nahjulbalagah
حکمت
حکمت 287
حکمت (287) : آپ سے قضا و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا ! یہ ایک تاریک راستہ ہے اس میں قدم نہ اٹھاؤ۔ایک گہرا سمندر ہے۔ اس میں نہ اترو اللہ کا ایک راز ہے اسے جاننے کی زحمت نہ اٹھاؤ۔ (287- قضا ا ور قدر)
آپ سے قضا و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا ! یہ ایک تاریک راستہ…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 302
حکمت (302) : ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو۔ جتنا محتاج دعا ہے، اس سے کم وہ خیر و عافیت سے ہے۔ مگر اندیشہ ہے کہ نہ جانے کب مصیبت آ جائے۔ (302- محتاجِ دعا)
ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو۔ جتنا محتاج دعا ہے، اس سے کم وہ خیر و عافیت…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 318
حکمت (318) : حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی مقابلہ کر تا تھا وہ اپنے خلاف میری مدد کرتا تھا۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ )حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کی ہیبت دلوں پر چھا جاتی تھی۔ (318- غلبہ کا سبب)
حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 288
حکمت (288) : اللہ جس بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اسے علم و دانش سے محروم کر دیتا ہے۔ (288- علم سے محرومی)
اللہ جس بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اسے علم و دانش سے محروم کر دیتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 303
حکمت (303) : لوگ اسی دنیا کی اولاد ہیں اور کسی شخص کو اپنی ماں کی محبت پر لعنت ملامت نہیں کی جا سکتی۔ (303- ابنائے دنیا)
لوگ اسی دنیا کی اولاد ہیں اور کسی شخص کو اپنی ماں کی محبت پر لعنت ملامت نہیں کی جا…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 289
حکمت (289) : عہد ماضی میں میرا ایک دینی بھائی تھا اور وہ میری نظروں میں اس وجہ سے با عزت تھا کہ دنیااس کی نظروں میں پست و حقیر تھی۔ اس پر پیٹ کے تقاضے مسلط نہ تھے۔ لہٰذا جو چیز اُسے میسر نہ تھی اس کی خواہش نہ کرتا تھا اور جو چیز میسر تھی اسے ضرورت سے زیادہ صرف میں نہ لاتا تھا۔ وہ اکثر اوقات خاموش رہتا تھا اور اگر بولتا تھا تو بولنے والوں کو چپ کرا دیتا تھا اور سوال کرنے والوں کی پیاس بجھا دیتا تھا۔ یوں تو وہ عاجز و کمزور تھا، مگر جہاد کا موقع آ جائے تو وہ شیر بیشہ اور وادی کا اژدھا تھا۔ وہ جو دلیل و برہان پیش کرتا تھا، وہ فیصلہ کن ہوتی تھی۔ وہ ان چیزوں میں کہ جن میں عذر کی گنجائش ہوتی تھی، کسی کو سرزنش نہ کرتا تھا جب تک کہ اس کے عذر معذرت کو سن نہ لے وہ کسی تکلیف کا ذکر نہ کرتا تھا، مگر اس وقت کہ جب اس سے چھٹکارا پا لیتا تھا، وہ جو کرتا تھا، وہی کہتا تھا اور جو نہیں کرتا تھا وہ اسے کہتا نہیں تھا۔اگر بولنے میں اس پر کبھی غلبہ پا بھی لیا جائے تو خاموشی میں اس پر غلبہ حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔وہ بولنے سے زیادہ سننے کا خواہشمند رہتا تھا اور جب اچانک اس کے سامنے دو چیزیں آ جاتی تھیں تو دیکھتا تھا کہ ان دونوں میں سے ہوائے نفس کے زیادہ قریب کون ہے تو وہ اس کی مخالفت کرتا تھا۔ لہٰذا تمہیں ان عادات و خصائل کو حاصل کرنا چاہیے اور ان پر عمل پیرا اور ان کا خواہشمند رہنا چاہیے اگر ان تمام کا حاصل کرنا تمہاری قدرت سے باہر ہو تو اس بات کو جانے رہو کہ تھوڑی سی چیز حاصل کرنا پور ے کے چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔ (289- ایک دینی بھائی)
عہد ماضی میں میرا ایک دینی بھائی تھا اور وہ میری نظروں میں اس وجہ سے با عزت تھا کہ…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 304
حکمت (304) : غریب و مسکین اللہ کا فرستادہ ہوتا ہے تو جس نے اس سے اپنا ہاتھ روکا اس نے خدا سے ہاتھ روکا اور جس نے اسے کچھ دیا اس نے خدا کو دیا۔ (304- خدا کا فرستادہ)
غریب و مسکین اللہ کا فرستادہ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 290
حکمت (290) : اگر خداوند عالم نے اپنی معصیت کے عذاب سے نہ ڈرایا ہوتا، جب بھی اس کی نعمتوں پر شکر کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی معصیت نہ کی جائے۔ (290- ترک معصیت)
اگر خداوند عالم نے اپنی معصیت کے عذاب سے نہ ڈرایا ہوتا، جب بھی اس کی نعمتوں پر شکر کا…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 305
حکمت (305) : غیرت مند کبھی زنا نہیں کرتا۔ (305- غیرت مند)
غیرت مند کبھی زنا نہیں کرتا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 291
حکمت (291) : اشعث ابن قیس کو اس کے بیٹے کا پرسا دیتے ہوئے فرمایا اے اشعث !اگر تم اپنے بیٹے پر رنج و ملال کرو تو یہ خون کا رشتہ اس کا سزا وار ہے، اور اگر صبر کرو تو اللہ کے نزدیک ہر مصیبت کا عوض ہے۔ اے اشعث !اگر تم نے صبر کیا تو تقدیر الہی نافذ ہو گی اس حال میں کہ تم اجر و ثواب کے حقدار ہو گے اور اگر چیخے چلائے، جب بھی حکم قضا کا جاری ہو کر رہے گا۔ مگر اس حال میں کہ تم پر گناہ کا بوجھ ہو گا۔ تمہارے لیے بیٹا مسرت کا سبب ہوا حالانکہ وہ ایک زحمت و آزمائش تھا اور تمہارے لیے رنج و اندوہ کا سبب ہوا حالانکہ وہ (مرنے سے )تمہارے لیے اجر و رحمت کا باعث ہوا ہے۔ (291- تعزیت)
اشعث ابن قیس کو اس کے بیٹے کا پرسا دیتے ہوئے فرمایا۔
مزید پڑھیے
