nahjulbalagah

800 اندراجات
حکمت (217) :  حالات کے پلٹوں ہی میں مردوں کے جوہر کھلتے ہیں۔ (217- نشیب و فراز) حکمت حکمت 217

حکمت (217) : حالات کے پلٹوں ہی میں مردوں کے جوہر کھلتے ہیں۔ (217- نشیب و فراز)

حالات کے پلٹوں ہی میں مردوں کے جوہر کھلتے ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (202) :  طلحہ و زبیر نے حضرت سے کہا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ اس حکومت میں آپ کے ساتھ شریک رہیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم تقویت پہنچانے اور ہاتھ بٹانے میں شریک اور عاجزی اور سختی کے موقع پر مددگار ہو گے۔ (202- بجواب طلحہ و زبیر) حکمت حکمت 202

حکمت (202) : طلحہ و زبیر نے حضرت سے کہا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ اس حکومت میں آپ کے ساتھ شریک رہیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم تقویت پہنچانے اور ہاتھ بٹانے میں شریک اور عاجزی اور سختی کے موقع پر مددگار ہو گے۔ (202- بجواب طلحہ و زبیر)

طلحہ و زبیر نے حضرت سے کہا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ اس حکومت…

مزید پڑھیے
حکمت (218) :  دوست کا حسد کرنا دوستی کی خامی ہے۔ (218- حسد) حکمت حکمت 218

حکمت (218) : دوست کا حسد کرنا دوستی کی خامی ہے۔ (218- حسد)

دوست کا حسد کرنا دوستی کی خامی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (203) :  اے لوگو! اللہ سے ڈرو کہ اگر تم کچھ کہو تو وہ سنتا ہے اور دل میں چھپا کر رکھو تو وہ جان لیتا ہے اس موت کی طر ف بڑھنے کا سرو سامان کرو کہ جس سے بھاگے تو وہ تمہیں پالے گی اور اگر ٹھہرے تو وہ تمہیں گرفت میں لے لے گی اور اگر تم اسے بھول بھی جاؤ تو وہ تمہیں یاد رکھے گی۔ (203- موت کی گرفت) حکمت حکمت 203

حکمت (203) : اے لوگو! اللہ سے ڈرو کہ اگر تم کچھ کہو تو وہ سنتا ہے اور دل میں چھپا کر رکھو تو وہ جان لیتا ہے اس موت کی طر ف بڑھنے کا سرو سامان کرو کہ جس سے بھاگے تو وہ تمہیں پالے گی اور اگر ٹھہرے تو وہ تمہیں گرفت میں لے لے گی اور اگر تم اسے بھول بھی جاؤ تو وہ تمہیں یاد رکھے گی۔ (203- موت کی گرفت)

اے لوگو! اللہ سے ڈرو کہ اگر تم کچھ کہو تو وہ سنتا ہے...

مزید پڑھیے
حکمت (219) :  اکثر عقلوں کا ٹھوکر کھا کر گرنا طمع و حرص کی بجلیاں چمکنے پر ہوتا ہے۔ (219- طمع و حرص) حکمت حکمت 219

حکمت (219) : اکثر عقلوں کا ٹھوکر کھا کر گرنا طمع و حرص کی بجلیاں چمکنے پر ہوتا ہے۔ (219- طمع و حرص)

اکثر عقلوں کا ٹھوکر کھا کر گرنا طمع و حرص کی بجلیاں چمکنے پر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (204) :  کسی شخص کا تمہارے حسن سلوک پر شکر گزار نہ ہونا تمہیں نیکی اور بھلائی سے بددل نہ بنا دے اس لیے کہ بسا اوقات تمہاری اس بھلائی کی وہ قدر کرے گا، جس نے اس سے کچھ فائدہ بھی نہیں اٹھایا اور اس ناشکرے نے جتنا تمہارا حق ضائع کیا ہے، اس سے کہیں زیادہ تم ایک قدردان کی قدر دانی سے حاصل کر لو گے اور خدا نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (204- قدرت کی قدر دانی) حکمت حکمت 204

حکمت (204) : کسی شخص کا تمہارے حسن سلوک پر شکر گزار نہ ہونا تمہیں نیکی اور بھلائی سے بددل نہ بنا دے اس لیے کہ بسا اوقات تمہاری اس بھلائی کی وہ قدر کرے گا، جس نے اس سے کچھ فائدہ بھی نہیں اٹھایا اور اس ناشکرے نے جتنا تمہارا حق ضائع کیا ہے، اس سے کہیں زیادہ تم ایک قدردان کی قدر دانی سے حاصل کر لو گے اور خدا نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (204- قدرت کی قدر دانی)

کسی شخص کا تمہارے حسن سلوک پر شکر گزار نہ ہونا تمہیں نیکی اور بھلائی سے بددل نہ بنا دے۔

مزید پڑھیے
حکمت (220) :  یہ انصاف نہیں ہے کہ صرف ظن و گمان پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔ (220- بدگمانی) حکمت حکمت 220

حکمت (220) : یہ انصاف نہیں ہے کہ صرف ظن و گمان پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔ (220- بدگمانی)

یہ انصاف نہیں ہے کہ صرف ظن و گمان پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیے
حکمت (205) :  ہر ظرف اس سے کہ جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوتا جاتا ہے، مگر علم کا ظرف وسیع ہوتا جاتا ہے۔ (205- ظرفِ علم) حکمت حکمت 205

حکمت (205) : ہر ظرف اس سے کہ جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوتا جاتا ہے، مگر علم کا ظرف وسیع ہوتا جاتا ہے۔ (205- ظرفِ علم)

ہر ظرف اس سے کہ جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوتا جاتا ہے، مگر علم کا ظرف وسیع ہوتا…

مزید پڑھیے
حکمت (206) :  بردبار کو اپنی بردباری کا پہلا عوض یہ ملتا ہے۔ کہ لوگ جہالت دکھانے والے کے خلاف اس کے طرفدار ہو جاتے ہیں۔ (206- علم و بردباری) حکمت حکمت 206

حکمت (206) : بردبار کو اپنی بردباری کا پہلا عوض یہ ملتا ہے۔ کہ لوگ جہالت دکھانے والے کے خلاف اس کے طرفدار ہو جاتے ہیں۔ (206- علم و بردباری)

بردبار کو اپنی بردباری کا پہلا عوض یہ ملتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (207) :  اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر برد بار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی جماعت سے شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہو 
جائے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر انسان طبعاً حلیم و برد بار ہو تو سے برد بار بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ اپنی افتادہ طبیعت کے خلاف حلم و بردباری کا مظاہرہ کرے اگرچہ طبیعت کا رخ موڑنے میں کچھ زحمت محسوس ہو گی مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آہستہ آہستہ حلم طبعی خصلت کی صورت اختیار کر لے گا اور پھر تکلف کی حاجت نہ رہے گی کیونکہ عادت رفتہ رفتہ طبیعت ثانیہ بن جایا کرتی ہے۔ (207- برد بار بنو) حکمت حکمت 207

حکمت (207) : اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر برد بار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی جماعت سے شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر انسان طبعاً حلیم و برد بار ہو تو سے برد بار بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ اپنی افتادہ طبیعت کے خلاف حلم و بردباری کا مظاہرہ کرے اگرچہ طبیعت کا رخ موڑنے میں کچھ زحمت محسوس ہو گی مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آہستہ آہستہ حلم طبعی خصلت کی صورت اختیار کر لے گا اور پھر تکلف کی حاجت نہ رہے گی کیونکہ عادت رفتہ رفتہ طبیعت ثانیہ بن جایا کرتی ہے۔ (207- برد بار بنو)

اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر برد بار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی…

مزید پڑھیے