Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

483 اندراجات
حکمت (150) :  ایک شخص نے آپ سے پند و  موعظت کی درخواست کی ،تو فرمایا!تم کوان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ جب عمل کے بغیر حسن انجام کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر تو بہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جب دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں۔اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جب انہیں ملا ہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جب بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجا نہیں لاتے نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوں کی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں۔اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں۔ جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں۔اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے۔جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہو کر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبا لیتے۔دوسروں کے لیے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں۔اگر مالدار ہو جاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہو جاتے ہیں تو ناامید ہو جاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں۔جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پر آتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں ،اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں ،اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کے خصوصی امتیازات سے الگ ہو جاتے ہیں۔عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں۔مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں۔فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں وہ نفع کو نقصان اور نقصان کو نفع خیال کرتے ہیں۔موت سے ڈرتے ہیں۔مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے۔دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں۔اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں۔لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں۔دولتمندوں کے ساتھ طرب و نشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں۔اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں اور حق پورا پورا  وصول کر لیتے ہیں مگر خود انہیں کرتے۔وہ اپنے پروردگار کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خوف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے۔ (150- پندو موعظت) حکمت حکمت 150

حکمت (150) : ایک شخص نے آپ سے پند و موعظت کی درخواست کی ،تو فرمایا!تم کوان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ جب عمل کے بغیر حسن انجام کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر تو بہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جب دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں۔اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جب انہیں ملا ہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جب بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجا نہیں لاتے نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوں کی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں۔اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں۔ جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں۔اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے۔جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہو کر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبا لیتے۔دوسروں کے لیے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں۔اگر مالدار ہو جاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہو جاتے ہیں تو ناامید ہو جاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں۔جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پر آتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں ،اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں ،اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کے خصوصی امتیازات سے الگ ہو جاتے ہیں۔عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں۔مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں۔فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں وہ نفع کو نقصان اور نقصان کو نفع خیال کرتے ہیں۔موت سے ڈرتے ہیں۔مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے۔دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں۔اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں۔لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں۔دولتمندوں کے ساتھ طرب و نشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں۔اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں اور حق پورا پورا وصول کر لیتے ہیں مگر خود انہیں کرتے۔وہ اپنے پروردگار کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خوف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے۔ (150- پندو موعظت)

ایک شَخص نے آپ سے پند و موعظَت کی درخواست کی، تو فرمایا!

مزید پڑھیے
حکمت (151) :  ہر شخص کا ایک انجام ہے۔ اب خواہ وہ شیریں ہو یا تلخ۔ (151- انجام) حکمت حکمت 151

حکمت (151) : ہر شخص کا ایک انجام ہے۔ اب خواہ وہ شیریں ہو یا تلخ۔ (151- انجام)

ہر شخص کا ایک انجام ہے۔ اب خواہ وہ شیریں ہو یا تلخ۔

مزید پڑھیے
حکمت (152) :  ہر آنے والے کے لیے پلٹنا ہے اور جب پلٹ گیا تو جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ (152- نیستی و بربادی) حکمت حکمت 152

حکمت (152) : ہر آنے والے کے لیے پلٹنا ہے اور جب پلٹ گیا تو جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ (152- نیستی و بربادی)

ہر آنے والے کے لیے پلٹنا ہے اور جب پلٹ گیا تو جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (153) :  صبر کرنے والا ظفر و کامرانی سے محروم نہیں ہوتا، چاہے اس میں طویل زمانہ لگ جائے۔ (153- صبر و شکیبائی) حکمت حکمت 153

حکمت (153) : صبر کرنے والا ظفر و کامرانی سے محروم نہیں ہوتا، چاہے اس میں طویل زمانہ لگ جائے۔ (153- صبر و شکیبائی)

صبر کرنے والا ظفر و کامرانی سے محروم نہیں ہوتا، چاہے اس میں طویل زمانہ لگ جائے۔

مزید پڑھیے
حکمت (154) :  کسی جماعت کے فعل پر رضا مند ہونے والا ایسا ہے جیسے اس کے کام میں شریک ہو۔ اور غلط کام میں شریک ہو نے والے پر دو گناہ ہیں۔ ایک اس پر عمل کرنے کا اور ایک اس پر رضا مند ہونے کا۔ (154- عمل اور اس پر رضا مندی) حکمت حکمت 154

حکمت (154) : کسی جماعت کے فعل پر رضا مند ہونے والا ایسا ہے جیسے اس کے کام میں شریک ہو۔ اور غلط کام میں شریک ہو نے والے پر دو گناہ ہیں۔ ایک اس پر عمل کرنے کا اور ایک اس پر رضا مند ہونے کا۔ (154- عمل اور اس پر رضا مندی)

کسی جماعت کے فعل پر رضا مند ہونے والا ایسا ہے جیسے اس کے کام میں شریک ہو۔

مزید پڑھیے
حکمت (155) :  عہد و پیمان کی ذمہ داریوں کو ان سے وابستہ کرو جو میخوں کے ایسے (مضبوط) ہوں۔ (155- عہد و پیمان) حکمت حکمت 155

حکمت (155) : عہد و پیمان کی ذمہ داریوں کو ان سے وابستہ کرو جو میخوں کے ایسے (مضبوط) ہوں۔ (155- عہد و پیمان)

عہد و پیمان کی ذمہ داریوں کو ان سے وابستہ کرو جو میخوں کے ایسے مضبوط ہوں۔

مزید پڑھیے
حکمت (156) :  تم پر اطاعت بھی لازم ہے ان کی جن سے ناواقف رہنے کی بھی تمہیں معافی نہیں۔ (156- معرفتِ امام) حکمت حکمت 156

حکمت (156) : تم پر اطاعت بھی لازم ہے ان کی جن سے ناواقف رہنے کی بھی تمہیں معافی نہیں۔ (156- معرفتِ امام)

تم پر اطاعت بھی لازم ہے ان کی جن سے ناواقف رہنے کی بھی تمہیں معافی نہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (141) : متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے۔ (141- راحت و آسودگی) حکمت حکمت 141

حکمت (141) : متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے۔ (141- راحت و آسودگی)

متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (157) :  اگر تم دیکھو، تو تمہیں دکھایا جا چکا ہے اور اگر تم ہدایت حاصل کرو تو تمہیں ہدایت کی جاچکی ہے اور اگر سننا چاہو تو تمہیں سنایا جا چکا ہے۔ (157- پند و نصیحت) حکمت حکمت 157

حکمت (157) : اگر تم دیکھو، تو تمہیں دکھایا جا چکا ہے اور اگر تم ہدایت حاصل کرو تو تمہیں ہدایت کی جاچکی ہے اور اگر سننا چاہو تو تمہیں سنایا جا چکا ہے۔ (157- پند و نصیحت)

اگر تم دیکھو، تو تمہیں دکھایا جا چکا ہے اور اگر تم ہدایت حاصل کرو تو تمہیں ہدایت کی جاچکی…

مزید پڑھیے
حکمت (142) : میلِ محبت پیدا کرنا عقل کا نصف حصہ ہے۔ (142- میل ملاقات) حکمت حکمت 142

حکمت (142) : میلِ محبت پیدا کرنا عقل کا نصف حصہ ہے۔ (142- میل ملاقات)

میلِ محبت پیدا کرنا عقل کا نصف حصہ ہے۔

مزید پڑھیے