خطبہ (۶۵)
انصار کے بارے میں
پیغمبر ﷺ کی رحلت کے بعد جب سقیفہ بنی ساعدہ کی خبریں امیرالمومنین علیہ السلام تک پہنچیں تو آپؑ نے دریافت فرمایا کہ: ’’انصار کیا کہتے تھے؟‘‘ لوگوں نے کہا کہ: وہ کہتے تھے کہ ایک ہم میں سے امیر ہو جائے اور ایک تم میں سے۔ حضرتؑ نے فرمایا کہ: ’’تم نے یہ دلیل کیوں نہ پیش کی کہ رسول اللہ ﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ انصار میں جو اچھا ہو اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور جو برا ہو اس سے درگزر کیا جائے‘‘۔ لوگوں نے کہا کہ اس میں ان کے خلاف کیا ثبوت ہے؟ آپؑ نے فرمایا کہ: ’’اگر حکومت و امارت ان کیلئے ہوتی تو پھر ان کے بارے میں دوسروں کو وصیت کیوں کی جاتی‘‘۔ پھر حضرتؑ نے پوچھا کہ: ’’قریش نے کیا کہا؟‘‘ لوگوں نے کہا کہ: انہوں نے شجرهٔ رسولؐ سے ہونے کی وجہ سے اپنے استحقاق پر استدلال کیا۔ تو حضرتؑ نے فرمایا کہ: ’’انہوں نے شجره ایک ہونے سے تو استدلال کیا، لیکن اس کے پھلوں کو ضائع و برباد کر دیا‘‘۔ [۱]
