خطبہ (۲۱۶)
جب آپؑ طلحہ اور عبد الرحمٰن ابن عتاب ابن اسید کی طرف گزرے کہ جب وہ میدان جمل میں مقتول پڑے تھے تو فرمایا:
ابو محمد (طلحہ) اس جگہ گھربار سے دور پڑا ہے۔ خدا کی قسم! میں پسند نہیں کرتا تھا کہ قریش ستاروں کے نیچے (کھلے میدانوں میں) مقتول پڑے ہوں۔ میں نے عبد مناف کی اولاد سے (ان کے کئے کا) بدلہ لے لیا ہے، (لیکن) بنی جمح [۱] کے اکابر میرے ہاتھوں سے بچ نکلے ہیں۔ انہوں نے اس چیز کی طرف گردنیں اٹھائی تھیں جس کے وہ اہل نہ تھے، چنانچہ اس تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کی گردنیں توڑ دی گئیں۔
