Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 268
تفصیلی وضاحت — حکمت (268) : اپنے دوست سے بس ایک حد تک محبت کرو کیونکہ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن ہو جائے اور دشمن کی دشمنی بس ایک حد تک رکھو ہوسکتا ہے کہ کسی دن وہ تمہارا دوست ہو جائے۔ (268- دوستی و دشمنی میں احتیاط)
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور انسانی تعلقات کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 267
تفصیلی وضاحت — حکمت (267) : اے فرزند آدم علیہ السّلام ! اس دن کی فکر کا بار جو ابھی آیا نہیں، آج کے اپنے دن پر نہ ڈال کہ جو آ چکا ہے۔ اس لیے کہ اگر ایک دن بھی تیری عمر کا باقی ہو گا، تو اللہ تیرا رزق تجھ تک پہنچائے گا۔ (267- فکر فردا)
حکمت (267) میں امام علی علیہ السلام انسانیت کو نصیحت کرتے ہیں کہ ہمیں آج کے دن کی اہمیت کو…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 266
تفصیلی وضاحت — حکمت (266) : حضرت سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایمان کی تعریف کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کل میرے پاس آنا تاکہ میں تمہیں اس موقع پر بتاؤں کہ دوسرے لوگ بھی سن سکیں کہ اگر تم بھول جاؤ تو دوسرے یاد رکھیں۔ اس لیے کلام بھڑکے ہوئے شکار کے مانند ہوتا ہے کہ اگر ایک کی گرفت میں آ جاتا ہے اور دوسرے کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ (سید رضی کہتے ہیں کہ)حضرت نے اس کے بعد جواب دیا وہ آپ کا یہ ارشا د تھا کہ »الایمان علی اربع شعب «( ایمان کی چار قسمیں ہیں ) (266- ایک سائل کے جواب میں)
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی تعلیمات میں سے ایک اہم پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 265
تفصیلی وضاحت — حکمت (265) : جب حکماء کا کلام صحیح ہو تو وہ دوا ہے اور غلط ہو تو سراسر مرض ہے۔ (265- کلام حکماء)
حکمت 265 میں امام علی (علیہ السلام) نے حکما کے کلام کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 264
تفصیلی وضاحت — حکمت (264) : دوسروں کے پسماندگان سے بھلائی کرو۔ تاکہ تمہارے پسماند گان پر بھی نظر شفقت پڑے۔ (264- حُسنِ سلوک)
حکمت (264) میں امام علی (علیہ السلام) ہمیں دوسروں کے پسماندگان سے بھلائی کرنے کی نصیحت کرتے ہیں۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 263
تفصیلی وضاحت — حکمت (263) : باد شاہ کا ندیم و مصاحب ایسا ہے جیسے شیر پر سوار ہونے والا کہ اس کے مرتبہ پر رشک کیا جاتا ہے وہ اپنے موقف سے خوب واقف ہے۔ (263- مصاحب سلطان)
حکمت (263) میں امام علی (علیہ السلام) نے بادشاہ کے ندیم و مصاحب کی حیثیت کو شیر پر سوار ہونے…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 262
تفصیلی وضاحت — حکمت (262) : بیان کیا گیا ہے کہ حارث ابن حوط حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ کیا آپ کے خیال میں اس کا گمان بھی ہوسکتا ہے کہ اصحاب جمل گمراہ تھے؟ حضرت نے فرمایا کہ اے حارث !تم نے نیچے کی طرف دیکھا اوپر کی طر ف نگا ہ نہیں ڈالی، جس کے نتیجہ میں تم حیران و سر گردان ہو گئے ہو، تم حق ہی کو نہیں جانتے کہ حق والوں کو جانو اور باطل ہی کو نہیں پہچانتے کہ باطل کی راہ پر چلنے والوں کو پہچانو۔ حارث نے کہا کہ میں سعد ابن مالک اور عبداللہ ابن عمر کے ساتھ گوشہ گزیں ہو جاؤں گا۔ حضرت نے فرمایا کہ سعد اور عبداللہ ابن عمر نے حق کی مدد کی، اور نہ باطل کی نصرت سے ہاتھ اٹھایا۔ (262- حارث ابن حُوط)
حکمت (262) میں حارث ابن حوط کا ذکر ہے جو حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 261
تفصیلی وضاحت — حکمت (261) : جب امیرالمومنین علیہ السلام کو یہ اطلاع ملی کہ معاویہ کے ساتھیوں نے (شہر)انبار پر دھاوا کیا تو آپ بنفس نفیس پیادہ پا چل کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ نخیلہ تک پہنچ گئے، اتنے میں لوگ بھی آپ کے پاس پہنچ گئے اور کہنے لگے یا امیر المومنین علیہ السّلام ! ہم دشمن سے نپٹ لیں گے۔ آپ کے تشریف لے جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے سے تو میرا بچاؤ کر نہیں سکتے دوسروں سے کیا بچاؤ کرو گے۔ مجھ سے پہلے رعایا اپنے حاکموں کے ظلم و جور کی شکایت کیا کرتی تھی مگر میں آج اپنی رعیت کی زیادتیوں کا گلہ کرتا ہوں، گویا کہ میں رعیت ہوں اور وہ حاکم اور میں حلقہ بگوش ہوں اور وہ فرمانروا۔ (سید رضی کہتے ہیں کہ )جب امیرالمومنین علیہ السلام نے ایک طویل کلام کے ذیل میں کہ جس کا منتخب حصہ ہم خطب میں درج کر چکے ہیں یہ کلمات ارشاد فرمائے توآ پ کے اصحاب میں سے دو شخص اٹھ کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ یا امیر المومنین علیہ السّلام مجھے اپنی ذات اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر اختیار نہیں تو آپ ہمیں حکم دیں ہم اسے بجالائیں گے جس پر حضرت نے فرمایا کہ میں جو چاہتا ہوں وہ تم دو آدمیوں سے کہاں سرانجام پا سکتا ہے۔ (261- بے وفا ساتھی)
حکمت (261) کی یہ عبارت امام علی علیہ السلام کی قیادت اور ان کی عوامی خدمت کے عزم کی عکاسی…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 260
تفصیلی وضاحت — حکمت (260) : کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جو اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اور اپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔ سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام پہلے بھی گذر چکا ہے مگر یہاں اس میں کچھ عمدہ اور مفید اضافہ ہے۔ (260- ابتلا و آزمائش)
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور حکمت کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 259
تفصیلی وضاحت — حکمت (259) : غداروں سے وفا کرنا اللہ کے نزدیک غداری ہے اور غداروں کے ساتھ غداری کرنا اللہ کے نزدیک عین وفا ہے۔ (259- وفا و غداری)
حکمت (259) میں امام علی علیہ السلام نے وفا اور غداری کے بارے میں ایک عمیق اور اہم پیغام دیا…
