0 اندراجات
حکمت (424) :  حلم و تحمل ڈھانکنے والا پردہ اور عقل کاٹنے والی تلوار ہے۔ لہٰذا اپنے اخلاق کے کمزور پہلو کو حلم و بردباری سے چھپاؤ، اور اپنی عقل سے خواہش نفسانی کا مقابلہ کرو۔ (424- حلم و عقل) حکمت حکمت 424

حکمت (424) : حلم و تحمل ڈھانکنے والا پردہ اور عقل کاٹنے والی تلوار ہے۔ لہٰذا اپنے اخلاق کے کمزور پہلو کو حلم و بردباری سے چھپاؤ، اور اپنی عقل سے خواہش نفسانی کا مقابلہ کرو۔ (424- حلم و عقل)

حلم و تحمل ڈھانکنے والا پردہ اور عقل کاٹنے والی تلوار ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (425) :  بندوں کی منفعت رسائی کے لیے اللہ کچھ بندگان خدا کو نعمتوں سے مخصوص کر لیتا ہے۔ لہٰذا جب تک وہ دیتے دلاتے رہتے ہیں، اللہ ان نعمتوں کو ان کے ہاتھوں میں برقرار رکھتا ہے اور جب ان نعمتوں کو روک لیتے ہیں تو اللہ ان سے چھین کر دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ (425- حقوق نعمت) حکمت حکمت 425

حکمت (425) : بندوں کی منفعت رسائی کے لیے اللہ کچھ بندگان خدا کو نعمتوں سے مخصوص کر لیتا ہے۔ لہٰذا جب تک وہ دیتے دلاتے رہتے ہیں، اللہ ان نعمتوں کو ان کے ہاتھوں میں برقرار رکھتا ہے اور جب ان نعمتوں کو روک لیتے ہیں تو اللہ ان سے چھین کر دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ (425- حقوق نعمت)

اللہ کچھ بندگان خدا کو نعمتوں سے مخصوص کر لیتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (426) :  کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسا کرے۔ ایک صحت اور دوسرے دولت کیونکہ ابھی تم کسی کو تندرست دیکھ رہے تھے، کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بیمار پڑ جاتا ہے، اور ابھی تم اسے دولتمند دیکھ رہے تھے کہ فقیر و نادار ہو جاتا ہے۔ (426- صحت و ثروت) حکمت حکمت 426

حکمت (426) : کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسا کرے۔ ایک صحت اور دوسرے دولت کیونکہ ابھی تم کسی کو تندرست دیکھ رہے تھے، کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بیمار پڑ جاتا ہے، اور ابھی تم اسے دولتمند دیکھ رہے تھے کہ فقیر و نادار ہو جاتا ہے۔ (426- صحت و ثروت)

کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسا کرے۔

مزید پڑھیے
حکمت (427) :  جو شخص اپنی حاجت کا گلہ کسی مرد مومن سے کرتا ہے۔ گویا اس نے اللہ کے سامنے اپنی شکایت پیش کی۔ اور جو کافر کے سامنے گلہ کرتا ہے گویا اس نے اپنے اللہ کی شکایت کی۔ (427- اللہ کا شکوہ) حکمت حکمت 427

حکمت (427) : جو شخص اپنی حاجت کا گلہ کسی مرد مومن سے کرتا ہے۔ گویا اس نے اللہ کے سامنے اپنی شکایت پیش کی۔ اور جو کافر کے سامنے گلہ کرتا ہے گویا اس نے اپنے اللہ کی شکایت کی۔ (427- اللہ کا شکوہ)

جو شخص اپنی حاجت کا گلہ کسی مرد مومن سے کرتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (428) :  ایک عید کے موقع پر فرمایا 
عید صرف اس کے لیے ہے جس کے روزوں کو اللہ نے قبول کیا ہو، اور اس کے قیام (نماز )کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہو، اور ہر وہ دن کہ جس میں اللہ کی معصیت نہ کی جائے عید کا دن ہے۔ (428- عید) حکمت حکمت 428

حکمت (428) : ایک عید کے موقع پر فرمایا عید صرف اس کے لیے ہے جس کے روزوں کو اللہ نے قبول کیا ہو، اور اس کے قیام (نماز )کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہو، اور ہر وہ دن کہ جس میں اللہ کی معصیت نہ کی جائے عید کا دن ہے۔ (428- عید)

ایک عید کے موقع پر فرمایا عید صرف اس کے لیے ہے جس کے روزوں کو اللہ نے قبول کیا…

مزید پڑھیے
حکمت (429) :  قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اللہ کی نافرمانی کر کے مال حاصل کیا ہو، اور اس کا وارث وہ شخص ہوا ہو جس نے اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا ہو کہ یہ تو اس مال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا، اور پہلا اس کی وجہ سے جہنم میں گیا۔ (429- حسرت و اندوہ) حکمت حکمت 429

حکمت (429) : قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اللہ کی نافرمانی کر کے مال حاصل کیا ہو، اور اس کا وارث وہ شخص ہوا ہو جس نے اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا ہو کہ یہ تو اس مال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا، اور پہلا اس کی وجہ سے جہنم میں گیا۔ (429- حسرت و اندوہ)

قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اللہ کی نافرمانی کر کے مال…

مزید پڑھیے
حکمت (430) :  لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھا نے والا اور دوڑ دھوپ میں سب سے زیادہ ناکام ہونے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن کو بوسیدہ کر ڈالا ہو۔ مگر تقدیر نے اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ نہ دیا ہو۔ لہٰذا وہ دنیا سے بھی حسرت لیے ہوئے گیا اور آخرت میں بھی اس کی پاداش کاسامنا کیا۔ (430- ناکام کوشش) حکمت حکمت 430

حکمت (430) : لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھا نے والا اور دوڑ دھوپ میں سب سے زیادہ ناکام ہونے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن کو بوسیدہ کر ڈالا ہو۔ مگر تقدیر نے اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ نہ دیا ہو۔ لہٰذا وہ دنیا سے بھی حسرت لیے ہوئے گیا اور آخرت میں بھی اس کی پاداش کاسامنا کیا۔ (430- ناکام کوشش)

لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن…

مزید پڑھیے
حکمت (431) :  رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے، موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے اور جو شخص آخرت کاخواستگار ہوتا ہے، دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے۔ (431- رزق و روزی) حکمت حکمت 431

حکمت (431) : رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے، موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے اور جو شخص آخرت کاخواستگار ہوتا ہے، دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے۔ (431- رزق و روزی)

رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (432) :  دوستان خدا وہ ہیں کہ جب لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے ہیں تو وہ اس کے باطن پر نظر کرتے ہیں اور جب لوگ اس کی جلد میسر آ جانے والی نعمتوں میں کھو جاتے ہیں، تو وہ آخرت میں حاصل ہونے چیزوں میں منہمک رہتے ہیں اور جن چیزوں کے متعلق انہیں یہ کھٹکا تھا کہ وہ انہیں تباہ کریں گی، انہیں تباہ کر کے رکھ دیا اور جن چیزوں کے متعلق انہوں نے جان لیا کہ وہ انہیں چھوڑ دینے والی ہیں انہیں انہوں نے خود چھوڑ دیا اور دوسروں کے دنیا زیادہ سمیٹنے کو کم خیال کیا، اور اسے حاصل کرنے کو کھو نے کے برابر جانا۔ وہ ان چیزوں کے دشمن ہیں جن سے دوسروں کی دوستی ہے اور ان چیزوں کے دوست ہیں جن سے اوروں کو دشمنی ہے ان کے ذریعہ سے قرآن کا علم حاصل ہوا قرآن کے ذریعہ سےان کا علم ہوا اور ان کے ذریعہ سے کتاب خدا محفوظ اور وہ اس کے ذریعہ سے برقرار رہیں۔ وہ جس چیز کی امید رکھتے ہیں اس سے کسی چیز کو بلند نہیں سمجھتے اور جس چیز سے خائف ہیں اس سے زیادہ کسی شے کو خوفناک نہیں جانتے۔ (432- دوستانِ خدا) حکمت حکمت 432

حکمت (432) : دوستان خدا وہ ہیں کہ جب لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے ہیں تو وہ اس کے باطن پر نظر کرتے ہیں اور جب لوگ اس کی جلد میسر آ جانے والی نعمتوں میں کھو جاتے ہیں، تو وہ آخرت میں حاصل ہونے چیزوں میں منہمک رہتے ہیں اور جن چیزوں کے متعلق انہیں یہ کھٹکا تھا کہ وہ انہیں تباہ کریں گی، انہیں تباہ کر کے رکھ دیا اور جن چیزوں کے متعلق انہوں نے جان لیا کہ وہ انہیں چھوڑ دینے والی ہیں انہیں انہوں نے خود چھوڑ دیا اور دوسروں کے دنیا زیادہ سمیٹنے کو کم خیال کیا، اور اسے حاصل کرنے کو کھو نے کے برابر جانا۔ وہ ان چیزوں کے دشمن ہیں جن سے دوسروں کی دوستی ہے اور ان چیزوں کے دوست ہیں جن سے اوروں کو دشمنی ہے ان کے ذریعہ سے قرآن کا علم حاصل ہوا قرآن کے ذریعہ سےان کا علم ہوا اور ان کے ذریعہ سے کتاب خدا محفوظ اور وہ اس کے ذریعہ سے برقرار رہیں۔ وہ جس چیز کی امید رکھتے ہیں اس سے کسی چیز کو بلند نہیں سمجھتے اور جس چیز سے خائف ہیں اس سے زیادہ کسی شے کو خوفناک نہیں جانتے۔ (432- دوستانِ خدا)

دوستان خدا وہ ہیں جو دنیا کی ظاہری نعمتوں سے بے نیاز ہو کر آخرت کی نعمتوں کی طلب میں…

مزید پڑھیے
حکمت (416) :  اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔اس لیے کہ تم دو میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے۔ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت و آرام کا باعث ہو گا۔یاوہ ہو گا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ،تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہو گا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہو گے ،اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے
جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے۔اور یہ تمہارے بعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو۔ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا۔تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہو گا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختی کا سبب ہو گا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ،جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوار رہو۔ (416- امام حسن ؈ کو ہدایت) حکمت حکمت 416

حکمت (416) : اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔اس لیے کہ تم دو میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے۔ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت و آرام کا باعث ہو گا۔یاوہ ہو گا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ،تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہو گا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہو گے ،اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے۔اور یہ تمہارے بعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو۔ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا۔تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہو گا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختی کا سبب ہو گا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ،جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوار رہو۔ (416- امام حسن ؈ کو ہدایت)

اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا: اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔

مزید پڑھیے