nahjul balagah
حکمت
حکمت 96
حکمت (96) : انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کا زیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی) ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے۔ اور اب اس نبی اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے۔ (پھر فرمایا) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔ (96- معیار تقرب)
انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جب ان کی لائی ہوئی چیزوں کا زیادہ علم رکھتے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 112
حکمت (112) : جب ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔ (112- محبت اہل بیتؑ)
جب ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 81
حکمت (81) : ہر شَخص کی قِیمت وہ ہُنر ہے، جب اس شَخص میں ہے۔ (81- ہنر کی قدر و قیمت)
ہر شَخص کی قِیمت وہ ہنر ہے، جب اس شَخص میں ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 97
حکمت (97) : ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نمازِ شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو آپ نے فرمایا: یقین کی حالت میں سونا، شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ (97- ایک خارجی کی عبادت)
ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نمازِ شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 113
حکمت (113) : عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی و شرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں (113- پسندیدہ اوصاف)
عقل سے بڑھ کر کوئی مالِ سودمند اور خودبینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 82
حکمت (82) : تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے۔ کہ اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنکاؤ، تو وہ اسی قابل ہوں گی۔ تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے اور اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خوف نہ کھائے اور اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے وہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا اور اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں، اور صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے۔ اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے، یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں۔ (82- پانچ نصیحتیں)
تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 98
حکمت (98) : جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو، صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو، کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں۔ (98- روایت و درایت)
جب کوئی حَدِیث سُنُو تو اُسے عَقَل کے مِیَار پر پَرکھ لو، صرف نَقْلِ الفاظ پر بَس نہ کَرُو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 114
حکمت (114) : جب دنیا اور اہل دنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے کہ جس سے رسوائی کی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی سُوِ ظن رکھے تو اس نے اس پر ظلم و زیادتی کی اور جب دنیا و اہل دنیا پر شر و فساد کا غلبہ ہو اور پھر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے حسن ظن رکھے تو اس نے (خود ہی اپنے کو) خطرے میں ڈالا۔ (114- خوش گمانی و بد گمانی)
جب دُنیا اور اہلِ دُنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے سُوءِ ظن…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 83
حکمت (83) : ایک شخص نے آپ کی بہت زیادہ تعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عقیدت و ارادت نہ رکھتا تھا ، تو آپ نے فرمایا جب تمہاری زبان پر ہے میں اس سے کم ہوں اور جو تمہارے دل میں ہے اس سے زیادہ ہوں۔ (83- مدح سرائی)
ایک شَخص نے آپ کی بَہت زیادہ تَعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عَقیدَت و اِرادَت نہ رکھتا تھا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 99
حکمت (99) : ایک شخص کو اِنَا لِلّٰہِ وَ اِنَا اِلَیْهِ رَاجِعُونَ، (ہم اللہ کے ہیں اور اللہ کی طرف پلٹنا ہے) کہتے سنا تو فرمایا کہ ہمارا یہ کہنا کہ »ہم اللہ کے ہیں«۔ اس کے مالک ہونے کا اعتراف ہے اور یہ کہنا کہ ہمیں اسی کی طرف پلٹنا ہے۔ یہ اپنے لیے فنا کا اقرار ہے۔ (99- ﴿ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ﴾ کی تفسیر)
ہم ٱللَّهِ کے ہیں اور ٱللَّهِ کی طرف پلٹنا ہے۔ یہ فَنَا کا اقرار ہے۔
مزید پڑھیے
