حکمت

483 اندراجات
حکمت (158) :  اپنے بھائی کو شرمندہ احسان بنا کر سر زنش کرو اور لطف و کرم کے ذریعہ سے اس کے شر کو دور کرو۔ (158- بُرائی کا بدلہ بھلائی) حکمت حکمت 158

حکمت (158) : اپنے بھائی کو شرمندہ احسان بنا کر سر زنش کرو اور لطف و کرم کے ذریعہ سے اس کے شر کو دور کرو۔ (158- بُرائی کا بدلہ بھلائی)

اپنے بھائی کو شرمندہ احسان بنا کر سر زنش کرو اور لطف و کرم کے ذریعہ سے اس کے شر…

مزید پڑھیے
حکمت (143) : غم آدھا بڑھاپا ہے۔ (143- غم) حکمت حکمت 143

حکمت (143) : غم آدھا بڑھاپا ہے۔ (143- غم)

غم آدھا بُڑھاپا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (159) :  جو شخص بدنامی کی جگہوں پر اپنے کو لے جائے تو پھر اسے برا نہ کہے جو اس سے بد ظن ہو۔ (159- مواقع تہمت) حکمت حکمت 159

حکمت (159) : جو شخص بدنامی کی جگہوں پر اپنے کو لے جائے تو پھر اسے برا نہ کہے جو اس سے بد ظن ہو۔ (159- مواقع تہمت)

جو شخص بدنامی کی جگہوں پر اپنے کو لے جائے تو پھر اسے برا نہ کہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (128) : شروع سردی میں سردی سے احتیاط کرو اور آخر میں اس کا خیر مقدم کرو، کیونکہ سردی جسموں میں وہی کرتی ہے، جب وہ درختوں میں کرتی ہے کہ ابتدائی میں درختوں کو جھلس دیتی ہے، اور انتہا میں سرسبز و شاداب کرتی ہے۔ (128- بہار و خزاں میں احتیاط) حکمت حکمت 128

حکمت (128) : شروع سردی میں سردی سے احتیاط کرو اور آخر میں اس کا خیر مقدم کرو، کیونکہ سردی جسموں میں وہی کرتی ہے، جب وہ درختوں میں کرتی ہے کہ ابتدائی میں درختوں کو جھلس دیتی ہے، اور انتہا میں سرسبز و شاداب کرتی ہے۔ (128- بہار و خزاں میں احتیاط)

شُروعِ سَردی میں سَردی سے اِحتیاط کرو اور آخِر میں اس کا خیر مَقدَم کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (129) : اَللّٰہ کی عَظَمَت کا اَحساس تُمہاری نَظروں میں کائنات کو حَقیر و پَست کردے۔ (129- عظمتِ خالق) حکمت حکمت 129

حکمت (129) : اَللّٰہ کی عَظَمَت کا اَحساس تُمہاری نَظروں میں کائنات کو حَقیر و پَست کردے۔ (129- عظمتِ خالق)

اللہ کی عَظَمَت کا اَحساس تُمہاری نَظروں میں کائنات کو حَقیر و پَست کردے۔

مزید پڑھیے
حکمت (130) : صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ سے باہر قبرستان پر نظر پڑی تو فرمایا
اے وحشت افزا گھروں، اجڑے مکانوں اور اندھیری قبروں کے رہنے والو! اے خاک نشینو! اے عالم غربت کے ساکنوں، اے تنہائی اور الجھن میں بسر کرنے والو! تم تیز رو ہو جب ہم سے آگے بڑھ گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پر چل کر تم سے ملا چاہتے ہیں۔ اب صورت یہ ہے کہ گھروں میں دوسرے بس گئے ہیں، بیویوں سے اوروں نے نکاح کر لیے ہیں اور تمہارا مال و اسباب تقسیم ہو چکا ہے، یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے۔ اب تمہارے یہاں کی کیا خبر ہے۔
(پھر حضرت اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا) اگر انہیں بات کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ تمہیں بتائیں گے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ (130- مرنے والوں سے خطاب) حکمت حکمت 130

حکمت (130) : صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ سے باہر قبرستان پر نظر پڑی تو فرمایا اے وحشت افزا گھروں، اجڑے مکانوں اور اندھیری قبروں کے رہنے والو! اے خاک نشینو! اے عالم غربت کے ساکنوں، اے تنہائی اور الجھن میں بسر کرنے والو! تم تیز رو ہو جب ہم سے آگے بڑھ گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پر چل کر تم سے ملا چاہتے ہیں۔ اب صورت یہ ہے کہ گھروں میں دوسرے بس گئے ہیں، بیویوں سے اوروں نے نکاح کر لیے ہیں اور تمہارا مال و اسباب تقسیم ہو چکا ہے، یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے۔ اب تمہارے یہاں کی کیا خبر ہے۔ (پھر حضرت اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا) اگر انہیں بات کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ تمہیں بتائیں گے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ (130- مرنے والوں سے خطاب)

صَفّین سے پلَٹتے ہوئے کُوفہ سے باہَر قَبرِستان پر نَظَر پَڑی تو فَرمایا...

مزید پڑھیے
حکمت (131) :  ایک شخص کو دنیا کی برائی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا !اے دنیا کی برائی کرنے والے اس کے فریب میں مبتلا ہو نے والے !اور غلط سلط باتوں کے دھوکے میں آنے والے !تم اس پر گرویدہ بھی ہوتے ہو ،اور پھر اس کی مذمت بھی کرتے ہو۔کیا تم دنیا کو مجرم ٹھہرنے کا حق رکھتے ہو؟یا وہ تمہیں مجرم ٹھہرائے تو حق بجانب ہے ؟دنیا نے کب تمہارے ہوش وحواس سلب کئے اور کس بات سے فریب دیا ؟کیا ہلاکت و کہنگی سے تمہارے باپ دادا کے بے جان ہو کر گرنے سے یا مٹی کے نیچے تمہاری ماؤں کی خواب گاہوں سے ؟کتنی تم نے بیماروں کی دیکھ بھال کی ،اور کتنی دفعہ تو خود تیمار داری کی اس صبح کو کہ جب نہ دوا کارگر ہوتی نظر آتی تھی ،اور نہ تمہارا رونا دھونا ان کے لیے کچھ مفید تھا۔ تم ان کے لیے شفا کے خواہشمند تھے اور طبیبوں سے دوا دارو پوچھتے پھرتے تھے ان میں سے کسی ایک کے لیے بھی تمہارا اندیشہ فائدہ مند ثابت نہ ہو سکا اور تمہارا اصل مقصد حاصل نہ ہوا اور اپنی چارہ سازی سے تم موت کو اس بیمار سے نہ ہٹا سکے تو دنیا نے تو اس کے پردے میں خود تمہارا انجام اور اس کے ہلاک ہونے سے خود تمہاری ہلاکت کا نقشہ تمہیں دکھا دیا بلاشبہ دنیا اس شخص کے لیے جو باور کرے ،سچائی کا گھر ہے اور جو اس کی ان باتوں کو سمجھے اس کے لیے امن و عافیت کی منزل ہے اور اس سے زاد راہ حاصل کر لے ،اس کے لیے دولتمندی کی منزل ہے اور جو اس سے نصیحت حاصل کرے ،اس کے لیے وعظ و نصیحت کا محل ہے۔وہ دوستان خدا کے لیے عبادت کی جگہ ،اللہ کے فرشتوں کے لیے نماز پڑھنے کا مقام وحی الہی کی منزل اور اولیاء اللہ کی تجارت گاہ ہے انہوں نے اس میں فضل و رحمت کا سودا کیا اور اس میں رہتے ہوئے جنت کو فائدہ میں حاصل کیا تو اب کون ہے جو دنیا کی برائی کرے ،جب کہ اس نے اپنے جدا ہونے کی اطلاع دے دی ہے چنانچہ اس نے اپنی ابتلاء سے ابتلاء کا پتہ دیا ہے اور اپنی مسرتوں سے آخرت کی مسرتوں کا شوق دلایا ہے ،وہ رغبت دلانے اور ڈرانے خوفزدہ کرنے اور متنبہ کرنے کے لیے شام کو امن و عافیت کا اور صبح کو درد و اندوہ کا پیغام لے کر آتی ہے تو جن لوگوں نے شرمسار ہو کر صبح کی وہ اس کی برائی کرنے لگے۔اور دوسرے لوگ قیامت کے دن اس کی تعریف کریں گے کہ دنیا نے ان کو آخرت کی یاد دلائی تو انہوں نے یاد رکھا اور اس نے انہیں خبر دی تو انہوں نے تصدیق کی اور اس نے انہیں پند و نصیحت کی تو انہوں نے نصیحت حاصل کی۔ (131- دنیا کی ستائش) حکمت حکمت 131

حکمت (131) : ایک شخص کو دنیا کی برائی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا !اے دنیا کی برائی کرنے والے اس کے فریب میں مبتلا ہو نے والے !اور غلط سلط باتوں کے دھوکے میں آنے والے !تم اس پر گرویدہ بھی ہوتے ہو ،اور پھر اس کی مذمت بھی کرتے ہو۔کیا تم دنیا کو مجرم ٹھہرنے کا حق رکھتے ہو؟یا وہ تمہیں مجرم ٹھہرائے تو حق بجانب ہے ؟دنیا نے کب تمہارے ہوش وحواس سلب کئے اور کس بات سے فریب دیا ؟کیا ہلاکت و کہنگی سے تمہارے باپ دادا کے بے جان ہو کر گرنے سے یا مٹی کے نیچے تمہاری ماؤں کی خواب گاہوں سے ؟کتنی تم نے بیماروں کی دیکھ بھال کی ،اور کتنی دفعہ تو خود تیمار داری کی اس صبح کو کہ جب نہ دوا کارگر ہوتی نظر آتی تھی ،اور نہ تمہارا رونا دھونا ان کے لیے کچھ مفید تھا۔ تم ان کے لیے شفا کے خواہشمند تھے اور طبیبوں سے دوا دارو پوچھتے پھرتے تھے ان میں سے کسی ایک کے لیے بھی تمہارا اندیشہ فائدہ مند ثابت نہ ہو سکا اور تمہارا اصل مقصد حاصل نہ ہوا اور اپنی چارہ سازی سے تم موت کو اس بیمار سے نہ ہٹا سکے تو دنیا نے تو اس کے پردے میں خود تمہارا انجام اور اس کے ہلاک ہونے سے خود تمہاری ہلاکت کا نقشہ تمہیں دکھا دیا بلاشبہ دنیا اس شخص کے لیے جو باور کرے ،سچائی کا گھر ہے اور جو اس کی ان باتوں کو سمجھے اس کے لیے امن و عافیت کی منزل ہے اور اس سے زاد راہ حاصل کر لے ،اس کے لیے دولتمندی کی منزل ہے اور جو اس سے نصیحت حاصل کرے ،اس کے لیے وعظ و نصیحت کا محل ہے۔وہ دوستان خدا کے لیے عبادت کی جگہ ،اللہ کے فرشتوں کے لیے نماز پڑھنے کا مقام وحی الہی کی منزل اور اولیاء اللہ کی تجارت گاہ ہے انہوں نے اس میں فضل و رحمت کا سودا کیا اور اس میں رہتے ہوئے جنت کو فائدہ میں حاصل کیا تو اب کون ہے جو دنیا کی برائی کرے ،جب کہ اس نے اپنے جدا ہونے کی اطلاع دے دی ہے چنانچہ اس نے اپنی ابتلاء سے ابتلاء کا پتہ دیا ہے اور اپنی مسرتوں سے آخرت کی مسرتوں کا شوق دلایا ہے ،وہ رغبت دلانے اور ڈرانے خوفزدہ کرنے اور متنبہ کرنے کے لیے شام کو امن و عافیت کا اور صبح کو درد و اندوہ کا پیغام لے کر آتی ہے تو جن لوگوں نے شرمسار ہو کر صبح کی وہ اس کی برائی کرنے لگے۔اور دوسرے لوگ قیامت کے دن اس کی تعریف کریں گے کہ دنیا نے ان کو آخرت کی یاد دلائی تو انہوں نے یاد رکھا اور اس نے انہیں خبر دی تو انہوں نے تصدیق کی اور اس نے انہیں پند و نصیحت کی تو انہوں نے نصیحت حاصل کی۔ (131- دنیا کی ستائش)

دنیا کی برائی کرنے والوں کے لیے نصیحت اور حکمت۔

مزید پڑھیے
حکمت (132) :  اللہ کا ایک فرشتہ ہر روز یہ ندا کرتا ہے کہ موت کے لیے اولاد پیدا کرو، برباد ہونے کے لیے جمع کرو اور تباہ ہونے کے لیے عمارتیں کھڑی کرو۔ (132- فرشتے کی ندا) حکمت حکمت 132

حکمت (132) : اللہ کا ایک فرشتہ ہر روز یہ ندا کرتا ہے کہ موت کے لیے اولاد پیدا کرو، برباد ہونے کے لیے جمع کرو اور تباہ ہونے کے لیے عمارتیں کھڑی کرو۔ (132- فرشتے کی ندا)

اَللّٰہ کا ایک فَرِشتہ ہَر روز یہ نِدا کرتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (133) :  دنیا «اصل منزل قرار کے لیے ایک گزرگاہ ہے۔ اس میں دو قسم کے لوگ ہیں : ایک وہ جنہوں نے اس میں اپنے نفس کو بیچ کر ہلاک کر دیا اور ایک وہ جنہوں نے اپنے نفس کو خرید کر آزاد کر دیا۔ (133- بے ثباتی دنیا) حکمت حکمت 133

حکمت (133) : دنیا «اصل منزل قرار کے لیے ایک گزرگاہ ہے۔ اس میں دو قسم کے لوگ ہیں : ایک وہ جنہوں نے اس میں اپنے نفس کو بیچ کر ہلاک کر دیا اور ایک وہ جنہوں نے اپنے نفس کو خرید کر آزاد کر دیا۔ (133- بے ثباتی دنیا)

دنیا َ اصل ِ منزل کی طرف ایک گزرگاہ ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (134) :  دوست اس وقت تک دوست نہیں سمجھا جا سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی تین موقعوں پر نگہداشت نہ کرے، مصیبت کے موقع پر اس کے پس پشت اور اس کے مرنے کے بعد :۔ (134- دوستی کے شرائط) حکمت حکمت 134

حکمت (134) : دوست اس وقت تک دوست نہیں سمجھا جا سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی تین موقعوں پر نگہداشت نہ کرے، مصیبت کے موقع پر اس کے پس پشت اور اس کے مرنے کے بعد :۔ (134- دوستی کے شرائط)

دوست اس وقت تک دوست نہیں سمجھا جا سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی تین موقعوں پر نگہداشت…

مزید پڑھیے