
حکمت (226) : طمع کرنے والا ذلت کی زنجیروں میں گرفتار رہتا ہے۔ (226- طمع)
طمع کرنے والا ذلت کی زنجیروں میں گرفتار رہتا ہے۔
مزید پڑھیے
