Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

483 اندراجات
حکمت (419) :  بیچارہ آدمی کتنا بے بس ہے موت اس سے نہاں ،بیماریاں اس سے پوشیدہ اور اس کے اعمال محفوظ ہیں۔مچھر کے کاٹنے سے چیخ اٹھتا ہے ،اچھو لگنے سے مر جاتا ہے اور پسینہ اس میں بدبو پیدا کر دیتا ہے۔ (419- بے بسی) حکمت حکمت 419

حکمت (419) : بیچارہ آدمی کتنا بے بس ہے موت اس سے نہاں ،بیماریاں اس سے پوشیدہ اور اس کے اعمال محفوظ ہیں۔مچھر کے کاٹنے سے چیخ اٹھتا ہے ،اچھو لگنے سے مر جاتا ہے اور پسینہ اس میں بدبو پیدا کر دیتا ہے۔ (419- بے بسی)

بیچارہ آدمی کتنا بے بس ہے موت اس سے نہاں ،بیماریاں اس سے پوشیدہ اور اس کے اعمال محفوظ ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (435) :  ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند کر دے اور کسی بندے کے لیے دعا کا دروازہ کھولے اور در قبولیت کو اس کے لیے بند رکھے اور کسی بندے کے لیے تو بہ کا دروازہ کھولے اور مغفرت کا دروازہ اس کے لیے بند کر دے۔ (435- شکر، دُعا اور توبہ) حکمت حکمت 435

حکمت (435) : ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند کر دے اور کسی بندے کے لیے دعا کا دروازہ کھولے اور در قبولیت کو اس کے لیے بند رکھے اور کسی بندے کے لیے تو بہ کا دروازہ کھولے اور مغفرت کا دروازہ اس کے لیے بند کر دے۔ (435- شکر، دُعا اور توبہ)

ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند کر…

مزید پڑھیے
حکمت (420) :  وارد ہوا ہے کہ حضرت اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ،کہ ان کے سامنے سے ایک حسین عورت کا گزر ہوا جسے انہوں نے دیکھنا شروع کیا جس پر حضرت نے فرمایا
ان مردوں کی آنکھیں تاکنے والی ہیں اور یہ نظر باز ی ان کی خواہشات کو برانگیختہ کرنے کاسبب ہے لہٰذا تم میں سے کسی کی نظر ایسی عورت پر پڑے کہ جو اسے اچھی معلوم ہو تو اسے اپنی زوجہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ عورت بھی اس عورت کے مانند ہے۔یہ سن کر ایک خارجی نے کہا کہ خدااس کافر کو قتل کر ے یہ کتنا برا فقیہ ہے۔یہ سن کر لوگ اسے قتل کرنے اٹھے۔حضرت نے فرمایا کہ ٹھہرو !زیادہ سے زیادہ گالی کا بدلہ گالی ہوسکتا ہے ،یااس کے گناہ ہی سے درگزر کرو۔ (420- بے باک نگاہیں) حکمت حکمت 420

حکمت (420) : وارد ہوا ہے کہ حضرت اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ،کہ ان کے سامنے سے ایک حسین عورت کا گزر ہوا جسے انہوں نے دیکھنا شروع کیا جس پر حضرت نے فرمایا ان مردوں کی آنکھیں تاکنے والی ہیں اور یہ نظر باز ی ان کی خواہشات کو برانگیختہ کرنے کاسبب ہے لہٰذا تم میں سے کسی کی نظر ایسی عورت پر پڑے کہ جو اسے اچھی معلوم ہو تو اسے اپنی زوجہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ عورت بھی اس عورت کے مانند ہے۔یہ سن کر ایک خارجی نے کہا کہ خدااس کافر کو قتل کر ے یہ کتنا برا فقیہ ہے۔یہ سن کر لوگ اسے قتل کرنے اٹھے۔حضرت نے فرمایا کہ ٹھہرو !زیادہ سے زیادہ گالی کا بدلہ گالی ہوسکتا ہے ،یااس کے گناہ ہی سے درگزر کرو۔ (420- بے باک نگاہیں)

وارد ہوا ہے کہ حضرت اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے سامنے سے ایک حسین عورت…

مزید پڑھیے
حکمت (436) :  لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔ (436- رگِ شرافت) حکمت حکمت 436

حکمت (436) : لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔ (436- رگِ شرافت)

لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔

مزید پڑھیے
حکمت (421) :  اتنی عقل تمہارے لیے کافی ہے کہ جو گمراہی کی راہوں کو ہدایت کے راستوں سے الگ کر کے تمہیں دکھا دے۔ (421- عقل کی رہبری) حکمت حکمت 421

حکمت (421) : اتنی عقل تمہارے لیے کافی ہے کہ جو گمراہی کی راہوں کو ہدایت کے راستوں سے الگ کر کے تمہیں دکھا دے۔ (421- عقل کی رہبری)

اتنی عقل تمہارے لیے کافی ہے کہ جو گمراہی کی راہوں کو ہدایت کے راستوں سے الگ کر کے تمہیں…

مزید پڑھیے
حکمت (437) :  آپ سے دریافت کیا گیا کہ عدل بہتر ہے یا سخاوت؟ فرمایا عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے باہر کر دیتی ہے عدل سب کی نگہداشت کر تا ہے، اور سخاوت اسی سے مخصوص ہو گی۔ جسے دیا جائے۔ لہٰذا عدل سخاوت سے بہتر و برتر ہے۔ (437- عدل و جود) حکمت حکمت 437

حکمت (437) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ عدل بہتر ہے یا سخاوت؟ فرمایا عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے باہر کر دیتی ہے عدل سب کی نگہداشت کر تا ہے، اور سخاوت اسی سے مخصوص ہو گی۔ جسے دیا جائے۔ لہٰذا عدل سخاوت سے بہتر و برتر ہے۔ (437- عدل و جود)

عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے…

مزید پڑھیے
حکمت (422) :  اچھے کام کر و اور تھوڑی سی بھلائی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔ کیونکہ چھوٹی سی نیکی بھی بڑی اور تھوڑی سی بھلائی بھی بہت ہے۔ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اچھے کام کے کرنے میں کوئی دوسرا مجھ سے زیادہ سزاوار ہے۔ ورنہ خدا کی قسم ایسا ہی ہو کر رہے گا۔ کچھ نیکی والے ہوتے ہیں اور کچھ برائی والے۔ جب تم نیکی یا بدی کسی ایک کو چھوڑ دو گے، تو تمہارے بجائے اس کے اہل اسے انجام دے کر رہیں گے (422- چھوٹی اور بڑی نیکی) حکمت حکمت 422

حکمت (422) : اچھے کام کر و اور تھوڑی سی بھلائی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔ کیونکہ چھوٹی سی نیکی بھی بڑی اور تھوڑی سی بھلائی بھی بہت ہے۔ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اچھے کام کے کرنے میں کوئی دوسرا مجھ سے زیادہ سزاوار ہے۔ ورنہ خدا کی قسم ایسا ہی ہو کر رہے گا۔ کچھ نیکی والے ہوتے ہیں اور کچھ برائی والے۔ جب تم نیکی یا بدی کسی ایک کو چھوڑ دو گے، تو تمہارے بجائے اس کے اہل اسے انجام دے کر رہیں گے (422- چھوٹی اور بڑی نیکی)

اچھے کام کرو اور تھوڑی سی بھلائی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔

مزید پڑھیے
حکمت (423) :  جو اپنے اندرونی حالات کو درست رکھتا ہے خدا اس کے ظاہر کو بھی درست کر دیتا ہے۔ اور جو دین کے لیے سرگرم عمل ہوتا ہے، اللہ اس کے دنیا کے کاموں کو پورا کر دیتا ہے اور جو اپنے اور اللہ کے درمیان خوش معاملگی رکھتا ہے۔ خدا اس کے اور بندوں کے درمیان کے معاملات ٹھیک کر دیتا ہے۔ (423- اللہ سے خوش معاملگی) حکمت حکمت 423

حکمت (423) : جو اپنے اندرونی حالات کو درست رکھتا ہے خدا اس کے ظاہر کو بھی درست کر دیتا ہے۔ اور جو دین کے لیے سرگرم عمل ہوتا ہے، اللہ اس کے دنیا کے کاموں کو پورا کر دیتا ہے اور جو اپنے اور اللہ کے درمیان خوش معاملگی رکھتا ہے۔ خدا اس کے اور بندوں کے درمیان کے معاملات ٹھیک کر دیتا ہے۔ (423- اللہ سے خوش معاملگی)

جو اپنے اندرونی حالات کو درست رکھتا ہے خدا اس کے ظاہر کو بھی درست کر دیتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (424) :  حلم و تحمل ڈھانکنے والا پردہ اور عقل کاٹنے والی تلوار ہے۔ لہٰذا اپنے اخلاق کے کمزور پہلو کو حلم و بردباری سے چھپاؤ، اور اپنی عقل سے خواہش نفسانی کا مقابلہ کرو۔ (424- حلم و عقل) حکمت حکمت 424

حکمت (424) : حلم و تحمل ڈھانکنے والا پردہ اور عقل کاٹنے والی تلوار ہے۔ لہٰذا اپنے اخلاق کے کمزور پہلو کو حلم و بردباری سے چھپاؤ، اور اپنی عقل سے خواہش نفسانی کا مقابلہ کرو۔ (424- حلم و عقل)

حلم و تحمل ڈھانکنے والا پردہ اور عقل کاٹنے والی تلوار ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (425) :  بندوں کی منفعت رسائی کے لیے اللہ کچھ بندگان خدا کو نعمتوں سے مخصوص کر لیتا ہے۔ لہٰذا جب تک وہ دیتے دلاتے رہتے ہیں، اللہ ان نعمتوں کو ان کے ہاتھوں میں برقرار رکھتا ہے اور جب ان نعمتوں کو روک لیتے ہیں تو اللہ ان سے چھین کر دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ (425- حقوق نعمت) حکمت حکمت 425

حکمت (425) : بندوں کی منفعت رسائی کے لیے اللہ کچھ بندگان خدا کو نعمتوں سے مخصوص کر لیتا ہے۔ لہٰذا جب تک وہ دیتے دلاتے رہتے ہیں، اللہ ان نعمتوں کو ان کے ہاتھوں میں برقرار رکھتا ہے اور جب ان نعمتوں کو روک لیتے ہیں تو اللہ ان سے چھین کر دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ (425- حقوق نعمت)

اللہ کچھ بندگان خدا کو نعمتوں سے مخصوص کر لیتا ہے۔

مزید پڑھیے