0 اندراجات
حکمت (470) :  حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیا گیا  تو آپ نے فرمایا
توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤ اور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ۔ (470- توحید و عدل) حکمت حکمت 470

حکمت (470) : حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤ اور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ۔ (470- توحید و عدل)

حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا

مزید پڑھیے
حکمت (471) :  حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔ (471- کلام اور خاموشی) حکمت حکمت 471

حکمت (471) : حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔ (471- کلام اور خاموشی)

حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (472) :  طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ  الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب فصاحت پر مشتمل ہے۔ اس طرح کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کڑک، چمک، ہوا اور بجلی والے بادلوں کو اُن اونٹوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اپنی منہ زوری سے زمین پر پیر مار کر پالان پھینک دیتے ہوں اور اپنے سواروں کو گرا دیتے ہوں۔ اور ان خوفناک چیزوں سے خالی ابر کو ان اونٹنیوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع ہوں اور سواری کرنے میں سوار کی مرضی کے مطابق چلیں۔ (472- طلب باراں) حکمت حکمت 472

حکمت (472) : طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب فصاحت پر مشتمل ہے۔ اس طرح کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کڑک، چمک، ہوا اور بجلی والے بادلوں کو اُن اونٹوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اپنی منہ زوری سے زمین پر پیر مار کر پالان پھینک دیتے ہوں اور اپنے سواروں کو گرا دیتے ہوں۔ اور ان خوفناک چیزوں سے خالی ابر کو ان اونٹنیوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع ہوں اور سواری کرنے میں سوار کی مرضی کے مطابق چلیں۔ (472- طلب باراں)

طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو…

مزید پڑھیے
حکمت (473) :  حضرتؑ سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس پر حضرتؑ نے فرمایا کہ خضاب زینت ہے اور ہم لوگ سوگوار ہیں۔
سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت نے اس سے وفاتِ پیغمبر (ص) مراد لی ہے۔ (473- ترک خضاب) حکمت حکمت 473

حکمت (473) : حضرتؑ سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس پر حضرتؑ نے فرمایا کہ خضاب زینت ہے اور ہم لوگ سوگوار ہیں۔ سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت نے اس سے وفاتِ پیغمبر (ص) مراد لی ہے۔ (473- ترک خضاب)

حضرتؑ سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔

مزید پڑھیے
حکمت (474) :  وہ مجاہد جو خدا کی راہ میں شہید ہو، اُس شخص سے زیادہ اجر کا مستحق نہیں ہے جو قدرت و اختیار رکھتے ہوئے پاک دامن رہے۔ کیا بعید ہے کہ پاکدامن فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہو جائے۔ (474- عفت) حکمت حکمت 474

حکمت (474) : وہ مجاہد جو خدا کی راہ میں شہید ہو، اُس شخص سے زیادہ اجر کا مستحق نہیں ہے جو قدرت و اختیار رکھتے ہوئے پاک دامن رہے۔ کیا بعید ہے کہ پاکدامن فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہو جائے۔ (474- عفت)

وہ مجاہد جو خدا کی راہ میں شہید ہو، اُس شخص سے زیادہ اجر کا مستحق نہیں ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (475) :  قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔
سید رضی کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس کلام کو پیغمبر (ص) سے روایت کیا ہے۔ (475- قناعت) حکمت حکمت 475

حکمت (475) : قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ سید رضی کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس کلام کو پیغمبر (ص) سے روایت کیا ہے۔ (475- قناعت)

قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔

مزید پڑھیے
حکمت (476) :  جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا تو ایک باہمی گفتگو کے دوران میں کہ جس میں اسے پیشگی مالگزاری کے وصول کرنے سے روکنا چاہا یہ کہا
عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا۔ (476- زیاد ابن ابیہ) حکمت حکمت 476

حکمت (476) : جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا تو ایک باہمی گفتگو کے دوران میں کہ جس میں اسے پیشگی مالگزاری کے وصول کرنے سے روکنا چاہا یہ کہا عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا۔ (476- زیاد ابن ابیہ)

عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (477) :  سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے والا سُبک سمجھے (477- سہل انگاری) حکمت حکمت 477

حکمت (477) : سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے والا سُبک سمجھے (477- سہل انگاری)

سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے والا سُبک سمجھے

مزید پڑھیے
حکمت (478) :  اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں۔ (478- تعلیم و تعلّم) حکمت حکمت 478

حکمت (478) : اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں۔ (478- تعلیم و تعلّم)

اللہ نے جاہلوں سے سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ…

مزید پڑھیے
حکمت (479) :  بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ اس لیے کہ مقدور سے زیادہ تکلیف، رنج و مشقت کا سبب ہوتی ہے اور جس بھائی کے لیے تکلف کیا جائے، اُس سے لازمی طور پر زحمت پہنچے گی۔ لہذا وہ بُرا بھائی ہوا۔ (479- تکلّف) حکمت حکمت 479

حکمت (479) : بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔ سید رضی کہتے ہیں کہ یہ اس لیے کہ مقدور سے زیادہ تکلیف، رنج و مشقت کا سبب ہوتی ہے اور جس بھائی کے لیے تکلف کیا جائے، اُس سے لازمی طور پر زحمت پہنچے گی۔ لہذا وہ بُرا بھائی ہوا۔ (479- تکلّف)

بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔

مزید پڑھیے