خطبہ خطبہ : 184

خطبہ (184) : مسائلِ الہیات کے بنیادی اصول کا تذکرہ (184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ)

خطبہ (۱۸۴)
یہ خطبہ توحید کے متعلق ہے
اور علم و معرفت کی اتنی بنیادی باتوں پر مشتمل ہے کہ جن پر کوئی دوسرا خطبہ حاوی نہیں ہے:
جس نے اسے مختلف کیفیتوں سے متصف کیا اس نے اسے یکتا نہیں سمجھا، جس نے اس کا مثل ٹھہرایا اس نے اس کی حقیقت کو نہیں پایا، جس نے اسے کسی چیز سے تشبیہ دی اس نے اس کا قصد نہیں کیا، جس نے اسے قابل اشارہ سمجھا اور اپنے تصور کا پابند بنایا اس نے اس کا رخ نہیں کیا۔ جو اپنی ذات سے پہچانا جائے وہ مخلوق ہو گا اور جو دوسرے کے سہارے پر قائم ہو وہ علت کا محتاج ہو گا۔
وہ فاعل ہے بغیر آلات کو حرکت میں لائے۔ وہ ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا ہے، بغیر فکر کی جولانی کے۔ وہ تونگر و غنی ہے بغیر دوسروں سے استفادہ کئے۔ نہ زمانہ اس کا ہم نشین اور نہ آلات اس کے معاون و معین ہیں۔ اس کی ہستی زمانہ سے پیشتر، اس کا وجود عدم سے سابق اور اس کی ہمیشگی نقطۂ آغاز سے بھی پہلے سے ہے۔
اس نے جو احساس و شعور کی قوتوں کو ایجاد کیا اسی سے معلوم ہوا کہ وہ خود حواس و آلات شعور نہیں رکھتا اور چیزوں میں ضدیت قرار دینے سے معلوم ہوا کہ اس کی ضد نہیں ہو سکتی اور چیزوں کو جو اس نے ایک دوسرے کے ساتھ رکھا ہے اسی سے معلوم ہوا کہ اس کا کوئی ساتھی نہیں۔ اس نے نور کو ظلمت کی، روشنی کو اندھیرے کی، خشکی کو تری کی اور گرمی کو سردی کی ضد قرار دیا ہے۔ وہ ایک دوسرے کی دشمن چیزوں کو ایک مرکز پر جمع کرنے والا، متضاد چیزوں کو ملانے والا، ایک دوسرے سے دور کی چیزوں کو باہم قریب لانے والا اور باہم پیوستہ چیزوں کو الگ الگ کرنے والا ہے۔
وہ کسی حد میں محدود نہیں اور نہ گننے سے شمار میں آتا ہے۔ جسمانی قویٰ تو جسمانی ہی چیزوں کو گھیرا کرتے ہیں اور اپنے ہی ایسوں کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔ انہیں لفظ ’’منذ‘‘ نے قدیم ہو نے سے روک دیا ہے اور لفظِ ’’قد‘‘ نے ہمیشگی سے منع کر دیا ہے اور لفظ ’’لولا‘‘ [۱] نے کمال سے ہٹا دیا ہے۔ انہی اعضاء و جوارح اور حواس و مشاعر کے ذریعہ ان کا موجد عقلوں کے سامنے جلوہ گر ہوا ہے اور ان ہی کے تقاضوں کے سبب سے آنکھوں کے مشاہدہ سے بری ہو گیا ہے۔
حرکت و سکون اس پر طاری نہیں ہو سکتے۔ بھلا جو چیز اس نے مخلوقات پر طاری کی ہو، وہ اس پر کیونکر طاری ہو سکتی ہے؟ اور جو چیز پہلے پہل اسی نے پیدا کی ہے وہ اس کی طرف عائد کیونکر ہو سکتی ہے؟ اور جس چیز کو اس نے پیدا کیا ہو وہ اس میں کیونکر پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس کی ذات تغیر پذیر قرار پائے گی اور اس کی ہستی قابل تجزیہ ٹھہرے گی اور اس کی حقیقت ہمیشگی و دوام سے علیحدہ ہو جائے گی۔ اگر اس کیلئے سامنے کی جہت ہوتی تو پیچھے کی سمت بھی ہوتی اور اگر اس میں کمی آتی تو وہ اس کی تکمیل کا محتاج ہوتا اور اس صورت میں اس کے اندر مخلوق کی علامتیں آ جاتیں، اور جبکہ ساری چیزیں اس کی ہستی کی دلیل تھیں اس صورت میں وہ خود کسی خالق کے وجود کی دلیل بن جاتا۔ حالانکہ وہ اس امر مسلّمہ کی رو سے کہ اس میں مخلوق کی صفتوں کا ہونا ممنوع ہے، اس سے بری ہے کہ اس میں وہ چیز اثر انداز ہو جو ممکنات میں اثر انداز ہوتی ہے۔ وہ ادلتا بدلتا نہیں، نہ زوال پذیر ہوتا ہے، نہ غروب ہونا اس کیلئے روا ہے۔
اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، ورنہ محدود ہو کر رہ جائے گا۔ وہ آل اولاد رکھنے سے بالاتر اور عورتوں کو چھونے سے پاک ہے۔ تصوّرات اسے پا نہیں سکتے کہ اس کا اندازہ ٹھہرا لیں اور عقلیں اس کا تصور نہیں کر سکتیں کہ اس کی کوئی صورت مقرر کر لیں، حواس اس کا ادراک نہیں کر سکتے کہ اسے محسوس کر لیں اور ہاتھ اس سے مس نہیں ہو سکتے کہ اسے چھو لیں۔
وہ کسی حال میں بدلتا نہیں اور نہ مختلف حالتوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ نہ شب و روز اسے کہنہ کرتے ہیں، نہ روشنی و تاریکی اسے متغیر کرتی ہے۔ اسے اجزا و جوارح، صفات میں سے کسی صفت اور ذات کے علاوہ کسی بھی چیز اور حصوں سے متصف نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیلئے کسی حد اور اختتام اور زوال پذیری اور انتہا کو کہا نہیں جا سکتا اور نہ یہ کہ چیزیں اس پر حاوی ہیں کہ خواہ اسے بلند کریں اور خواہ پست، یا چیزیں اسے اٹھائے ہوئے ہیں کہ چاہے اسے اِدھر اُدھر موڑیں اور چاہے اسے سیدھا رکھیں۔ نہ وہ چیزوں کے اندر ہے اور نہ ان سے باہر۔
وہ خبر دیتا ہے بغیر زبان اور تالو جبڑے کی حرکت کے، وہ سنتا ہے بغیر کانوں کے سوراخوں اور آلات سماعت کے، وہ بات کرتا ہے بغیر تلفظ کے، وہ ہر چیز کو یاد رکھتا ہے بغیر یاد کرنے کی زحمت کے، وہ ارادہ کرتا ہے بغیر قلب اور ضمیر کے، وہ دوست رکھتا ہے اور خوشنود ہوتا ہے بغیر رقت طبع کے، وہ دشمن رکھتا ہے اور غضبناک ہوتا ہے بغیر غم و غصہ کی تکلیف کے۔
جسے پیدا کرنا چاہتا ہے اسے ’’ہو جا!‘‘ کہتا ہے جس سے وہ ہو جاتی ہے، بغیر کسی ایسی آواز کے جو کان (کے پردوں) سے ٹکرائے اور بغیر ایسی صدا کے جو سنی جا سکے۔ بلکہ اللہ سبحانہ کا کلام بس اس کا ایجاد کردہ فعل ہے اور اس طرح کا کلام پہلے سے موجود نہیں ہوسکتا اور اگر وہ قدیم ہوتا تو دوسرا خدا ہوتا۔
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عدم کے بعد وجود میں آیا ہے کہ اس پر حادث صفتیں منطبق ہو نے لگیں اور اس میں اور مخلوقات میں کوئی فرق نہ رہے اور نہ اسے اس پر کوئی فوقیت و برتری رہے کہ جس کے نتیجہ میں خالق و مخلوق ایک سطح پر آ جائیں اور صانع و مصنوع برابر ہو جائیں۔
اس نے مخلوقات کو بغیر کسی ایسے نمونہ کے پیدا کیا کہ جو اس سے پہلے کسی دوسرے نے قائم کیا ہو اور اس کے بنانے میں اس نے مخلوقات میں سے کسی ایک سے بھی مدد نہیں چاہی۔ وہ زمین کو وجود میں لایا اور بغیر اس کام میں الجھے ہوئے اسے برابر روکے تھامے رہا اور بغیر کسی چیز پر ٹکائے ہوئے اسے برقرار کر دیا اور بغیر ستونوں کے اس نے قائم اور بغیر کھمبوں کے اسے بلند کیا، کجی اور جھکاؤ سے اسے محفوظ کر دیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرنے اور پھٹنے سے اسے بچائے رہا۔ اس کے پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑا اور چٹانوں کو مضبوطی سے نصب کیا، اس کے چشموں کو جاری اور پانی کی گزر گاہوں کو شگافتہ کیا۔ اس نے جو بنایا اس میں کوئی سستی نہ آئی اور جسے مضبوط کیا اس میں کمزوری نہیں پیدا ہوئی۔
وہ اپنی عظمت و شاہی کے ساتھ زمین پر غالب، علم و دانائی کی بدولت اس کے اندرونی رازوں سے واقف اور اپنے جلال و عزت کے سبب سے اس کی ہر چیز پر چھایا ہوا ہے۔ وہ جس چیز کا اس سے خواہاں ہوتا ہے وہ اس کی دسترس سے باہر نہیں ہو سکتی اور نہ اس سے روگردانی کرکے اس پر غالب آسکتی ہے اور نہ کوئی تیزرَو اس کے قبضہ سے نکل سکتا ہے کہ اس سے بڑھ جائے اور نہ وہ کسی مالدار کا محتاج ہے کہ وہ اسے روزی دے۔
تمام چیزیں اس کے سامنے عاجز اور اس کی بزرگی و عظمت کے آگے ذلیل و خوار ہیں۔ اس کی سلطنت (کی وسعتوں) سے نکل کر کسی اور طرف بھاگ جانے کی ہمت نہیں رکھتیں کہ اس کے جود و عطا سے (بے نیاز) اور اس کی گرفت سے اپنے کو محفوظ سمجھ لیں۔ نہ اس کا کوئی ہمسر ہے جو اس کے برابر اُتر سکے، نہ اس کا کوئی مثل و نظیر ہے جو اُس سے برابری کر سکے۔ وہی ان چیزوں کو وجود کے بعد فنا کرنے والا ہے، یہاں تک کہ موجود چیزیں ان چیزوں کی طرح ہو جائیں کہ جو کبھی تھیں ہی نہیں اور یہ دنیا کو پیدا کرنے کے بعد نیست و نابود کرنا اس کے شروع شروع وجود میں لانے سے زیادہ تعجب خیز (و دشوار) نہیں اور کیونکر ایسا ہوسکتا ہے جبکہ تمام حیوان، وہ پرندے ہوں یا چوپائے، رات کو گھروں کی طرف پلٹ کر آنے والے ہوں یا چراگاہوں میں چرنے والے، جس نوع کے بھی ہوں اور جس قسم کے ہوں وہ اور تمام آدمی، کودن و غبی صنف سے ہوں یا زیرک و ہوشیار، سب مل کر اگر ایک مچھر کو پیدا کرنا چاہیں تو وہ اس کے پیدا کرنے پر قادر نہ ہوں گے اور نہ یہ جان سکیں گے کہ اس کے پیدا کرنے کی کیا صورت ہے اور اس جاننے کے سلسلہ میں ان کی عقلیں حیران و سرگرداں اور قوتیں عاجز و درماندہ ہو جائیں گی اور یہ جانتے ہوئے کہ وہ شکست خور دہ ہیں اور یہ اقرار کرتے ہوئے کہ وہ اس کی ایجاد سے درماندہ ہیں اور یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ وہ اس کے فنا کرنے سے بھی عاجز ہیں، خستہ و نامراد ہو کر پلٹ آئیں گے۔
بلا شبہ اللہ سبحانہ دنیا کے مٹ مٹا جانے کے بعد ایک اکیلا ہو گا، کوئی چیز اس کے ساتھ نہ ہو گی۔ جس طرح کہ دنیا کی ایجاد و آفرینش سے پہلے تھا، یونہی اس کے فنا ہو جانے کے بعد بغیر وقت و مکان اور ہنگام و زمان کے ہو گا۔ اس وقت مدتیں اور اوقات سال اور گھڑیاں سب نابود ہوں گی سوائے اس خدائے واحد و قہار کے جس کی طرف تمام چیزوں کی باز گشت ہے، کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ان کی آفرینش کی ابتدا ان کے اختیار و قدرت سے باہر تھی اور ان کا فنا ہونا بھی ان کی روک ٹوک کے بغیر ہو گا۔اگر ان کو انکار پر قدرت ہوتی تو ان کی زندگی بقا سے ہمکنار ہوتی۔
جب اس نے کسی چیز کو بنایا تو اس کے بنانے میں اسے کوئی دشواری پیش نہیں آئی اور نہ جس چیز کو اس نے خلق و ایجاد کیا اس کی آفرینش نے اسے خستہ و درماندہ کیا۔ اس نے اپنی سلطنت (کی بنیادوں) کو استوار کرنے اور(مملکت کے) زوال اور(عزت کے) انحطاط کے خطرات (سے بچنے ) اور کسی جمع جتھے والے حریف کے خلاف مدد حاصل کرنے اور کسی حملہ آور غنیم سے محفوظ رہنے اور ملک و سلطنت کا دائرہ بڑھانے اور کسی شریک کے مقابلہ میں اپنی کثرت پر اترانے کیلئے ان چیزوں کو پیدا نہیں کیا اور نہ اس لئے کہ اُس نے (تنہائی کی) وحشت سے(گھبرا کر) یہ چاہا ہو کہ ان چیزوں سے جی لگائے، پھر وہ ان چیزوں کو بنانے کے بعد فنا کر دے گا، اس لئے نہیں کہ ان میں ردّ و بدل کرنے اور ان کی دیکھ بھال رکھنے سے اسے دل تنگی لاحق ہوئی ہو اور نہ اس آسودگی و راحت کے خیال سے کہ جو (انہیں مٹا کر) اسے حاصل ہونے کی توقع ہو اور نہ اس وجہ سے کہ ان میں سے کسی چیز کا اس پر بوجھ ہو۔
اسے ان چیزوں کی طول طویل بقا آزردہ و دل تنگ نہیں بناتی کہ یہ انہیں جلدی سے فنا کر دينے کی اسے دعوت دے، بلکہ اللہ سبحانہ نے اپنے لطف و کرم سے ان کا بندوبست کیا ہے اور اپنے فرمان سے ان کی روک تھام کر رکھی ہے اور اپنی قدرت سے ان کو مضبوط بنایا ہے۔ پھر وہ ان چیزوں کو فنا کے بعد پلٹائے گا، نہ اس لئے کہ ان میں سے کسی چیز کی اسے احتیاج ہے اور ان کی مدد کا خواہاں ہے اور نہ تنہائی کی الجھن سے منتقل ہو کر دل بستگی کی حالت پیدا کرنے کیلئے اور جہالت و بے بصیرتی کی حالت سے واقفیت اور تجربات کی دنیا میں آنے کیلئے اور فقر و احتیاج سے دولت و فراوانی اور ذلت و پستی سے عزت و توانائی کی طرف منتقل ہونے کیلئے ان کو دوبارہ پیدا کرتا ہے۔