0 اندراجات
حکمت (409) :  دل آنکھوں کا صحیفہ ہے۔ (409- دل) حکمت حکمت 409

حکمت (409) : دل آنکھوں کا صحیفہ ہے۔ (409- دل)

دل آنکھوں کا صحیفہ ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (410) :  تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔ (410- تقویٰ) حکمت حکمت 410

حکمت (410) : تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔ (410- تقویٰ)

تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (411) :  جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت گُفتار کا مظاہرہ نہ کرو۔ (411- استاد کا احترام) حکمت حکمت 411

حکمت (411) : جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت گُفتار کا مظاہرہ نہ کرو۔ (411- استاد کا احترام)

جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (412) :  تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس سے خود بھی پرہیز کرو۔ (412- آراستگیٔ نفس) حکمت حکمت 412

حکمت (412) : تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس سے خود بھی پرہیز کرو۔ (412- آراستگیٔ نفس)

تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس…

مزید پڑھیے
حکمت (413) :  جوانمردوں کی طرح صبر کرے ،نہیں تو سادہ لوحوں کی طرح بھو ل بھال کر چپ ہو گا۔ (413- قہری صبر) حکمت حکمت 413

حکمت (413) : جوانمردوں کی طرح صبر کرے ،نہیں تو سادہ لوحوں کی طرح بھو ل بھال کر چپ ہو گا۔ (413- قہری صبر)

جوانمردوں کی طرح صبر کرے ،نہیں تو سادہ لوحوں کی طرح بھو ل بھال کر چپ ہو گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (414) :  ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا :اگر بزرگوں کی طرح تم نے صبر کیا تو خیر !ورنہ چوپاؤں کی طرح ایک دن بھول جاؤ گے۔ (414- تعزیت) حکمت حکمت 414

حکمت (414) : ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا :اگر بزرگوں کی طرح تم نے صبر کیا تو خیر !ورنہ چوپاؤں کی طرح ایک دن بھول جاؤ گے۔ (414- تعزیت)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا: اگر بزرگوں کی طرح…

مزید پڑھیے
حکمت (415) :  دنیا کے متعلق فرمایا
دنیا دھوکے باز ،نقصان رساں اور رواں دواں ہے۔اللہ نے اپنے دوستوں کے لیے اسے بطور ثواب پسند نہیں کیا ،اور نہ دشمنوں کے لیے اسے بطور سزا پسند کیا۔اہل دنیا سواروں کے مانند ہیں کہ ابھی انہوں نے منزل کی ہی تھی کہ ہنکانے والے نے انہیں للکارا ،اور چل دیئے۔ (415- دنیا کی حالت) حکمت حکمت 415

حکمت (415) : دنیا کے متعلق فرمایا دنیا دھوکے باز ،نقصان رساں اور رواں دواں ہے۔اللہ نے اپنے دوستوں کے لیے اسے بطور ثواب پسند نہیں کیا ،اور نہ دشمنوں کے لیے اسے بطور سزا پسند کیا۔اہل دنیا سواروں کے مانند ہیں کہ ابھی انہوں نے منزل کی ہی تھی کہ ہنکانے والے نے انہیں للکارا ،اور چل دیئے۔ (415- دنیا کی حالت)

دنیا دھوکے باز ،نقصان رساں اور رواں دواں ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (416) :  اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔اس لیے کہ تم دو میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے۔ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت و آرام کا باعث ہو گا۔یاوہ ہو گا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ،تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہو گا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہو گے ،اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے
جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے۔اور یہ تمہارے بعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو۔ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا۔تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہو گا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختی کا سبب ہو گا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ،جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوار رہو۔ (416- امام حسن ؈ کو ہدایت) حکمت حکمت 416

حکمت (416) : اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔اس لیے کہ تم دو میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے۔ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت و آرام کا باعث ہو گا۔یاوہ ہو گا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ،تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہو گا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہو گے ،اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے۔اور یہ تمہارے بعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو۔ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا۔تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہو گا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختی کا سبب ہو گا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ،جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوار رہو۔ (416- امام حسن ؈ کو ہدایت)

اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا: اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔

مزید پڑھیے
حکمت (417) :  ایک کہنے والے نے آپ کے سامنے استغفراللہ کہا۔تو آپ نے اس سے فرمایا۔
تمہاری ماں تمہارا سوگ منائے کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیا ہے ؟استغفار بلند منزلت لوگوں کا مقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے۔پہلے کہ جو ہوچکااس پر نادم ہو ،دوسرے ہمیشہ کے لیے اس کے مرتکب نہ ہونے کا تہیا کرنا ،تیسرے یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا یہاں تک کہ اللہ کے حضور میں اس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف اور تم پر کوئی مواخذہ نہ ہو۔چوتھے یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے ،اور تم نے انہیں ضائع کر دیا تھا۔انہیں اب پورے طور پر بجا لاؤ۔پانچویں یہ کہ جو گوشت (کل )حرام سے نشو نما پاتا رہا ہے ،اس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤ یہاں تک کے کھال کو ہڈیوں سے ملا دو کہ پھرسے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو،چھٹے یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو۔جس طرح اسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے۔تو اب کہو »استغفراللہ «۔ (417- استغفار کے معنی) حکمت حکمت 417

حکمت (417) : ایک کہنے والے نے آپ کے سامنے استغفراللہ کہا۔تو آپ نے اس سے فرمایا۔ تمہاری ماں تمہارا سوگ منائے کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیا ہے ؟استغفار بلند منزلت لوگوں کا مقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے۔پہلے کہ جو ہوچکااس پر نادم ہو ،دوسرے ہمیشہ کے لیے اس کے مرتکب نہ ہونے کا تہیا کرنا ،تیسرے یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا یہاں تک کہ اللہ کے حضور میں اس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف اور تم پر کوئی مواخذہ نہ ہو۔چوتھے یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے ،اور تم نے انہیں ضائع کر دیا تھا۔انہیں اب پورے طور پر بجا لاؤ۔پانچویں یہ کہ جو گوشت (کل )حرام سے نشو نما پاتا رہا ہے ،اس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤ یہاں تک کے کھال کو ہڈیوں سے ملا دو کہ پھرسے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو،چھٹے یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو۔جس طرح اسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے۔تو اب کہو »استغفراللہ «۔ (417- استغفار کے معنی)

استغفار بلند منزلت لوگوں کا مقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (376) :  حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا،مگر وبا پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ (376- حق و باطل کا نتیجہ) حکمت حکمت 376

حکمت (376) : حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا،مگر وبا پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ (376- حق و باطل کا نتیجہ)

حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا، مگر وبا پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے