nahjulbalagah

800 اندراجات
حکمت (246) :  نعمتوں کے زائل ہونے سے ڈرتے رہو کیونکہ ہر بے قابو ہو کر نکل جانے والی چیز پلٹا نہیں کرتی۔ (246- کفرانِ نعمت) حکمت حکمت 246

حکمت (246) : نعمتوں کے زائل ہونے سے ڈرتے رہو کیونکہ ہر بے قابو ہو کر نکل جانے والی چیز پلٹا نہیں کرتی۔ (246- کفرانِ نعمت)

نعمتوں کے زائل ہونے سے ڈرتے رہو کیونکہ ہر بے قابو ہو کر نکل جانے والی چیز پلٹا نہیں کرتی۔

مزید پڑھیے
حکمت (232) :  جو عاجز و قاصر ہاتھ سے دیتا ہے اسے با اقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔
سید رضی کہتے ہیں کہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں سے کچھ خیر و نیکی کی راہ میں خر چ کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہو، مگر خداوند عالم اس کا اجر بہت زیادہ قرار دیتا ہے اور اس مقام پر دو ہاتھوں سے مراد دو نعمتیں ہیں اور امیرالمومنین علیہ السلام نے بندہ کی نعمت اور پروردگار کی نعمت میں فرق بتایا ہے کہ وہ تو عجز و قصور کی حامل ہے اور و ہ با اقتدار ہے۔ کیونکہ اللہ کی عطا کردہ نعمتیں مخلوق کی دی ہوئی نعمتوں سے ہمیشہ بدر جہا بڑھی چڑھی ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ اللہ ہی کی نعمتیں تمام نعمتوں کا سر چشمہ ہیں۔ لہٰذا ہر نعمت انہی نعمتوں کی طرف پلٹتی ہے، اور انہی سے وجود پاتی ہے۔ (232- اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے) حکمت حکمت 232

حکمت (232) : جو عاجز و قاصر ہاتھ سے دیتا ہے اسے با اقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔ سید رضی کہتے ہیں کہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں سے کچھ خیر و نیکی کی راہ میں خر چ کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہو، مگر خداوند عالم اس کا اجر بہت زیادہ قرار دیتا ہے اور اس مقام پر دو ہاتھوں سے مراد دو نعمتیں ہیں اور امیرالمومنین علیہ السلام نے بندہ کی نعمت اور پروردگار کی نعمت میں فرق بتایا ہے کہ وہ تو عجز و قصور کی حامل ہے اور و ہ با اقتدار ہے۔ کیونکہ اللہ کی عطا کردہ نعمتیں مخلوق کی دی ہوئی نعمتوں سے ہمیشہ بدر جہا بڑھی چڑھی ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ اللہ ہی کی نعمتیں تمام نعمتوں کا سر چشمہ ہیں۔ لہٰذا ہر نعمت انہی نعمتوں کی طرف پلٹتی ہے، اور انہی سے وجود پاتی ہے۔ (232- اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے)

جو عاجز و قاصر ہاتھ سے دیتا ہے اسے با اقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (247) :  جذبہ کرم رابطہ قرابت سے زیادہ لطیف و مہر بانی کا سبب ہوتا ہے۔ (247- جذبۂ کرم) حکمت حکمت 247

حکمت (247) : جذبہ کرم رابطہ قرابت سے زیادہ لطیف و مہر بانی کا سبب ہوتا ہے۔ (247- جذبۂ کرم)

جذبہ کرم رابطہ قرابت سے زیادہ لطیف و مہر بانی کا سبب ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (233) :  اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے فرمایا 
کسی کو مقابلہ کے لیے خود نہ للکارو۔ ہاں اگر دوسرا للکارے تو فورا ً جواب دو۔ اس لیے کہ جنگ کی خود سے دعوت دینے والا زیادتی کرنے والا ہے، اور زیادتی کرنے والا تباہ ہوتا ہے۔ (233- دعوت مقابلہ) حکمت حکمت 233

حکمت (233) : اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے فرمایا کسی کو مقابلہ کے لیے خود نہ للکارو۔ ہاں اگر دوسرا للکارے تو فورا ً جواب دو۔ اس لیے کہ جنگ کی خود سے دعوت دینے والا زیادتی کرنے والا ہے، اور زیادتی کرنے والا تباہ ہوتا ہے۔ (233- دعوت مقابلہ)

اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے فرمایا کسی کو مقابلہ کے لیے خود نہ للکارو۔

مزید پڑھیے
حکمت (248) :  جو تم سے حسن ظن رکھے، اس کے گمان کو سچاثابت کرو۔ (248- حُسنِ ظن) حکمت حکمت 248

حکمت (248) : جو تم سے حسن ظن رکھے، اس کے گمان کو سچاثابت کرو۔ (248- حُسنِ ظن)

جو تم سے حسن ظن رکھے، اس کے گمان کو سچاثابت کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (234) :  عورتوں کی بہتر ین خصلتیں وہ ہیں جو مردوں کی بدترین صفتیں ہیں۔ غرور، بزدلی اور کنجوسی اس لیے کہ عورت جب مغرور ہو گی، تو وہ کسی کو اپنے نفس پر قابو نہ دے گی اور کنجوس ہو گی تو اپنے اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے گی اور بزدل ہو گی تو وہ ہر اس چیز سے ڈرے گی جو پیش آئے گی۔ (234- عورت و مرد کے صفات) حکمت حکمت 234

حکمت (234) : عورتوں کی بہتر ین خصلتیں وہ ہیں جو مردوں کی بدترین صفتیں ہیں۔ غرور، بزدلی اور کنجوسی اس لیے کہ عورت جب مغرور ہو گی، تو وہ کسی کو اپنے نفس پر قابو نہ دے گی اور کنجوس ہو گی تو اپنے اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے گی اور بزدل ہو گی تو وہ ہر اس چیز سے ڈرے گی جو پیش آئے گی۔ (234- عورت و مرد کے صفات)

عورتوں کی بہترین خصلتیں وہ ہیں جو مردوں کی بدترین صفتیں ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (249) :  بہترین عمل وہ ہے جس کے بجا لانے پر تمہیں اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑے۔ (249- افضل اعمال) حکمت حکمت 249

حکمت (249) : بہترین عمل وہ ہے جس کے بجا لانے پر تمہیں اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑے۔ (249- افضل اعمال)

بہترین عمل وہ ہے جس کے بجا لانے پر تمہیں اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑے۔

مزید پڑھیے
حکمت (235) :  آپ علیہ السّلام سے عرض کیا گیا کہ عقلمند کے اوصاف بیان کیجئے۔ فرمایا! عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھے۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ جاہل کا وصف بتایئے تو فرمایا میں بیان کر چکا۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ جاہل وہ ہے جو کسی چیز کو اس کے موقع و محل پر نہ رکھے۔ گویا حضرت کا اسے نہ بیان کر نا ہی بیان کرنا ہے۔ کیونکہ اس کے اوصاف عقلمند کے اوصاف کے برعکس ہیں۔ (235- عاقل و جاہل) حکمت حکمت 235

حکمت (235) : آپ علیہ السّلام سے عرض کیا گیا کہ عقلمند کے اوصاف بیان کیجئے۔ فرمایا! عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھے۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ جاہل کا وصف بتایئے تو فرمایا میں بیان کر چکا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ جاہل وہ ہے جو کسی چیز کو اس کے موقع و محل پر نہ رکھے۔ گویا حضرت کا اسے نہ بیان کر نا ہی بیان کرنا ہے۔ کیونکہ اس کے اوصاف عقلمند کے اوصاف کے برعکس ہیں۔ (235- عاقل و جاہل)

آپ علیہ السّلام نے عقلمند کے اوصاف بیان کیے۔ عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و…

مزید پڑھیے
حکمت (250) :  میں نے اللہ سبحانہ کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے،نیتوں کے بدل جانے، اور ہمتوں کے پست ہو جانے سے۔ (250- خداشناسی) حکمت حکمت 250

حکمت (250) : میں نے اللہ سبحانہ کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے،نیتوں کے بدل جانے، اور ہمتوں کے پست ہو جانے سے۔ (250- خداشناسی)

میں نے اللہ سبحانہ کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے،نیتوں کے بدل جانے، اور ہمتوں کے پست ہو جانے سے۔

مزید پڑھیے
حکمت (236) :  خدا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک سور کی انتڑیوں سے بھی زیادہ ذلیل ہے جو کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔ (236- دنیا کی بے قدری) حکمت حکمت 236

حکمت (236) : خدا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک سور کی انتڑیوں سے بھی زیادہ ذلیل ہے جو کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔ (236- دنیا کی بے قدری)

خدا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک سور کی انتڑیوں سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔

مزید پڑھیے