حکمت
حکمت 32
حکمت (32) : نیک کام کرنے والا خود اس کام سے بہتر اور برائی کا مرتکب ہونے والا خود اس برائی سے بدتر ہے۔ (32- نیکی و بدی)
نیک کام کرنے والا خود اس کام سے بہتر ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 33
حکمت (33) : سخاوت کرو، لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جزا رسی کرو، مگر بخل نہیں۔ (33- میانہ روی)
سخاوت کرو، لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جزا رسی کرو، مگر بخل نہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 34
حکمت (34) : بہتر ین دولت مندی یہ ہے کہ تمناؤں کو ترک کرے۔ (34- ترکِ آرزو)
بہترین دولت مَند ی یہ ہے کہ تَمَنّاؤں کو تَرک کرے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 35
حکمت (35) : جب شخص لوگوں کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے نہیں۔ (35- مرنجان مرنج)
جب شخص لوگوں کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے نہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 36
حکمت (36) : جب نے طول طویل امیدیں باندھیں، اس نے اپنے اعمال بگاڑ لیے۔ (36- طول اَمل)
جس نے طُول طَویل اُمیدیں باندھیں، اُس نے اپنے اَعمال بگاڑ لیے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 37
حکمت (37) : امیرالمومنین علیہ السّلام سے شام کی جانب روانہ ہوتے وقت مقام انبار کے زمینداروں کا سامنا ہوا، تو وہ آپ کو دیکھ کر پیادہ ہو گئے اور آپ کے سامنے دوڑنے لگے۔ آپ نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا عام طریقہ ہے۔ جس سے ہم اپنے حکمرانوں کی تعظیم بجا لاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ خدا کی قسم اس سے تمہارے حکمرانوں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا، البتہ تم اس دنیا میں اپنے کو زحمت و مشقت میں ڈالتے ہو، اور آخرت میں اس کی وجہ سے بدبختی مول لیتے ہو، وہ مشقت کتنی گھاٹے والی ہے جس کا نتیجہ سزائے اخروی ہو، اور وہ راحت کتنی فائدہ مند ہے جس کا نتیجہ دوزخ سے امان ہو۔ (37- تعظیم کا ایک طریقہ)
امیرالمؤمنین علیہ السّلام نے فرمایا کہ مشقّت کا نتیجہ سزائے آخرتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 38
حکمت (38) : اپنے فرزند حضرت حسن علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے چار، اور پھر چار باتیں یاد رکھو۔ ان کے ہوتے ہوئے جب کچھ کرو گے، وہ تمہیں ضرر نہ پہنچائے گا۔ سب سے بڑی ثروت عقل و دانش ہے اور سب سے بڑی ناداری حماقت و بے عقلی ہے اور سب سے بڑی وحشت غرور خود بینی ہے اور سب سے بڑا جوہر ذاتی حسن اخلاق ہے۔ (38- امام حسن ؈ کو نصیحت)
اپنے فرزند حضرت حسن علیہ السلام سے فرمایا: مجھ سے چار، اور پھر چار باتیں یاد رکھو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 39
حکمت (39) : مستحبات سے قربِ الٰہی نہیں حاصل ہوسکتا، جب کہ وہ واجبات میں سدِ راہ ہوں۔ (39- فرائض کی اہمیت)
مستحبات سے قربِ الٰہی نہیں حاصل ہوسکتا، جب کہ وہ واجبات میں سدِ راہ ہوں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 40
حکمت (40) : عَقْل مَنْد کی زَبان اس کے دِل کے پِیچھے ہے اور بے وَقُوف کا دِل اس کی زَبان کے پِیچھے ہے۔ (40- دانا و نادان)
عَقْل مَنْد کی زَبان اس کے دِل کے پِیچھے ہے اور بے وَقُوف کا دِل اس کی زَبان کے پِیچھے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 41
حکمت (41) : یہی مطلب دوسرے لفظوں میں بھی حضرت سے مروی ہے اور وہ یہ کہ »بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے«۔بہر حال ان دونوں جملوں کا مقصد ایک ہے۔ (41- عاقل و احمق)
بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے۔
مزید پڑھیے
