Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

497 اندراجات
حکمت (2) : جب نے طمع کو اپنا شعار بنایا، اس نے اپنے کو سبک کیا اور جب نے اپنی پریشان حالی کا اظہار کیا وہ ذلت پر آمادہ ہو گیا، اور جب نے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھا، اس نے خود اپنی بے وقعتی کا سامان کر لیا۔ (2- ذلتِ نفس کے اسباب) حکمت حکمت 2

حکمت (2) : جب نے طمع کو اپنا شعار بنایا، اس نے اپنے کو سبک کیا اور جب نے اپنی پریشان حالی کا اظہار کیا وہ ذلت پر آمادہ ہو گیا، اور جب نے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھا، اس نے خود اپنی بے وقعتی کا سامان کر لیا۔ (2- ذلتِ نفس کے اسباب)

جس نے طمع کو اپنا شعار بنایا، اس نے اپنے کو سبک کیا۔

مزید پڑھیے
حکمت (18) : جب شخص امید کی راہ میں بگ ٹُٹ دوڑتا ہے وہ موت سے ٹھوکر کھاتا ہے۔ (18- طول اَمل) حکمت حکمت 18

حکمت (18) : جب شخص امید کی راہ میں بگ ٹُٹ دوڑتا ہے وہ موت سے ٹھوکر کھاتا ہے۔ (18- طول اَمل)

جب شخص امید کی راہ میں بگ ٹُٹ دوڑتا ہے وہ موت سے ٹھوکر کھاتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (3) :  بخل ننگ و عار ہے اور بزدلی نقص و عیب ہے اور غربت مردِ زیرک و دانا کی زبان کو دلائل کی قوت دکھانے سے عاجز بنا دیتی ہے اور مفلس اپنے شہر میں رہ کر بھی غریبِ الوطن ہوتا ہے اور عجز و درماندگی مصیبت ہے اور صبر شکیبائی شجاعت ہے اور دنیا سے بے تعلقی بڑی دولت ہے اور پرہیزگاری ایک بڑی سپر ہے۔ (3- عیوب و محاسن) حکمت حکمت 3

حکمت (3) : بخل ننگ و عار ہے اور بزدلی نقص و عیب ہے اور غربت مردِ زیرک و دانا کی زبان کو دلائل کی قوت دکھانے سے عاجز بنا دیتی ہے اور مفلس اپنے شہر میں رہ کر بھی غریبِ الوطن ہوتا ہے اور عجز و درماندگی مصیبت ہے اور صبر شکیبائی شجاعت ہے اور دنیا سے بے تعلقی بڑی دولت ہے اور پرہیزگاری ایک بڑی سپر ہے۔ (3- عیوب و محاسن)

بَخْل نَنگ و عار ہے اور بَزدلی نَقْص و عَیب ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (19) :  بامروت لوگوں کی لغزشوں سے درگزر کرو۔(کیونکہ )ان میں سے جب بھی لغزش کھا کر گرتا ہے تو اللہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھا لیتا ہے۔ (19- پاس مروّت) حکمت حکمت 19

حکمت (19) : بامروت لوگوں کی لغزشوں سے درگزر کرو۔(کیونکہ )ان میں سے جب بھی لغزش کھا کر گرتا ہے تو اللہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھا لیتا ہے۔ (19- پاس مروّت)

بامروت لوگوں کی لغزشوں سے درگزر کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (4) : تسلیم و رضا بہترین مصاحب اور علم شریف ترین میراث ہے اور علمی و عملی اوصاف خلعت ہیں اور فکر صاف شفاف آئینہ ہے۔ (4- علم وادب) حکمت حکمت 4

حکمت (4) : تسلیم و رضا بہترین مصاحب اور علم شریف ترین میراث ہے اور علمی و عملی اوصاف خلعت ہیں اور فکر صاف شفاف آئینہ ہے۔ (4- علم وادب)

تسلیم و رضا بہترین مصاحب اور علم شریف ترین میراث ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (20) : خوف کا نتیجہ ناکامی اور شرم کا نتیجہ محرومی ہے اور فرصت کی گھڑیاں (تیز رو) ابر کی طرح گزر جاتی ہیں۔ لہٰذا بھلائی کے ملے ہوئے موقعوں کو غنیمت جانو۔ (20- شرم و حیا) حکمت حکمت 20

حکمت (20) : خوف کا نتیجہ ناکامی اور شرم کا نتیجہ محرومی ہے اور فرصت کی گھڑیاں (تیز رو) ابر کی طرح گزر جاتی ہیں۔ لہٰذا بھلائی کے ملے ہوئے موقعوں کو غنیمت جانو۔ (20- شرم و حیا)

خوف کا نتیجہ ناکامی اور شرم کا نتیجہ محرومی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (5) : عَقْلَمَنْد کا سِینَہ اس کے بھیدوں کا مَخْزَن ہوتا ہے اور کَشَادَہ رُوئی مَحَبَّت و دوستی کا پھَندَا ہے اور تَحَمُّل و بَرْد باری عَیبوں کا مَدْفَن ہے۔ (یا اس فقرہ کے بجائے حَضْرَت نے یہ فرمایا کہ) صُلح صَفَائی عَیبوں کو ڈھانپنے کا ذَریعَہ ہے۔ (5- چند اوصاف) حکمت حکمت 5

حکمت (5) : عَقْلَمَنْد کا سِینَہ اس کے بھیدوں کا مَخْزَن ہوتا ہے اور کَشَادَہ رُوئی مَحَبَّت و دوستی کا پھَندَا ہے اور تَحَمُّل و بَرْد باری عَیبوں کا مَدْفَن ہے۔ (یا اس فقرہ کے بجائے حَضْرَت نے یہ فرمایا کہ) صُلح صَفَائی عَیبوں کو ڈھانپنے کا ذَریعَہ ہے۔ (5- چند اوصاف)

عقلمند کا سینہ اس کے بھیدوں کا مخزن ہوتا ہے اور کشادہ روئی محبت و دوستی کا پھندا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (6) : جب شخص اپنے کو بہت پسند کرتا ہے وہ دوسروں کو ناپسند ہو جاتا ہے اور صدقہ کامیاب دوا ہے، اور دنیا میں بندوں کے جو اعمال ہیں وہ آخرت میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ (6- خود پسندی) حکمت حکمت 6

حکمت (6) : جب شخص اپنے کو بہت پسند کرتا ہے وہ دوسروں کو ناپسند ہو جاتا ہے اور صدقہ کامیاب دوا ہے، اور دنیا میں بندوں کے جو اعمال ہیں وہ آخرت میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ (6- خود پسندی)

جب شخص اپنے کو بہت پسند کرتا ہے وہ دوسروں کو ناپسند ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (7) :  یہ انسان تعجب کے قابل ہے کہ وہ چربی سے دیکھتا ہے اور گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے اور ہڈی سے سنتا ہے اور ایک سوراخ سے سانس لیتا ہے۔ (7- انسانی حاسے) حکمت حکمت 7

حکمت (7) : یہ انسان تعجب کے قابل ہے کہ وہ چربی سے دیکھتا ہے اور گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے اور ہڈی سے سنتا ہے اور ایک سوراخ سے سانس لیتا ہے۔ (7- انسانی حاسے)

یہ اِنسانِ تعجب کے قابل ہے کہ وہ چربی سے دیکھتا ہے اور گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (8) : جب دنیا (اپنی نعمتوں کو لے کر) کسی کی طرف بڑھتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے عاریت دے دیتی ہیں۔ اور جب اس سے رخ موڑ لیتی ہے، تو خود اس کی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہیں۔ (8- اقبال و ادبار) حکمت حکمت 8

حکمت (8) : جب دنیا (اپنی نعمتوں کو لے کر) کسی کی طرف بڑھتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے عاریت دے دیتی ہیں۔ اور جب اس سے رخ موڑ لیتی ہے، تو خود اس کی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہیں۔ (8- اقبال و ادبار)

جب دُنیا (اپنی نعمتوں کو لے کر) کسی کی طرف بڑھتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے عاریت دے…

مزید پڑھیے