nahjul balagah
حکمت
حکمت 365
حکمت (365) : فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبرت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے، نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔ (365- پسندیدہ صفتیں)
فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبرت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 366
حکمت (366) : علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے اور علم عمل کو پکارتا ہے۔ اگر وہ لبیک کہتا ہے تو بہتر، ورنہ وہ بھی اس سے رخصت ہو جاتا ہے۔ (366- علم و عمل)
علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 367
حکمت (367) : اے لوگو! دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اور صرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہو چکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہارا دیا گیا ہے۔ جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے، وہ انجام کار اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے، اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلا گھوٹا جانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کا فنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بندوں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہو جاتا ہے۔مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔ جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہو گیا ہے تو پھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہو گیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پر غم بھی ہوتا ہے۔ یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔ (367- تغیر و انقلاب)
دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پیدا کرنے والا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 368
حکمت (368) : اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پر ثواب اور اپنی معصیت پر سزا اس لیے رکھی ہے کہ اپنے بندوں کو عذاب سے دور کرے اور جنت کی طرف گھیر کر لے جائے۔ (368- ثواب و عقاب)
اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پر ثواب اور معصیت پر سزا رکھی تاکہ بندے عذاب سے دور رہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 369
حکمت (369) : لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائے گا، اس وقت مسجدیں تعمیر و زینت کے لحاظ سے آباد اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ ان میں ٹھہرنے والے اور انہیں آباد کرنے والے تمام اہل زمین میں سب سے بدتر ہوں گے، وہ فتنوں کا سرچشمہ اور گناہوں کا مرکز ہوں گے جو ان فتنوں سے منہ موڑ ے گا، انہیں انہی فتنوں کی طرف پلٹائیں گے اور جو قدم پیچھے ہٹائے گا، انہیں دھکیل کر ان کی طرف لائیں گے۔ ارشاد الہی ہے کہ »مجھے اپنی ذات کی قسم میں ان لوگوں پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس میں حلیم و بردبار کو حیران و سر گردان چھوڑ دوں گا «۔ چنانچہ وہ ایسا ہی کرے گا، ہم اللہ سے غفلت کی ٹھوکروں سے عفو کے خواستگار ہیں۔ (369- ایک زمانہ)
لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا صرف نام باقی…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 370
حکمت (370) : جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلمات نہ فرمائیں۔ اے لوگو! اللہ سے ڈرو،کیونکہ کوئی شخص بے کار پیدا نہیں کیا گیا کہ وہ کھیل کود میں پڑ جائے، اور نہ اسے بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہے کہ بیہودگیاں کرنے لگے اور دنیا جو اس کے لیے آراستہ و پیراستہ ہے اس آخرت کا عوض نہیں ہوسکتی جس کو اس کی غلط نگاہ نے بری صورت میں پیش کیا ہے وہ فریب خوردہ جو اپنی بلند ہمتی سے دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اس دوسرے شخص کے مانند نہیں ہوسکتا جس نے تھوڑا بہت آخرت کا حصہ حاصل کر لیا ہو۔ (370- تقویٰ و پرہیزگاری)
جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلمات…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 371
حکمت (371) : کوئی شرف اسلام سے بلند تر نہیں کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں، کوئی پناہ گاہ پرہیز گاری سے بہتر نہیں، کوئی سفارش کرنے والا توبہ سے بڑھ کر کامیاب نہیں، کوئی خزانہ قناعت سے زیادہ بے نیاز کرنے والا نہیں کوئی مال بقدر کفاف پر رضا مند رہنے سے بڑھ کر فقر و احتیاج کا دور کرنے والا نہیں۔ جو شخص قدر حاجت پر اکتفا کر لیتا ہے وہ آسائش و راحت پا لیتا ہے۔ اور آرام و آسودگی میں منزل بنا لیتا ہے۔ خواہش و رغبت، رنج و تکلیف کی کلید اور مشقت و اندو ہ کی سوار ی ہے۔حرص تکبر اور حسد گناہوں میں پھاند پڑنے کے محرکات ہیں اور بدکرداری تمام برے عیوب کو حاوی ہے۔ (371- اچھی اور بُری صفتیں)
کوئی شرف اسلام سے بلند تر نہیں، کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 372
حکمت (372) : جابر ابن عبداللہ انصار ی سے فرمایا اے جابر! چارقسم کے آدمیوں سے دین و دنیا کا قیام ہے عالم جو اپنے علم کو کام میں لاتا ہو،جاہل جو علم کے حاصل کرنے میں عار نہ کرتا ہو،سخی جو داد و دہش میں بخل نہ کرتا ہو، اور فقیر جو آخرت کو دنیا کے عوض نہ بیچتا ہو۔ تو جب عالم اپنے علم کو برباد کرے گا، تو جاہل اس کے سیکھنے میں عار سمجھے گا اور جب دولت مند نیکی و احسان میں بخل کرے گا تو فقیر اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ ڈالے گا۔ اے جابر ! جس پر اللہ کی نعمتیں زیادہ ہوں گی لوگوں کی حاجتیں بھی اس کے دامن سے زیادہ وابستہ ہوں گی لہٰذا جو شخص ان نعمتوں پر عائد ہونے والے حقوق کو اللہ کی خاطر ادا کرے گا، وہ ان کے لیے دوام و ہمیشگی کا سامان کرے گا اور جو ان واجب حقوق کے ادا کرنے کے لیے کھڑا نہیں ہو گا وہ انہیں فنا و بربادی کی زد پر لے آئے گا۔ (372- جابر ابن عبد اللہ)
علم، عمل، سخاوت اور آخرت کی اہمیت پر جابر ابن عبداللہ انصاری کی حکمت.
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 373
حکمت (373) : ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فقیہ سے روایت کی ہے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو ابن اشعث کے ساتھ حجا ج سے لڑنے کے لیے نکلے تھے کہ وہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے کہتے تھے کہ جب اہل شام سے لڑنے کے لیے بڑھے تو میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے سنا۔ اے اہل ایمان ! جو شخص دیکھے کہ ظلم و عدوان پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اور وہ دل سے اسے برا سمجھے، تو وہ (عذاب سے )محفوظ اور (گناہ سے) بری ہو گیا، اور جو زبان سے اسے برا کہے وہ ماجور ہے صرف دل سے بر اسمجھنے والے سے افضل ہے اور جو شخص شمشیر بکف ہو کر اس برائی کے خلاف کھڑا ہوتا کہ اللہ کا بول بالا ہو، اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پا لیا اور سیدھے راستے پر ہولیا اور اس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔ (373- امر بالمعروف و نہی عن المنکر)
ابن جریر طبری نے عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فقیہ سے روایت کی ہے کہ جو شخص ظلم کے خلاف کھڑا…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 358
حکمت (358) : اے لوگو! چاہیے کہ اللہ تم کو نعمت و آسائش کے موقع پر بھی اسی طرح خائف و ترساں دیکھے جس طرح تمہیں عذاب سے ہراساں دیکھتا ہے۔ بیشک جسے فراخ دستی حاصل ہو، اور وہ اسے کم کم عذاب کی طرف بڑھنے کا سبب نہ سمجھے تو اس نے خوفناک چیز سے اپنے کو مطمئن سمجھ لیا اور جو تنگدست ہو اور وہ اسے آزمائش نہ سمجھے تو اس نے اس ثواب کو ضائع کر دیا۔ کہ جس کی امید و آرزو کی جاتی ہے۔ (358- نعمت و نقمت)
اللہ کی نعمت و آسائش کے موقع پر خوف و ترس کا اظہار کریں۔
مزید پڑھیے
