Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

483 اندراجات
حکمت (190) :  العجب کیا خلافت کا معیار بس صحابیت اور قرابت ہی ہے۔ (190- معیارِ خلافت) حکمت حکمت 190

حکمت (190) : العجب کیا خلافت کا معیار بس صحابیت اور قرابت ہی ہے۔ (190- معیارِ خلافت)

العجب کیا خلافت کا معیار بس صحابیت اور قرابت ہی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (175) :  جب کسی امر سے دہشت محسوس کرو تو اس میں پھاند پڑو، اس لیے کہ کھٹکا لگا رہنا اس ضرر سے کہ جس کا خوف ہے، زیادہ تکلیف دہ چیز ہے۔ (175- خوف کا علاج) حکمت حکمت 175

حکمت (175) : جب کسی امر سے دہشت محسوس کرو تو اس میں پھاند پڑو، اس لیے کہ کھٹکا لگا رہنا اس ضرر سے کہ جس کا خوف ہے، زیادہ تکلیف دہ چیز ہے۔ (175- خوف کا علاج)

جب کسی امر سے دہشت محسوس کرو تو اس میں پھاند پڑو۔

مزید پڑھیے
حکمت (191) :  دنیا میں انسان موت کی تیر اندازی کا ہدف اور مصیبت و ابتلاء کی غارت گری کی جولانگاہ ہے جہاں ہر گھونٹ کے ساتھ اچھو اور ہر لقمہ میں گلو گیر پھندا ہے اور جہاں بندہ ایک نعمت اس وقت تک نہیں پاتا جب تک دوسری نعمت جدا نہ ہو جائے اور اس کی عمر کا ایک دن آتا نہیں جب تک کہ ایک دن اس کی عمر کا کم نہ ہو جائے ہم موت کے مددگار ہیں اور ہماری جانیں ہلاکت کی زد پر ہیں تو اس صورت میں ہم کہاں سے بقا کی امید کر سکتے ہیں جب کہ شب و روز کسی عمارت کو بلند نہیں کرتے مگر یہ کہ حملہ آور ہو کر جو بنایا ہے اسے گراتے اور جو یکجا کیا ہے اسے بکھیر تے ہوتے ہیں۔ (191- دنیا کی حالت) حکمت حکمت 191

حکمت (191) : دنیا میں انسان موت کی تیر اندازی کا ہدف اور مصیبت و ابتلاء کی غارت گری کی جولانگاہ ہے جہاں ہر گھونٹ کے ساتھ اچھو اور ہر لقمہ میں گلو گیر پھندا ہے اور جہاں بندہ ایک نعمت اس وقت تک نہیں پاتا جب تک دوسری نعمت جدا نہ ہو جائے اور اس کی عمر کا ایک دن آتا نہیں جب تک کہ ایک دن اس کی عمر کا کم نہ ہو جائے ہم موت کے مددگار ہیں اور ہماری جانیں ہلاکت کی زد پر ہیں تو اس صورت میں ہم کہاں سے بقا کی امید کر سکتے ہیں جب کہ شب و روز کسی عمارت کو بلند نہیں کرتے مگر یہ کہ حملہ آور ہو کر جو بنایا ہے اسے گراتے اور جو یکجا کیا ہے اسے بکھیر تے ہوتے ہیں۔ (191- دنیا کی حالت)

دنیا میں انسان موت کی تیر اندازی کا ہدف اور مصیبت و ابتلاء کی غارت گری کی جولانگاہ ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (144) : مصیبت کے اندازہ پر اللہ کی طرف صبر کی ہمت حاصل ہوتی ہے۔ جب شخص مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارے اس کا عمل اکارت ہو جاتا ہے۔ (144- صبر) حکمت حکمت 144

حکمت (144) : مصیبت کے اندازہ پر اللہ کی طرف صبر کی ہمت حاصل ہوتی ہے۔ جب شخص مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارے اس کا عمل اکارت ہو جاتا ہے۔ (144- صبر)

مصیبت کے اندازہ پر اللہ کی طرف صبر کی ہمت حاصل ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (160) :  جو اقتدار حاصل کر لیتا ہے جانبدار ی کرنے ہی لگتا ہے۔ (160- جانبداری) حکمت حکمت 160

حکمت (160) : جو اقتدار حاصل کر لیتا ہے جانبدار ی کرنے ہی لگتا ہے۔ (160- جانبداری)

جو اقتدار حاصل کر لیتا ہے جانبدار ی کرنے ہی لگتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (145) :  بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزوں کا ثمرہ بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اور بہت سے عابد شب زندہ دار ایسے ہیں جنہیں عبادت کے نتیجہ میں جاگنے اور زحمت اٹھانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ زیرک و دانا لوگوں کا سونا اور روزہ نہ رکھنا بھی قابل ستائش ہوتا ہے۔ (145- عمل بے روح) حکمت حکمت 145

حکمت (145) : بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزوں کا ثمرہ بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اور بہت سے عابد شب زندہ دار ایسے ہیں جنہیں عبادت کے نتیجہ میں جاگنے اور زحمت اٹھانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ زیرک و دانا لوگوں کا سونا اور روزہ نہ رکھنا بھی قابل ستائش ہوتا ہے۔ (145- عمل بے روح)

بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزوں کا ثمرہ بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔

مزید پڑھیے
حکمت (146) : صدقہ سے اپنے ایمان کی نگہداشت کرو، اور دعا سے مصیبت و ابتلاء کی لہروں کو دور کرو۔ (146- صدقہ و زکوٰۃ) حکمت حکمت 146

حکمت (146) : صدقہ سے اپنے ایمان کی نگہداشت کرو، اور دعا سے مصیبت و ابتلاء کی لہروں کو دور کرو۔ (146- صدقہ و زکوٰۃ)

صَدَقَہ سے اپنے اِیمَان کی نِگَہداشت کرو، اور دُعَا سے مَصِیبت و اَبتِلاء کی لَہروں کو دُور کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (147) : کمیل ابن زیاد نخعی کہتے ہیں کہ  

امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبر ستان کی طرف لے چلے جب آبادی سے باہر نکلے تو ایک لمبی آہ کی۔ پھر فرمایا  
اے کمیل ! یہ دل اسرار و حکم کے ظروف ہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو زیادہ نگہداشت کرنے والا ہو۔ لہٰذا تو جب میں تمہیں بتاؤں اسے یاد رکھنا۔  
دیکھو! تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک عالم ربانی دوسرا متعلم کہ جو نجات کی راہ پر برقرار رہے اور تیسرا عوام الناس کا وہ پست گروہ ہے کہ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے ہو لیتا ہے اور ہر ہوا کے رخ پر مڑ جاتا ہے۔ نہ انہوں نے نور علم سے کسب ضیا کیا، نہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی۔  
اے کمیل ! یاد رکھو، کہ علم مال سے بہتر ہے (کیونکہ) علم تمہاری نگہداشت کرتا ہے اور مال کی تمہیں حفاظت کرنا پڑتی ہے اور مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال و دولت کے نتائج و اثرات مال کے فنا ہونے سے فنا ہو جاتے ہیں۔  
اے کمیل ! علم کی شناسائی ایک دین ہے کہ جس کی اقتدا کی جاتی ہے اسی سے انسان اپنی زندگی میں دوسروں سے اپنی اطاعت منواتا ہے اور مرنے کے بعد نیک نامی حاصل کرتا ہے۔ یاد رکھو کہ علم حاکم ہوتا ہے اور مال محکوم۔  
اے کمیل ! مال اکٹھا کرنے والے زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہوتے ہیں اور علم حاصل کرنے والے رہتی دنیا تک باقی رہتے ہیں، بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ مگر ان کی صورتیں دلوں میں موجود رہتی ہیں (اس کے بعد حضرت نے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا) دیکھو! یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے کاش اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے، ہاں ملا، کوئی تو، یا ایسا جو ذہین تو ہے مگر ناقابل اطمینان ہے اور جو دنیا کے لیے دین کو آلہ کار بنانے والا ہے اور اللہ کی ان نعمتوں کی وجہ سے اس کے بندوں پر اور اس کی حجتوں کی وجہ سے اس کے دوستوں پر تفوق و برتری جتلانے والا ہے۔ یا جو ارباب حق و دانش کا مطیع تو ہے مگر اس کے دل کے گوشوں میں بصیرت کی روشنی نہیں ہے، بس ادھر ذرا سا شبہہ عارض ہوا کہ اس کے دل میں شکوک و شبہات کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ یہ اس قابل ہے اور نہ وہ اس قابل ہے یا ایسا شخص ملتا ہے کہ جو لذتوں پر مٹا ہوا ہے اور بآسانی خواہش نفسانی کی راہ پر کھنچ جانے والا ہے یا ایسا شخص جو جمع آوری و ذخیرہ اندوزی پر جان دیئے ہوئے ہے یہ دونوں بھی دین کے کسی امر کی رعایت و پاسداری کرنے والے نہیں ہیں ان دونوں سے انتہائی قریبی شباہت چرنے والے چوپائے رکھتے ہیں۔ اسی طرح تو علم کے خزینہ داروں کے مرنے سے علم ختم ہو جاتا ہے  
ہاں! مگر زمین ایسے فرد خالی نہیں رہتی کہ جو خدا کی حجت کو برقرار رکھتا ہے چاہے وہ ظاہر و مشہور ہوا یا خائف و پنہاں تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں اور وہ ہیں ہی کتنے اور کہاں پر ہیں -؟ خدا کی قسم وہ تو گنتی میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں، اور اللہ کے نزدیک قدر و منزلت کے لحاظ سے بہت بلند۔ خداوند عالم ان کے ذریعہ سے اپنی حجتوں اور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ان کو اپنے ایسوں کے سپرد کر دیں اور اپنے ایسوں کے دلوں میں انہیں بو دیں۔ علم نے انہیں ایک دم حقیقت و بصیرت کے انکشافات تک پہنچا دیا ہے۔ وہ یقین و اعتماد کی روح سے گھل مل گئے ہیں اور ان چیزوں کو جنہیں آرام پسند لوگوں نے دشوار قرار دے رکھا تھا اپنے لیے سہل و آسان سمجھ لیا ہے اور جن چیزوں سے جاہل بھڑک اٹھتے ہیں ان سے وہ جی لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ ایسے جسموں کے ساتھ دنیا میں رہتے سہتے ہیں کہ جن کی روحیں ملائ اعلیٰ سے وابستہ ہیں یہی لوگ تو زمین میں اللہ کے نائب اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ ہائے ان کی دید کے لیے میرے شوق کی فراوانی (پھر حضرت نے کمیل سے فرمایا) اے کمیل !(مجھے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا) اب جس وقت چاہو واپس جاؤ۔  
کمیل ابن زیاد نخعی رحمۃ اللہ اسرار امامت کے خزینہ دار اور امیرالمومنین کے خواص اصحاب میں سے تھے، علم و فضل میں بلند مرتبہ اور زہد و درع میں امتیاز خاص کے حامل تھے۔ حضرت کی طرف سے کچھ عرصہ تک ہیئت کے عامل رہے 38 ہج میں 09 برس کی عمر میں حجاج ابن یوسف ثقفی کے ہاتھ سے شہید ہوئے اور بیرون کوفہ دفن ہوئے۔ (147- فضیلتِ علم) حکمت حکمت 147

حکمت (147) : کمیل ابن زیاد نخعی کہتے ہیں کہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبر ستان کی طرف لے چلے جب آبادی سے باہر نکلے تو ایک لمبی آہ کی۔ پھر فرمایا اے کمیل ! یہ دل اسرار و حکم کے ظروف ہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو زیادہ نگہداشت کرنے والا ہو۔ لہٰذا تو جب میں تمہیں بتاؤں اسے یاد رکھنا۔ دیکھو! تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک عالم ربانی دوسرا متعلم کہ جو نجات کی راہ پر برقرار رہے اور تیسرا عوام الناس کا وہ پست گروہ ہے کہ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے ہو لیتا ہے اور ہر ہوا کے رخ پر مڑ جاتا ہے۔ نہ انہوں نے نور علم سے کسب ضیا کیا، نہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی۔ اے کمیل ! یاد رکھو، کہ علم مال سے بہتر ہے (کیونکہ) علم تمہاری نگہداشت کرتا ہے اور مال کی تمہیں حفاظت کرنا پڑتی ہے اور مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال و دولت کے نتائج و اثرات مال کے فنا ہونے سے فنا ہو جاتے ہیں۔ اے کمیل ! علم کی شناسائی ایک دین ہے کہ جس کی اقتدا کی جاتی ہے اسی سے انسان اپنی زندگی میں دوسروں سے اپنی اطاعت منواتا ہے اور مرنے کے بعد نیک نامی حاصل کرتا ہے۔ یاد رکھو کہ علم حاکم ہوتا ہے اور مال محکوم۔ اے کمیل ! مال اکٹھا کرنے والے زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہوتے ہیں اور علم حاصل کرنے والے رہتی دنیا تک باقی رہتے ہیں، بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ مگر ان کی صورتیں دلوں میں موجود رہتی ہیں (اس کے بعد حضرت نے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا) دیکھو! یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے کاش اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے، ہاں ملا، کوئی تو، یا ایسا جو ذہین تو ہے مگر ناقابل اطمینان ہے اور جو دنیا کے لیے دین کو آلہ کار بنانے والا ہے اور اللہ کی ان نعمتوں کی وجہ سے اس کے بندوں پر اور اس کی حجتوں کی وجہ سے اس کے دوستوں پر تفوق و برتری جتلانے والا ہے۔ یا جو ارباب حق و دانش کا مطیع تو ہے مگر اس کے دل کے گوشوں میں بصیرت کی روشنی نہیں ہے، بس ادھر ذرا سا شبہہ عارض ہوا کہ اس کے دل میں شکوک و شبہات کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ یہ اس قابل ہے اور نہ وہ اس قابل ہے یا ایسا شخص ملتا ہے کہ جو لذتوں پر مٹا ہوا ہے اور بآسانی خواہش نفسانی کی راہ پر کھنچ جانے والا ہے یا ایسا شخص جو جمع آوری و ذخیرہ اندوزی پر جان دیئے ہوئے ہے یہ دونوں بھی دین کے کسی امر کی رعایت و پاسداری کرنے والے نہیں ہیں ان دونوں سے انتہائی قریبی شباہت چرنے والے چوپائے رکھتے ہیں۔ اسی طرح تو علم کے خزینہ داروں کے مرنے سے علم ختم ہو جاتا ہے ہاں! مگر زمین ایسے فرد خالی نہیں رہتی کہ جو خدا کی حجت کو برقرار رکھتا ہے چاہے وہ ظاہر و مشہور ہوا یا خائف و پنہاں تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں اور وہ ہیں ہی کتنے اور کہاں پر ہیں -؟ خدا کی قسم وہ تو گنتی میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں، اور اللہ کے نزدیک قدر و منزلت کے لحاظ سے بہت بلند۔ خداوند عالم ان کے ذریعہ سے اپنی حجتوں اور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ان کو اپنے ایسوں کے سپرد کر دیں اور اپنے ایسوں کے دلوں میں انہیں بو دیں۔ علم نے انہیں ایک دم حقیقت و بصیرت کے انکشافات تک پہنچا دیا ہے۔ وہ یقین و اعتماد کی روح سے گھل مل گئے ہیں اور ان چیزوں کو جنہیں آرام پسند لوگوں نے دشوار قرار دے رکھا تھا اپنے لیے سہل و آسان سمجھ لیا ہے اور جن چیزوں سے جاہل بھڑک اٹھتے ہیں ان سے وہ جی لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ ایسے جسموں کے ساتھ دنیا میں رہتے سہتے ہیں کہ جن کی روحیں ملائ اعلیٰ سے وابستہ ہیں یہی لوگ تو زمین میں اللہ کے نائب اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ ہائے ان کی دید کے لیے میرے شوق کی فراوانی (پھر حضرت نے کمیل سے فرمایا) اے کمیل !(مجھے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا) اب جس وقت چاہو واپس جاؤ۔ کمیل ابن زیاد نخعی رحمۃ اللہ اسرار امامت کے خزینہ دار اور امیرالمومنین کے خواص اصحاب میں سے تھے، علم و فضل میں بلند مرتبہ اور زہد و درع میں امتیاز خاص کے حامل تھے۔ حضرت کی طرف سے کچھ عرصہ تک ہیئت کے عامل رہے 38 ہج میں 09 برس کی عمر میں حجاج ابن یوسف ثقفی کے ہاتھ سے شہید ہوئے اور بیرون کوفہ دفن ہوئے۔ (147- فضیلتِ علم)

کمیل ابن زیاد نَخَعِی کہتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبرستان…

مزید پڑھیے
حکمت (148) :  اِنسان اپنی زَبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ (148- تا مرد سخن نگفتہ باشد) حکمت حکمت 148

حکمت (148) : اِنسان اپنی زَبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ (148- تا مرد سخن نگفتہ باشد)

انسان اپنی زَبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (149) : جب شخص اپنی قدر و منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ (149- قدر نا شناسی) حکمت حکمت 149

حکمت (149) : جب شخص اپنی قدر و منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ (149- قدر نا شناسی)

جب شخص اپنی قدر و منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیے