nahjul balagah

800 اندراجات
حکمت (87) :  اس شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ جب توبہ کی گنجائش کے ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے (87- استغفار) حکمت حکمت 87

حکمت (87) : اس شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ جب توبہ کی گنجائش کے ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے (87- استغفار)

اس شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ جب توبہ کی گنجائش کے ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے

مزید پڑھیے
حکمت (103) : آپ کے جسم پر ایک بوسیدہ اور پیوند دار جامہ دیکھا گیا تو آپ سے اس کے بارے میں کہا گیا، آپ نے فرمایا! اس سے دل متواضع اور نفس رام ہوتا ہے اور مومن اس کی تاسی کرتے ہیں۔ دنیا اور آخرت آپس میں دو ناسازگار دشمن اور دو جدا جدا راستے ہیں۔ چنانچہ جب دنیا کو چاہے گا اور اس سے دل لگائے گا۔ وہ دونوں بمنزلہ مشرق و مغرب کے ہیں اور ان دونوں سمتوں کے درمیان چلنے والا جب بھی ایک سے قریب ہو گا تو دوسرے سے دور ہونا پڑے گا۔ پھر ان دونوں کا رشتہ ایسا ہی ہے جیسا دو سوتوں کا ہوتا ہے۔ (103- بوسیدہ لباس) حکمت حکمت 103

حکمت (103) : آپ کے جسم پر ایک بوسیدہ اور پیوند دار جامہ دیکھا گیا تو آپ سے اس کے بارے میں کہا گیا، آپ نے فرمایا! اس سے دل متواضع اور نفس رام ہوتا ہے اور مومن اس کی تاسی کرتے ہیں۔ دنیا اور آخرت آپس میں دو ناسازگار دشمن اور دو جدا جدا راستے ہیں۔ چنانچہ جب دنیا کو چاہے گا اور اس سے دل لگائے گا۔ وہ دونوں بمنزلہ مشرق و مغرب کے ہیں اور ان دونوں سمتوں کے درمیان چلنے والا جب بھی ایک سے قریب ہو گا تو دوسرے سے دور ہونا پڑے گا۔ پھر ان دونوں کا رشتہ ایسا ہی ہے جیسا دو سوتوں کا ہوتا ہے۔ (103- بوسیدہ لباس)

دنیا اور آخرت آپس میں دو ناسازگار دشمن ہیں۔ جب دنیا کو چاہے گا، وہ آخرت سے دور ہوگا۔

مزید پڑھیے
حکمت (119) :  دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جب چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے، فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھینچتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔ (119- دنیا کی ایک مثال) حکمت حکمت 119

حکمت (119) : دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جب چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے، فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھینچتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔ (119- دنیا کی ایک مثال)

دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جب چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل…

مزید پڑھیے
حکمت (88) :  دنیا میں عذابِ خدا سے دو چیزیں باعثِ امان تھیں، ایک ان میں سے اٹھ گئی، مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے۔ لہٰذا اسے مضبوطی سے تھامے رہو۔ وہ امان جو اٹھا لی گئی وہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور وہ امان جو باقی رہ گئی ہے وہ توبہ و استغفار ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: »اللہ لوگوں پر عذاب نہیں کرے گا جب تک تم ان میں موجود ہو«۔ اللہ ان لوگوں پر عذاب نہیں اتارے گا، جب کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کر رہے ہوں گے۔ (88- ایک لطیف استنباط) حکمت حکمت 88

حکمت (88) : دنیا میں عذابِ خدا سے دو چیزیں باعثِ امان تھیں، ایک ان میں سے اٹھ گئی، مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے۔ لہٰذا اسے مضبوطی سے تھامے رہو۔ وہ امان جو اٹھا لی گئی وہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور وہ امان جو باقی رہ گئی ہے وہ توبہ و استغفار ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: »اللہ لوگوں پر عذاب نہیں کرے گا جب تک تم ان میں موجود ہو«۔ اللہ ان لوگوں پر عذاب نہیں اتارے گا، جب کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کر رہے ہوں گے۔ (88- ایک لطیف استنباط)

دنیا میں عذابِ خدا سے دو چیزیں باعثِ امان تھیں، ایک اٹھ گئی، مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (104) : نوف ابن فضالہ بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ فرش خواب سے اٹھے ایک نظر ستاروں پر ڈالی اور پھر فرمایا اے نوف! سوتے ہو یا جاگ رہے ہو؟ میں نے کہا کہ یا امیرالمومنین علیہ السّلام جاگ رہا ہوں۔ فرمایا! اے نوف! خوشا نصیب ان کے کہ جنہوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا، اور ہمہ تن آخرت کی طرف متوجہ رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو فرش، مٹی کو بستر اور پانی کو شربت خوش گوار قرار دیا۔ قرآن کو سینے سے لگایا اور دعا کو سپر بنایا۔ پھر حضرت مسیح کی طرح دامن جھاڑ کر دنیا سے الگ ہو گئے۔ اے نوف! داؤد علیہ السلام رات کے ایسے ہی حصے میں اٹھے اور فرمایا کہ یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں بندہ جب بھی دعا مانگے مستجاب ہو گی سوا اس شخص کے جو سرکاری ٹیکس وصول کرنے والا، یا لوگوں کی برائیاں کرنے والا، یا (کسی ظالم حکومت کی) پولیس میں ہو یا سارنگی یا ڈھول تاشہ بجانے والا ہو۔ (104- نوف بکالی کا بیان) حکمت حکمت 104

حکمت (104) : نوف ابن فضالہ بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ فرش خواب سے اٹھے ایک نظر ستاروں پر ڈالی اور پھر فرمایا اے نوف! سوتے ہو یا جاگ رہے ہو؟ میں نے کہا کہ یا امیرالمومنین علیہ السّلام جاگ رہا ہوں۔ فرمایا! اے نوف! خوشا نصیب ان کے کہ جنہوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا، اور ہمہ تن آخرت کی طرف متوجہ رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو فرش، مٹی کو بستر اور پانی کو شربت خوش گوار قرار دیا۔ قرآن کو سینے سے لگایا اور دعا کو سپر بنایا۔ پھر حضرت مسیح کی طرح دامن جھاڑ کر دنیا سے الگ ہو گئے۔ اے نوف! داؤد علیہ السلام رات کے ایسے ہی حصے میں اٹھے اور فرمایا کہ یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں بندہ جب بھی دعا مانگے مستجاب ہو گی سوا اس شخص کے جو سرکاری ٹیکس وصول کرنے والا، یا لوگوں کی برائیاں کرنے والا، یا (کسی ظالم حکومت کی) پولیس میں ہو یا سارنگی یا ڈھول تاشہ بجانے والا ہو۔ (104- نوف بکالی کا بیان)

نوف ابن فضالہ بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ فرشِ خواب…

مزید پڑھیے
حکمت (120) :  حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ) بنی مخزوم قریش کا مہکتا ہوا پھول ہیں، ان کے مردوں سے گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی پسندیدہ ہے اور بنی عبد شمس دور اندیش اور پیٹھ پیچھے کی اوجھل چیزوں کی پوری روک تھام کرنے والے ہیں لیکن ہم (بنی ہاشم) تو جب ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے صرف کر ڈالتے ہیں، اور موت آنے پر جان دیتے ہیں۔ بڑے جوانمرد ہوتے ہیں اور یہ بنی (عبد شمس) گنتی میں زیادہ حیلہ باز اور بدصورت ہوتے ہیں اور ہم خوش گفتار خیر خواہ اور خوب صورت ہوتے ہیں۔ (120- قریش کی خصوصیت) حکمت حکمت 120

حکمت (120) : حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ) بنی مخزوم قریش کا مہکتا ہوا پھول ہیں، ان کے مردوں سے گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی پسندیدہ ہے اور بنی عبد شمس دور اندیش اور پیٹھ پیچھے کی اوجھل چیزوں کی پوری روک تھام کرنے والے ہیں لیکن ہم (بنی ہاشم) تو جب ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے صرف کر ڈالتے ہیں، اور موت آنے پر جان دیتے ہیں۔ بڑے جوانمرد ہوتے ہیں اور یہ بنی (عبد شمس) گنتی میں زیادہ حیلہ باز اور بدصورت ہوتے ہیں اور ہم خوش گفتار خیر خواہ اور خوب صورت ہوتے ہیں۔ (120- قریش کی خصوصیت)

حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ) بنی مخزوم قریش کا مہکتا…

مزید پڑھیے
حکمت (89) : جب نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا، تو اللہ اس کے اور لوگوں کے معاملات سلجھائے رکھے گا اور جب نے اپنی آخرت کو سنوار لیا، تو خدا اس کی دنیا بھی سنوار دے گا اور جب خود اپنے کو وعظ و پند کر لے، تو اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہوتی رہے گی۔ (89- اللہ سے خوش معاملگی) حکمت حکمت 89

حکمت (89) : جب نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا، تو اللہ اس کے اور لوگوں کے معاملات سلجھائے رکھے گا اور جب نے اپنی آخرت کو سنوار لیا، تو خدا اس کی دنیا بھی سنوار دے گا اور جب خود اپنے کو وعظ و پند کر لے، تو اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہوتی رہے گی۔ (89- اللہ سے خوش معاملگی)

جس نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا، اللہ اس کے معاملات سلجھائے رکھے گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (105) :  اللہ نے چند فرائض تم پر عائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو۔ اور تمہارے حدودِ کار مقرر کر دیئے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔ اس نے چند چیزوں سے تمہیں منع کیا ہے اس کی خلاف ورزی نہ کرو، اور جن چند چیزوں کا اس نے حکم بیان نہیں کیا، انہیں بھولے سے نہیں چھوڑ دیا۔ لہٰذا خواہ مخواہ انہیں جاننے کی کوشش نہ کرو۔ (105- فرائض کی پابندی) حکمت حکمت 105

حکمت (105) : اللہ نے چند فرائض تم پر عائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو۔ اور تمہارے حدودِ کار مقرر کر دیئے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔ اس نے چند چیزوں سے تمہیں منع کیا ہے اس کی خلاف ورزی نہ کرو، اور جن چند چیزوں کا اس نے حکم بیان نہیں کیا، انہیں بھولے سے نہیں چھوڑ دیا۔ لہٰذا خواہ مخواہ انہیں جاننے کی کوشش نہ کرو۔ (105- فرائض کی پابندی)

اللہ نے چند فرائض تم پر عائد کئے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (90) :  پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے، اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے۔ (90- پورا علم) حکمت حکمت 90

حکمت (90) : پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے، اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے۔ (90- پورا علم)

پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس نہ کرے۔

مزید پڑھیے
حکمت (106) : جب لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں تو خدا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کے لیے نقصان کی صورتیں پیدا کر دیتا ہے۔ (106- دین سے بے اعتنائی) حکمت حکمت 106

حکمت (106) : جب لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں تو خدا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کے لیے نقصان کی صورتیں پیدا کر دیتا ہے۔ (106- دین سے بے اعتنائی)

جب لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں تو خدا ان کے لیے نقصان کی…

مزید پڑھیے