nahjul balagah
خطبہ
خطبہ 16
خطبہ (16) : جب مدینہ میں آپ کی بیعت ہوئی تو فرمایا:۔ (16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا)
میں اپنے قول کا ذمہ دار اور اس کی صحت کا ضامن ہوں۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 1
خطبہ (1) : معرفت باری کے درجات، زمین و آسمان کی خلقت، آدم کی پیدائش، احکام قرآنی کی تقسیم اور حج کا بیان۔ (1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج)
اس میں ابتدائے آفرینش ِزمین و آسمان اور پیدائشِ آدم کا ذکر فرمایا ہے
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 17
خطبہ (17) : ان لوگوں1 کے بارے میں جو امت کے فیصلے چکانے کے لئے مسند قضا پر بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ وہ اس کے اہل نہیں ہوتے۔ (17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں)
تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خدا کے نزدیک مبغوض دو شخص ہیں۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 2
خطبہ (2) : بعثت سے قبل عرب کی حالت ، اہل بیت کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت (2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت)
اللہ کی حمدو ثنا کرتا ہوں، اس کی نعمتوں کی تکمیل چاہنے...
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 18
خطبہ (18) : فتاویٰ۱ میں علماء کے مختلف الآرا ہونے کی مذمت میں فرمایا : (18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد)
امام علیؑ نے علماء کے فتاویٰ میں اختلاف کی مذمت کی ہے، جبکہ اللہ، نبی اور کتاب ایک ہیں۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 3
خطبہ (3) : یہ خطبہ شقشقیہ1 کے نام سے مشہور ہے (3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ)
خدا کی قسم! فرزند ابو قحافہ نے پیراہنِ خلافت پہن لیا حالانکہ وہ میرے بارے میں جانتا تھا۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 19
خطبہ (19) : اشعث بن قیس کی غداری کا واقعہ (19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ)
امیر المومنین علیہ السلام نے اشعت بنِ قیس کی غداری کا پردہ فاش کیا۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 4
خطبہ (4) : حضرت کی دوررس بصیرت اور دین میں یقین کامل اور حضرت موسی (ع) کے خوفزدہ ہونے کی وجہ (4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا)
ہماری وجہ سے تم نے ہدایت کی روشنی پائی اور اندھیری راتوں کو صبح کے اجالوں میں آگئے۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 20
خطبہ (20) : موت کی ہولناکی (20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی)
جن چیزوں کو تمہارے مرنے والوں نے دیکھا ہے اگر تم بھی دیکھ لیتے تو گھبرا جاتے۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 5
خطبہ (5) : پیغمبر(ص) کے بعد جب ابو سفیان نے آپ (ع) کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہی تو اس موقع پر فرمایا (5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی)
جب رسول اللہ نے دنیا سے رحلت فرمائی تو عباس اور ابو سفیان نے آپ سے بیعت کرنا چاہی۔
مزید پڑھیے
