nahjulbalagah
حکمت
حکمت 224
حکمت (224) : زیادہ خاموشی رعب و ہیبت کا باعث ہوتی ہے۔ اور انصاف سے دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے لطف و کرم سے قدر و منزلت بلند ہوتی ہے جھک کر ملنے سے نعمت تمام ہوتی ہے۔ دوسروں کا بوجھ بٹانے سے لازماً سرداری حاصل ہوتی ہے اور خوش رفتاری سے کینہ ور دشمن مغلوب ہوتا ہے اور سر پھر ے آدمی کے مقابلہ میں بردباری کرنے سے اس کے مقابلہ میں اپنے طرفدار زیادہ ہو جاتے ہیں۔ (224- چند اوصاف)
زیادہ خاموشی رعب و ہیبت کا باعث ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 240
حکمت (240) : گھر میں ایک غصبی پتھر اس کی ضمانت ہے کہ وہ تباہ و برباد ہو کر رہے گا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ ایک روایت میں یہ کلام رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہوا ہے اور اس میں تعجب ہی کیا ہے کہ دونوں کے کلام ایک دوسرے کے مثل ہوں کیونکہ دونوں کا سر چشمہ تو ایک ہی ہے۔ (240- غصب)
گھر میں ایک غصبی پتھر اس کی ضمانت ہے کہ وہ تباہ و برباد ہو کر رہے گا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 255
حکمت (255) : غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ضرور ہوتا ہے اور اگر پشیمان نہیں ہوتا تو اُس کی دیوانگی پختہ ہے۔ (255- غیظ و غضب)
غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ضرور ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 225
حکمت (225) : تعجب ہے کہ حاسد جسمانی تندرستی پر حسد کرنے سے کیوں غافل ہو گئے۔ (225- یہ حاسد)
تعجب ہے کہ حاسد جسمانی تندرستی پر حسد کرنے سے کیوں غافل ہو گئے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 241
حکمت (241) : مظلوم کے ظالم پر قابو پانے کا دن اس دن سے کہیں زیادہ ہو گا جس میں ظالم مظلوم کے خلاف اپنی طاقت دکھاتا ہے۔ (241- ظالم و مظلوم)
مظلوم کے ظالم پر قابو پانے کا دن اس دن سے کہیں زیادہ ہو گا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 256
حکمت (256) : حسد کی کمی بدن کی تندرستی کا سبب ہے۔ (256- حسد)
حسد کی کمی بدن کی تندرستی کا سبب ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 226
حکمت (226) : طمع کرنے والا ذلت کی زنجیروں میں گرفتار رہتا ہے۔ (226- طمع)
طمع کرنے والا ذلت کی زنجیروں میں گرفتار رہتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 242
حکمت (242) : اللہ سے کچھ تو ڈرو، چاہے وہ کم ہی ہو، اور اپنے اور اللہ کے درمیان کچھ تو پردہ رکھو، چاہے وہ باریک ہی سا ہو۔ (242- تقویٰ)
اللہ سے کچھ تو ڈرو، چاہے وہ کم ہی ہو، اور اپنے اور اللہ کے درمیان کچھ تو پردہ رکھو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 257
حکمت (257) : کمیل ابن زیاد نخعی سے فرمایا: اے کمیل! اپنے عزیز و اقارب کو ہدایت کرو کہ وہ اچھی خصلتوں کو حاصل کرنے کے لیے دن کے وقت نکلیں اور رات کو سو جانے والے کی حاجت روائی کو چل کھڑے ہوں۔ اُس ذات کی قسم جس کی قوتِ شنوائی تمام آوازوں پر حاوی ہے، جِس کسی نے بھی کسی کے دل کو خوش کیا تو اللہ اُس کے لیے اُس سرور سے ایک لطفِ خاص خلق فرمائے گا کہ جب بھی اُس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو وہ نشیب میں بہنے والے پانی کی طرح تیزی سے بڑھے اور اجنبی اونٹوں کو ہنکانے کی طرح اس مصیبت کو ہنکا کر دور کر دے۔ (257- حاجت روائی)
کمیل ابن زیاد نخعی سے فرمایا: اپنے عزیز و اقارب کو ہدایت کرو کہ وہ اچھی خصلتوں کو حاصل کرنے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 227
حکمت (227) : آپ سے ایمان کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ ایمان دل سے پہچاننا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضا سے عمل کرنا ہے۔ (227- ایمان کی تعریف)
ایمان دل سے پہچاننا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضا سے عمل کرنا ہے۔
مزید پڑھیے
