nahjul balagah

800 اندراجات
حکمت (137) : صدقہ کے ذَریعَہ روزی طلب کرو۔ (137- صدقہ) حکمت حکمت 137

حکمت (137) : صدقہ کے ذَریعَہ روزی طلب کرو۔ (137- صدقہ)

صَدَقَہ کے ذَریعَہ رُوزی طَلَب کَرُو۔

مزید پڑھیے
حکمت (122) :  حضرت ایک جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے کہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز سنی جس پر آپ نے فرمایا۔
گویا اس دنیا میں موت ہمارے علاوہ دوسروں کے لیے لکھی گئی ہے اور گویا یہ حق (موت) دوسروں ہی پر لازم ہے اور گویا جن مرنے والوں کو ہم دیکھتے ہیں، وہ مسافر ہیں جو عنقریب ہماری طرف پلٹ آئیں گے۔ ادھر ہم انہیں قبروں میں اتارتے ہیں ادھر ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں گویا ان کے بعد ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ پھر یہ کہ ہم نے ہر پندو نصیحت کرنے والے کو، وہ مرد ہو یا عورت، بھلا دیا ہے اور ہر آفت کا نشانہ بن گئے ہیں۔ (122- مشایعت جنازہ) حکمت حکمت 122

حکمت (122) : حضرت ایک جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے کہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز سنی جس پر آپ نے فرمایا۔ گویا اس دنیا میں موت ہمارے علاوہ دوسروں کے لیے لکھی گئی ہے اور گویا یہ حق (موت) دوسروں ہی پر لازم ہے اور گویا جن مرنے والوں کو ہم دیکھتے ہیں، وہ مسافر ہیں جو عنقریب ہماری طرف پلٹ آئیں گے۔ ادھر ہم انہیں قبروں میں اتارتے ہیں ادھر ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں گویا ان کے بعد ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ پھر یہ کہ ہم نے ہر پندو نصیحت کرنے والے کو، وہ مرد ہو یا عورت، بھلا دیا ہے اور ہر آفت کا نشانہ بن گئے ہیں۔ (122- مشایعت جنازہ)

حضرت ایک جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے کہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز سنی۔

مزید پڑھیے
حکمت (138) : جب عوض کے ملنے کا یقین ہو تو وہ عطیہ دینے میں دریا دلی دکھاتا ہے۔ (138- جود و سخا) حکمت حکمت 138

حکمت (138) : جب عوض کے ملنے کا یقین ہو تو وہ عطیہ دینے میں دریا دلی دکھاتا ہے۔ (138- جود و سخا)

جسے عوض کے ملنے کا یقین ہو وہ عطیہ دینے میں دریادلی دکھاتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (123) : خوشا نصیب اس کے کہ جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیار کی جس کی کمائی پاک و پاکیزہ نیت نیک اور خصلت و عادت پسندیدہ رہی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہوا مال خدا کی راہ میں صرف کیا بے کار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا، مردم آزادی سے کنارہ کش رہا، سنت اسے ناگوار نہ ہوئی اور بدعت کی طرف منسوب نہ ہوا۔ (123- چند صفات) حکمت حکمت 123

حکمت (123) : خوشا نصیب اس کے کہ جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیار کی جس کی کمائی پاک و پاکیزہ نیت نیک اور خصلت و عادت پسندیدہ رہی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہوا مال خدا کی راہ میں صرف کیا بے کار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا، مردم آزادی سے کنارہ کش رہا، سنت اسے ناگوار نہ ہوئی اور بدعت کی طرف منسوب نہ ہوا۔ (123- چند صفات)

خوشا نصیب اس کے کہ جب جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیار کی۔

مزید پڑھیے
حکمت (139) : جب جتنا خرچ ہو۔ اتنی ہی امداد ملتی ہے۔ (139- رزق و روزی) حکمت حکمت 139

حکمت (139) : جب جتنا خرچ ہو۔ اتنی ہی امداد ملتی ہے۔ (139- رزق و روزی)

جتنا خرچ ہو، اتنی ہی امداد ملتی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (124) :  عورت کا غَیرَت کَرنا کُفْر ہے، اور مَرد کا غَیُور ہونا اِیمان ہے۔ (124- غیرت) حکمت حکمت 124

حکمت (124) : عورت کا غَیرَت کَرنا کُفْر ہے، اور مَرد کا غَیُور ہونا اِیمان ہے۔ (124- غیرت)

عورت کا غَیرَت کَرنا کُفر ہے، اور مَرد کا غَیُور ہونا اِیمان ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (140) : جب میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا۔ (140- کفایت شعاری) حکمت حکمت 140

حکمت (140) : جب میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا۔ (140- کفایت شعاری)

جب میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیے
حکمت (125) :  میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کرتا ہوں جب مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی۔ اسلام سر تسلیم خم کرنا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجا آوری ہے اور فرض کی بجا آوری عمل ہے۔ (125- حقیقی اسلام) حکمت حکمت 125

حکمت (125) : میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کرتا ہوں جب مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی۔ اسلام سر تسلیم خم کرنا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجا آوری ہے اور فرض کی بجا آوری عمل ہے۔ (125- حقیقی اسلام)

میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کر تا ہوں جب مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی۔

مزید پڑھیے
حکمت (126) :  مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے، اس کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اور آخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہو گا، اور مجھے تعجب ہوتا ہے۔ متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا، اور کل کو مردار ہو گا۔ اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اور پھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے۔ اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے۔ (126- تعجب انگیز چیزیں) حکمت حکمت 126

حکمت (126) : مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے، اس کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اور آخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہو گا، اور مجھے تعجب ہوتا ہے۔ متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا، اور کل کو مردار ہو گا۔ اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اور پھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے۔ اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے۔ (126- تعجب انگیز چیزیں)

مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جب فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے، اس کی طرف تیزی سے…

مزید پڑھیے
حکمت (127) : جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے، وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو، اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (127- کوتاہی اعمال کا نتیجہ) حکمت حکمت 127

حکمت (127) : جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے، وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو، اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (127- کوتاہی اعمال کا نتیجہ)

جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے، وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے۔

مزید پڑھیے