حکمت
حکمت 22
حکمت (22) : جسے اس کے اعمال پیچھے ہٹا دیں، اسے حسب و نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔ (22- عمل اور نسب)
جسے اس کے اعمال پیچھے ہٹا دیں، اسے حَسَب و نَسَب آگے نہیں بڑھا سکتا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 23
حکمت (23) : کسی مضطرب کی داد فریاد سننا، اور مصیبت زدہ کو مصیبت سے چھٹکارا دلانا بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ ہے۔ (23- دستگیری)
کسی مضطرب کی داد فریاد سننا، اور مصیبت زدہ کو مصیبت سے چھٹکارا دلانا بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 24
حکمت (24) : اے آدم علیہ السّلام کے بیٹے جب تو دیکھے کہ اللہ تجھے پے درپے نعمتیں دے رہا ہے اور تو اس کی نافرمانی کر رہا ہے تو اس سے ڈرتے رہنا۔ (24- مہلت)
اے آدَم علیہ السّلام کے بیٹے جب تو دیکھے کہ اللہ تجھے پے در پے نعمتیں دے رہا ہے تو…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 25
حکمت (25) : جب کسی نے بھی کوئی بات دل میں چھپا کہ رکھنا چاہی تو وہ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلے ہوئے الفاظ اور چہرہ کے آثار سے نمایاں ضرور ہو جاتی ہے۔ (25- بات چھپ نہیں سکتی)
دل کی باتیں زبان اور چہرے کے آثار سے ظاہر ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 26
حکمت (26) : مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے، چلتے پھرتے رہو۔ (26- ہمت نہ چھوڑو)
مَرَض میں جب تَک ہَمَّت سَاتھ دے چَلتے پھِرتے رہو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 27
حکمت (27) : بہترین زُہد، زُہد کا مَخفی رکھنا ہے۔ (27- اخفائے زہد)
بہترین زُہد، زُہد کا مَخفی رکھنا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 28
حکمت (28) : جب تم (دنیا کو) پیٹھ دکھا رہے ہو، اور موت تمہاری طرف رخ کیے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی؟ (28- موت)
جب تم (دنیا کو) پیٹھ دکھا رہے ہو، اور موت تمہاری طرف رخ کیے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 29
حکمت (29) : ڈرو !ڈرو !اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے، کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے۔ (29- پردہ پوشی)
ڈرو! ڈرو! اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے، کہ گویا تمہیں بخش…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 30
حکمت (30) : ایمان چار ستونوں پر قائم ہے۔صبر ،یقین ،عدل اور جہاد۔ پھر صبر کی چار شاخیں ہیں۔اشتیاق، خوف ، دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار۔اس لیے کہ جب جنت کا مشتاق ہو گا ،وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جب دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جب دنیا سے بے اعتنائی اختیار کرے گا ،وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا ،وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا۔اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں۔روشن نگاہی ،حقیقت رسی ،عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ۔چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی۔اور جس کے لیے علم و عمل آشکار ہو جائے گا ،وہ عبرت سے آشنا ہو گا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں ،تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری۔چنانچہ جس نے غور و فکر کیا ،وہ علم کی گہرائیوں میں اترا ،وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہو کر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی۔اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی اور جہاد کی بھی چار شاخیں ہیں۔امر بالمعروف ،نہی عن المنکر ،تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بد کرداروں سے نفرت۔چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا ،اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی ،اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا ،اس نے اپنا فرض ادا کر دیا اور جس نے فاسقوں کو برا سمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا۔ (30- ایمان)
ایمان چَار سُتونوں پر قَائِم ہے: صَبر، یَقین، عَدل اور جِہاد۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 31
حکمت (31) : کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے۔ حد سے بڑھی ہوئی کاوش، جھگڑا، لُو پن، کج روی اور اختلاف۔ تو جب بے جا تعمق و کاوش کرتا ہے، وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جب جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے، وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جب حق سے منہ موڑ لیتا ہے، وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جب حق کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ نکلنے کی راہ اس کے لیے تنگ ہو جاتی ہے۔ شک کی بھی چار شاخیں ہیں، کٹھ حجتی، خوف، سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی۔ چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑے کو شیوہ بنا لیا، اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا، وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جب شک و شبہہ میں سرگرداں رہتا ہے، اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کر دیا، وہ دوجہاں میں تباہ و برباد ہوا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ ہم نے طوالت کے خوف اور اس خیال سے کہ اصل مقصد جب اس بات کا ہے فوت نہ ہو، بقیہ کلام کو چھوڑ دیا ہے۔ (31- کفر)
کُفْر بھی چَار سُتُونوں پر قَائِم ہے۔ حَد سے بَڑھی ہوئی کَاوِش، جھَگڑا لُو پَن، کَج رَوِی اور اختِلاف۔
مزید پڑھیے
