حکمت
حکمت 407
حکمت (407) : اللہ نے کسی شخص کو عقل ودیعت نہیں کی ہے مگر یہ کہ وہ کسی دن اس کے ذریعہ سے اسے تباہی سے بچائے گا۔ (407- عقل)
اللہ نے کسی شخص کو عقل ودیعت نہیں کی ہے مگر یہ کہ وہ کسی دن اس کے ذریعہ سے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 408
حکمت (408) : جو حق سے ٹکرائے گا،حق اسے پچھاڑ دے گا۔ (408- حق سے ٹکراؤ)
جو حق سے ٹکرائے گا،حق اسے پچھاڑ دے گا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 409
حکمت (409) : دل آنکھوں کا صحیفہ ہے۔ (409- دل)
دل آنکھوں کا صحیفہ ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 410
حکمت (410) : تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔ (410- تقویٰ)
تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 411
حکمت (411) : جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت گُفتار کا مظاہرہ نہ کرو۔ (411- استاد کا احترام)
جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 412
حکمت (412) : تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس سے خود بھی پرہیز کرو۔ (412- آراستگیٔ نفس)
تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ،اس…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 413
حکمت (413) : جوانمردوں کی طرح صبر کرے ،نہیں تو سادہ لوحوں کی طرح بھو ل بھال کر چپ ہو گا۔ (413- قہری صبر)
جوانمردوں کی طرح صبر کرے ،نہیں تو سادہ لوحوں کی طرح بھو ل بھال کر چپ ہو گا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 414
حکمت (414) : ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا :اگر بزرگوں کی طرح تم نے صبر کیا تو خیر !ورنہ چوپاؤں کی طرح ایک دن بھول جاؤ گے۔ (414- تعزیت)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا: اگر بزرگوں کی طرح…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 415
حکمت (415) : دنیا کے متعلق فرمایا دنیا دھوکے باز ،نقصان رساں اور رواں دواں ہے۔اللہ نے اپنے دوستوں کے لیے اسے بطور ثواب پسند نہیں کیا ،اور نہ دشمنوں کے لیے اسے بطور سزا پسند کیا۔اہل دنیا سواروں کے مانند ہیں کہ ابھی انہوں نے منزل کی ہی تھی کہ ہنکانے والے نے انہیں للکارا ،اور چل دیئے۔ (415- دنیا کی حالت)
دنیا دھوکے باز ،نقصان رساں اور رواں دواں ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 416
حکمت (416) : اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔اس لیے کہ تم دو میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے۔ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت و آرام کا باعث ہو گا۔یاوہ ہو گا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ،تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہو گا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہو گے ،اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے۔اور یہ تمہارے بعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو۔ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا۔تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہو گا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختی کا سبب ہو گا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ،جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوار رہو۔ (416- امام حسن ؈ کو ہدایت)
اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا: اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔
مزید پڑھیے
