nahjulbalagah
حکمت
حکمت 171
حکمت (171) : بسا اوقات ایک دفعہ کا کھانا بہت دفعہ کے کھانوں سے مانع ہو جاتا ہے۔ (171- حرص و طمع)
بسا اوقات ایک دفعہ کا کھانا بہت دفعہ کے کھانوں سے مانع ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 187
حکمت (187) : چل چلاؤ قریب ہے۔ (187- چل چلاؤ کا ہنگام)
چل چلاؤ قریب ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 172
حکمت (172) : لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے نہیں جانتے۔ (172- جہل و نادانی)
لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے نہیں جانتے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 188
حکمت (188) : جو حق سے منہ موڑ تا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔ (188- حق سے رو گردانی)
جو حق سے منہ موڑ تا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 173
حکمت (173) : جو شخص مختلف رایوں کا سامنا کرتا ہے وہ خطا و لغزش کے مقامات کو پہچان لیتا ہے۔ (173- مشورہ)
جو شخص مختلف رایوں کا سامنا کرتا ہے وہ خطا و لغزش کے مقامات کو پہچان لیتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 189
حکمت (189) : جسے صبر رہائی نہیں دلاتا، اسے بے تابی و بے قرار ی ہلاک کر دیتی ہے۔ (189- صبر)
جسے صبر رہائی نہیں دلاتا، اسے بے تابی و بے قرار ی ہلاک کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 174
حکمت (174) : جو شخص اللہ کی خاطر سنان غضب تیز کرتا ہے، وہ باطل کے سورماؤں کے قتل پر توانا ہو جاتا ہے۔ (174- نیت کا روزہ)
جو شخص اللہ کی خاطر سنان غضب تیز کرتا ہے، وہ باطل کے سورماؤں کے قتل پر توانا ہو جاتا…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 190
حکمت (190) : العجب کیا خلافت کا معیار بس صحابیت اور قرابت ہی ہے۔ (190- معیارِ خلافت)
العجب کیا خلافت کا معیار بس صحابیت اور قرابت ہی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 175
حکمت (175) : جب کسی امر سے دہشت محسوس کرو تو اس میں پھاند پڑو، اس لیے کہ کھٹکا لگا رہنا اس ضرر سے کہ جس کا خوف ہے، زیادہ تکلیف دہ چیز ہے۔ (175- خوف کا علاج)
جب کسی امر سے دہشت محسوس کرو تو اس میں پھاند پڑو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 191
حکمت (191) : دنیا میں انسان موت کی تیر اندازی کا ہدف اور مصیبت و ابتلاء کی غارت گری کی جولانگاہ ہے جہاں ہر گھونٹ کے ساتھ اچھو اور ہر لقمہ میں گلو گیر پھندا ہے اور جہاں بندہ ایک نعمت اس وقت تک نہیں پاتا جب تک دوسری نعمت جدا نہ ہو جائے اور اس کی عمر کا ایک دن آتا نہیں جب تک کہ ایک دن اس کی عمر کا کم نہ ہو جائے ہم موت کے مددگار ہیں اور ہماری جانیں ہلاکت کی زد پر ہیں تو اس صورت میں ہم کہاں سے بقا کی امید کر سکتے ہیں جب کہ شب و روز کسی عمارت کو بلند نہیں کرتے مگر یہ کہ حملہ آور ہو کر جو بنایا ہے اسے گراتے اور جو یکجا کیا ہے اسے بکھیر تے ہوتے ہیں۔ (191- دنیا کی حالت)
دنیا میں انسان موت کی تیر اندازی کا ہدف اور مصیبت و ابتلاء کی غارت گری کی جولانگاہ ہے۔
مزید پڑھیے
