حکمت

483 اندراجات
حکمت (442) :  تمہارے لیے ایک شہر دوسرے شہر سے زیادہ حقدار نہیں (بلکہ )بہتر ین شہر وہ ہے جو تمہارا بوجھ اٹھائے۔ (442- بہترین شہر) حکمت حکمت 442

حکمت (442) : تمہارے لیے ایک شہر دوسرے شہر سے زیادہ حقدار نہیں (بلکہ )بہتر ین شہر وہ ہے جو تمہارا بوجھ اٹھائے۔ (442- بہترین شہر)

تمہارے لیے ایک شہر دوسرے شہر سے زیادہ حقدار نہیں (بلکہ )بہتر ین شہر وہ ہے جو تمہارا بوجھ اٹھائے۔

مزید پڑھیے
حکمت (443) :  جب مالک اشتر رحمتہ اللہ کی خبر شہادت آئی، تو فرمایا
مالک! اور مالک کیا شخص تھا۔ خدا کی قسم اگر وہ پہاڑ ہوتا تو ایک کوہ بلند ہوتا، اور اگر وہ پتھر ہوتا تو ایک سنگ گراں ہوتا کہ نہ تو اس کی بلندیوں تک کوئی سم پہنچ سکتا اور نہ کوئی پرندہ وہاں تک پر مار سکتا۔
سید رضی کہتے ہیں کہ فنداس پہاڑ کو کہتے ہیں، جو دوسرے پہاڑوں سے الگ ہو۔ (443- مالک اشتر) حکمت حکمت 443

حکمت (443) : جب مالک اشتر رحمتہ اللہ کی خبر شہادت آئی، تو فرمایا مالک! اور مالک کیا شخص تھا۔ خدا کی قسم اگر وہ پہاڑ ہوتا تو ایک کوہ بلند ہوتا، اور اگر وہ پتھر ہوتا تو ایک سنگ گراں ہوتا کہ نہ تو اس کی بلندیوں تک کوئی سم پہنچ سکتا اور نہ کوئی پرندہ وہاں تک پر مار سکتا۔ سید رضی کہتے ہیں کہ فنداس پہاڑ کو کہتے ہیں، جو دوسرے پہاڑوں سے الگ ہو۔ (443- مالک اشتر)

جب مالک اشتر رحمتہ اللہ کی خبر شہادت آئی، تو فرمایا مالک! اور مالک کیا شخص تھا۔

مزید پڑھیے
حکمت (444) :  وہ تھوڑا عمل جس میں ہمیشگی ہو اس سے زیادہ ہے، جو دل تنگی کا باعث ہو۔ (444- استقلال) حکمت حکمت 444

حکمت (444) : وہ تھوڑا عمل جس میں ہمیشگی ہو اس سے زیادہ ہے، جو دل تنگی کا باعث ہو۔ (444- استقلال)

وہ تھوڑا عمل جس میں ہمیشگی ہو اس سے زیادہ ہے، جو دل تنگی کا باعث ہو۔

مزید پڑھیے
حکمت (429) :  قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اللہ کی نافرمانی کر کے مال حاصل کیا ہو، اور اس کا وارث وہ شخص ہوا ہو جس نے اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا ہو کہ یہ تو اس مال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا، اور پہلا اس کی وجہ سے جہنم میں گیا۔ (429- حسرت و اندوہ) حکمت حکمت 429

حکمت (429) : قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اللہ کی نافرمانی کر کے مال حاصل کیا ہو، اور اس کا وارث وہ شخص ہوا ہو جس نے اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا ہو کہ یہ تو اس مال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا، اور پہلا اس کی وجہ سے جہنم میں گیا۔ (429- حسرت و اندوہ)

قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اللہ کی نافرمانی کر کے مال…

مزید پڑھیے
حکمت (430) :  لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھا نے والا اور دوڑ دھوپ میں سب سے زیادہ ناکام ہونے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن کو بوسیدہ کر ڈالا ہو۔ مگر تقدیر نے اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ نہ دیا ہو۔ لہٰذا وہ دنیا سے بھی حسرت لیے ہوئے گیا اور آخرت میں بھی اس کی پاداش کاسامنا کیا۔ (430- ناکام کوشش) حکمت حکمت 430

حکمت (430) : لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھا نے والا اور دوڑ دھوپ میں سب سے زیادہ ناکام ہونے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن کو بوسیدہ کر ڈالا ہو۔ مگر تقدیر نے اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ نہ دیا ہو۔ لہٰذا وہ دنیا سے بھی حسرت لیے ہوئے گیا اور آخرت میں بھی اس کی پاداش کاسامنا کیا۔ (430- ناکام کوشش)

لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن…

مزید پڑھیے
حکمت (431) :  رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے، موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے اور جو شخص آخرت کاخواستگار ہوتا ہے، دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے۔ (431- رزق و روزی) حکمت حکمت 431

حکمت (431) : رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے، موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے اور جو شخص آخرت کاخواستگار ہوتا ہے، دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے۔ (431- رزق و روزی)

رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (432) :  دوستان خدا وہ ہیں کہ جب لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے ہیں تو وہ اس کے باطن پر نظر کرتے ہیں اور جب لوگ اس کی جلد میسر آ جانے والی نعمتوں میں کھو جاتے ہیں، تو وہ آخرت میں حاصل ہونے چیزوں میں منہمک رہتے ہیں اور جن چیزوں کے متعلق انہیں یہ کھٹکا تھا کہ وہ انہیں تباہ کریں گی، انہیں تباہ کر کے رکھ دیا اور جن چیزوں کے متعلق انہوں نے جان لیا کہ وہ انہیں چھوڑ دینے والی ہیں انہیں انہوں نے خود چھوڑ دیا اور دوسروں کے دنیا زیادہ سمیٹنے کو کم خیال کیا، اور اسے حاصل کرنے کو کھو نے کے برابر جانا۔ وہ ان چیزوں کے دشمن ہیں جن سے دوسروں کی دوستی ہے اور ان چیزوں کے دوست ہیں جن سے اوروں کو دشمنی ہے ان کے ذریعہ سے قرآن کا علم حاصل ہوا قرآن کے ذریعہ سےان کا علم ہوا اور ان کے ذریعہ سے کتاب خدا محفوظ اور وہ اس کے ذریعہ سے برقرار رہیں۔ وہ جس چیز کی امید رکھتے ہیں اس سے کسی چیز کو بلند نہیں سمجھتے اور جس چیز سے خائف ہیں اس سے زیادہ کسی شے کو خوفناک نہیں جانتے۔ (432- دوستانِ خدا) حکمت حکمت 432

حکمت (432) : دوستان خدا وہ ہیں کہ جب لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے ہیں تو وہ اس کے باطن پر نظر کرتے ہیں اور جب لوگ اس کی جلد میسر آ جانے والی نعمتوں میں کھو جاتے ہیں، تو وہ آخرت میں حاصل ہونے چیزوں میں منہمک رہتے ہیں اور جن چیزوں کے متعلق انہیں یہ کھٹکا تھا کہ وہ انہیں تباہ کریں گی، انہیں تباہ کر کے رکھ دیا اور جن چیزوں کے متعلق انہوں نے جان لیا کہ وہ انہیں چھوڑ دینے والی ہیں انہیں انہوں نے خود چھوڑ دیا اور دوسروں کے دنیا زیادہ سمیٹنے کو کم خیال کیا، اور اسے حاصل کرنے کو کھو نے کے برابر جانا۔ وہ ان چیزوں کے دشمن ہیں جن سے دوسروں کی دوستی ہے اور ان چیزوں کے دوست ہیں جن سے اوروں کو دشمنی ہے ان کے ذریعہ سے قرآن کا علم حاصل ہوا قرآن کے ذریعہ سےان کا علم ہوا اور ان کے ذریعہ سے کتاب خدا محفوظ اور وہ اس کے ذریعہ سے برقرار رہیں۔ وہ جس چیز کی امید رکھتے ہیں اس سے کسی چیز کو بلند نہیں سمجھتے اور جس چیز سے خائف ہیں اس سے زیادہ کسی شے کو خوفناک نہیں جانتے۔ (432- دوستانِ خدا)

دوستان خدا وہ ہیں جو دنیا کی ظاہری نعمتوں سے بے نیاز ہو کر آخرت کی نعمتوں کی طلب میں…

مزید پڑھیے
حکمت (433) :  لذتوں کے ختم ہونے اور پاداشوں کے باقی رہنے کو یاد رکھو۔ (433- موت کی یاد) حکمت حکمت 433

حکمت (433) : لذتوں کے ختم ہونے اور پاداشوں کے باقی رہنے کو یاد رکھو۔ (433- موت کی یاد)

لذتوں کے ختم ہونے اور پاداشوں کے باقی رہنے کو یاد رکھو۔

مزید پڑھیے
حکمت (418) :  حلم و تحمل ایک پورا قبیلہ ہے۔ (418- حلم و بُردباری) حکمت حکمت 418

حکمت (418) : حلم و تحمل ایک پورا قبیلہ ہے۔ (418- حلم و بُردباری)

حلم و تحمل ایک پورا قبیلہ ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (434) :  آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے اس فقرے کی جناب رسالت مآب سے روایت کی ہے، مگر اس کے کلام امیرالمومنین علیہ السّلام ہونے کے مویدات میں سے ہے وہ جسے ثعلب نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن اعرابی نے بیان کیا کہ ماموں نے کہا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہ کہا ہوتا کہ »آزماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو «۔تو میں یوں کہتا کہ دشمنی کرواس سے تاکہ آزماؤ۔ (434- آزمائش) حکمت حکمت 434

حکمت (434) : آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے اس فقرے کی جناب رسالت مآب سے روایت کی ہے، مگر اس کے کلام امیرالمومنین علیہ السّلام ہونے کے مویدات میں سے ہے وہ جسے ثعلب نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن اعرابی نے بیان کیا کہ ماموں نے کہا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہ کہا ہوتا کہ »آزماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو «۔تو میں یوں کہتا کہ دشمنی کرواس سے تاکہ آزماؤ۔ (434- آزمائش)

آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔

مزید پڑھیے