0 اندراجات
حکمت (434) :  آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے اس فقرے کی جناب رسالت مآب سے روایت کی ہے، مگر اس کے کلام امیرالمومنین علیہ السّلام ہونے کے مویدات میں سے ہے وہ جسے ثعلب نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن اعرابی نے بیان کیا کہ ماموں نے کہا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہ کہا ہوتا کہ »آزماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو «۔تو میں یوں کہتا کہ دشمنی کرواس سے تاکہ آزماؤ۔ (434- آزمائش) حکمت حکمت 434

حکمت (434) : آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے اس فقرے کی جناب رسالت مآب سے روایت کی ہے، مگر اس کے کلام امیرالمومنین علیہ السّلام ہونے کے مویدات میں سے ہے وہ جسے ثعلب نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن اعرابی نے بیان کیا کہ ماموں نے کہا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہ کہا ہوتا کہ »آزماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو «۔تو میں یوں کہتا کہ دشمنی کرواس سے تاکہ آزماؤ۔ (434- آزمائش)

آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (435) :  ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند کر دے اور کسی بندے کے لیے دعا کا دروازہ کھولے اور در قبولیت کو اس کے لیے بند رکھے اور کسی بندے کے لیے تو بہ کا دروازہ کھولے اور مغفرت کا دروازہ اس کے لیے بند کر دے۔ (435- شکر، دُعا اور توبہ) حکمت حکمت 435

حکمت (435) : ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند کر دے اور کسی بندے کے لیے دعا کا دروازہ کھولے اور در قبولیت کو اس کے لیے بند رکھے اور کسی بندے کے لیے تو بہ کا دروازہ کھولے اور مغفرت کا دروازہ اس کے لیے بند کر دے۔ (435- شکر، دُعا اور توبہ)

ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند کر…

مزید پڑھیے
حکمت (436) :  لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔ (436- رگِ شرافت) حکمت حکمت 436

حکمت (436) : لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔ (436- رگِ شرافت)

لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔

مزید پڑھیے
حکمت (437) :  آپ سے دریافت کیا گیا کہ عدل بہتر ہے یا سخاوت؟ فرمایا عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے باہر کر دیتی ہے عدل سب کی نگہداشت کر تا ہے، اور سخاوت اسی سے مخصوص ہو گی۔ جسے دیا جائے۔ لہٰذا عدل سخاوت سے بہتر و برتر ہے۔ (437- عدل و جود) حکمت حکمت 437

حکمت (437) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ عدل بہتر ہے یا سخاوت؟ فرمایا عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے باہر کر دیتی ہے عدل سب کی نگہداشت کر تا ہے، اور سخاوت اسی سے مخصوص ہو گی۔ جسے دیا جائے۔ لہٰذا عدل سخاوت سے بہتر و برتر ہے۔ (437- عدل و جود)

عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے…

مزید پڑھیے
حکمت (426) :  کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسا کرے۔ ایک صحت اور دوسرے دولت کیونکہ ابھی تم کسی کو تندرست دیکھ رہے تھے، کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بیمار پڑ جاتا ہے، اور ابھی تم اسے دولتمند دیکھ رہے تھے کہ فقیر و نادار ہو جاتا ہے۔ (426- صحت و ثروت) حکمت حکمت 426

حکمت (426) : کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسا کرے۔ ایک صحت اور دوسرے دولت کیونکہ ابھی تم کسی کو تندرست دیکھ رہے تھے، کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بیمار پڑ جاتا ہے، اور ابھی تم اسے دولتمند دیکھ رہے تھے کہ فقیر و نادار ہو جاتا ہے۔ (426- صحت و ثروت)

کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسا کرے۔

مزید پڑھیے
حکمت (427) :  جو شخص اپنی حاجت کا گلہ کسی مرد مومن سے کرتا ہے۔ گویا اس نے اللہ کے سامنے اپنی شکایت پیش کی۔ اور جو کافر کے سامنے گلہ کرتا ہے گویا اس نے اپنے اللہ کی شکایت کی۔ (427- اللہ کا شکوہ) حکمت حکمت 427

حکمت (427) : جو شخص اپنی حاجت کا گلہ کسی مرد مومن سے کرتا ہے۔ گویا اس نے اللہ کے سامنے اپنی شکایت پیش کی۔ اور جو کافر کے سامنے گلہ کرتا ہے گویا اس نے اپنے اللہ کی شکایت کی۔ (427- اللہ کا شکوہ)

جو شخص اپنی حاجت کا گلہ کسی مرد مومن سے کرتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (428) :  ایک عید کے موقع پر فرمایا 
عید صرف اس کے لیے ہے جس کے روزوں کو اللہ نے قبول کیا ہو، اور اس کے قیام (نماز )کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہو، اور ہر وہ دن کہ جس میں اللہ کی معصیت نہ کی جائے عید کا دن ہے۔ (428- عید) حکمت حکمت 428

حکمت (428) : ایک عید کے موقع پر فرمایا عید صرف اس کے لیے ہے جس کے روزوں کو اللہ نے قبول کیا ہو، اور اس کے قیام (نماز )کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہو، اور ہر وہ دن کہ جس میں اللہ کی معصیت نہ کی جائے عید کا دن ہے۔ (428- عید)

ایک عید کے موقع پر فرمایا عید صرف اس کے لیے ہے جس کے روزوں کو اللہ نے قبول کیا…

مزید پڑھیے
حکمت (429) :  قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اللہ کی نافرمانی کر کے مال حاصل کیا ہو، اور اس کا وارث وہ شخص ہوا ہو جس نے اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا ہو کہ یہ تو اس مال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا، اور پہلا اس کی وجہ سے جہنم میں گیا۔ (429- حسرت و اندوہ) حکمت حکمت 429

حکمت (429) : قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اللہ کی نافرمانی کر کے مال حاصل کیا ہو، اور اس کا وارث وہ شخص ہوا ہو جس نے اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا ہو کہ یہ تو اس مال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا، اور پہلا اس کی وجہ سے جہنم میں گیا۔ (429- حسرت و اندوہ)

قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اللہ کی نافرمانی کر کے مال…

مزید پڑھیے
حکمت (430) :  لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھا نے والا اور دوڑ دھوپ میں سب سے زیادہ ناکام ہونے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن کو بوسیدہ کر ڈالا ہو۔ مگر تقدیر نے اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ نہ دیا ہو۔ لہٰذا وہ دنیا سے بھی حسرت لیے ہوئے گیا اور آخرت میں بھی اس کی پاداش کاسامنا کیا۔ (430- ناکام کوشش) حکمت حکمت 430

حکمت (430) : لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھا نے والا اور دوڑ دھوپ میں سب سے زیادہ ناکام ہونے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن کو بوسیدہ کر ڈالا ہو۔ مگر تقدیر نے اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ نہ دیا ہو۔ لہٰذا وہ دنیا سے بھی حسرت لیے ہوئے گیا اور آخرت میں بھی اس کی پاداش کاسامنا کیا۔ (430- ناکام کوشش)

لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن…

مزید پڑھیے
حکمت (431) :  رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے، موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے اور جو شخص آخرت کاخواستگار ہوتا ہے، دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے۔ (431- رزق و روزی) حکمت حکمت 431

حکمت (431) : رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے، موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے اور جو شخص آخرت کاخواستگار ہوتا ہے، دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے۔ (431- رزق و روزی)

رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے