مکتوب
مکتوب 15
مکتوب (15) : :ہدایت جب لڑنے کے لیے دشمن کے سامنے آتے تھے تو بارگاہ الہی میں عرض کرتے تھے (15- دشمن سے دوبدو ہوتے وقت حضرت کے دعائیہ کلمات)
بارالہاٰ !دل تیری طر ف کھنچ رہے ہیں اور گردنیں تیری طرف اٹھ رہی ہیں۔
مزید پڑھیے
مکتوب
مکتوب 16
مکتوب (16) : ہدایت جنگ کے موقع پر اپنے ساتھیوں سے فرماتے تھے (16- جنگ کے موقع پر فوج کو ہدایت)
وہ پسائی کہ جس کے بعد پلٹنا ہو، تلواروں کا حق ادا کردو اور میدان تیار رکھو۔
مزید پڑھیے
مکتوب
مکتوب 17
مکتوب (17) : معاویہ کے خط کے جواب میں (17- بجواب معاویہ)
تمہارا یہ مطالبہ کہ میں شام کا علاقہ تمہارے حوالے کردوں...
مزید پڑھیے
مکتوب
مکتوب 18
مکتوب (18) : والی بصرہ عبداللہ ابن عباس کے نام (18- عبداللہ ابن عباس عامل بصرہ کے نام)
بصرہ کے باشندوں کو حسن سلوک سے خوش رکھو، اور ان کے دلوں سے خوف کی گرہیں کھول دو۔
مزید پڑھیے
مکتوب
مکتوب 19
مکتوب (19) : ایک عامل کے نام (19- ایک عہدہ دار کے نام)
تمہارے شہر کے زمینداروں نے تمہاری سختی کی شکایت کی ہے...
مزید پڑھیے
مکتوب
مکتوب 20
مکتوب (20) : زیاد ابن ابیہ کے نام (20- زیاد ابن ابیہ کے نام)
جب کہ عبداللہ ابن عباس بصرہ کے حکمران تھے، میں اللہ کی سچی قسم کھاتا ہوں کہ اگر تم نے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 476
حکمت (476) : جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا تو ایک باہمی گفتگو کے دوران میں کہ جس میں اسے پیشگی مالگزاری کے وصول کرنے سے روکنا چاہا یہ کہا عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا۔ (476- زیاد ابن ابیہ)
عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 477
حکمت (477) : سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے والا سُبک سمجھے (477- سہل انگاری)
سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے والا سُبک سمجھے
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 478
حکمت (478) : اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں۔ (478- تعلیم و تعلّم)
اللہ نے جاہلوں سے سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 479
حکمت (479) : بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔ سید رضی کہتے ہیں کہ یہ اس لیے کہ مقدور سے زیادہ تکلیف، رنج و مشقت کا سبب ہوتی ہے اور جس بھائی کے لیے تکلف کیا جائے، اُس سے لازمی طور پر زحمت پہنچے گی۔ لہذا وہ بُرا بھائی ہوا۔ (479- تکلّف)
بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔
مزید پڑھیے
