nahjulbalagah

800 اندراجات
حکمت (73) : جب لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے کو تعلیم دینا چاہیے اور زبان سے درسِ اخلاق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیے۔ اور جو اپنے نفس کی تعلیم و تادیب کر لے، وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔ (73- پیشوا کے اوصاف) حکمت حکمت 73

حکمت (73) : جب لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے کو تعلیم دینا چاہیے اور زبان سے درسِ اخلاق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیے۔ اور جو اپنے نفس کی تعلیم و تادیب کر لے، وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔ (73- پیشوا کے اوصاف)

جب لوگوں کا پیشوا بنتا ہے اسے پہلے خود کو تعلیم دینا چاہیے۔

مزید پڑھیے
حکمت (74) :  انسان کی ہر سانس ایک قدم ہے جب اسے موت کی طرف بڑھائے لیے جارہا ہے۔ (74- یہ سانسیں) حکمت حکمت 74

حکمت (74) : انسان کی ہر سانس ایک قدم ہے جب اسے موت کی طرف بڑھائے لیے جارہا ہے۔ (74- یہ سانسیں)

انسان کی ہر سانس ایک قدم ہے جب اسے موت کی طرف بڑھائے لیے جارہا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (75) : جب چیز شمار میں آئے اسے ختم ہونا چاہیے اور جسے آنا چاہیے، وہ آ کر رہے گا۔ (75- رفتنی وگزشتنی) حکمت حکمت 75

حکمت (75) : جب چیز شمار میں آئے اسے ختم ہونا چاہیے اور جسے آنا چاہیے، وہ آ کر رہے گا۔ (75- رفتنی وگزشتنی)

جب چیز شمار میں آئے اسے ختم ہونا چاہیے اور جسے آنا چاہیے، وہ آ کر رہے گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (76) : جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے تو آغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے۔ (76- آغاز و انجام) حکمت حکمت 76

حکمت (76) : جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے تو آغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے۔ (76- آغاز و انجام)

جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے تو آغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے۔

مزید پڑھیے
حکمت (61) :  عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے۔ (61- عورت ایک بچھو ہے) حکمت حکمت 61

حکمت (61) : عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے۔ (61- عورت ایک بچھو ہے)

عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (77) : جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السّلام کے متعلق ان سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپ کو دیکھا جب کہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی۔ تو آپ محراب عبادت میں استادہ ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اور غم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔  

اے دنیا! اے دنیا دور ہو مجھ سے۔ کیا میرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے؟ تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے) بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے، جا کسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے۔ میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ تیری زندگی تھوڑی، تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے۔ افسوس زادِ راہ تھوڑا، راستہ طویل، سفر دور دراز اور منزل سخت ہے۔ (77- ضرار کا بیان) حکمت حکمت 77

حکمت (77) : جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السّلام کے متعلق ان سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپ کو دیکھا جب کہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی۔ تو آپ محراب عبادت میں استادہ ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اور غم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ اے دنیا! اے دنیا دور ہو مجھ سے۔ کیا میرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے؟ تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے) بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے، جا کسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے۔ میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ تیری زندگی تھوڑی، تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے۔ افسوس زادِ راہ تھوڑا، راستہ طویل، سفر دور دراز اور منزل سخت ہے۔ (77- ضرار کا بیان)

جب ضَرار ابن ضَمْرَۃ صُنْبَائی مُعَاوِیَہ کے پاس گئے اور امیرالمؤمنین علیہ السّلام کے متعلق سوال کیا۔

مزید پڑھیے
حکمت (62) : جب تم پر سلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقے سے جواب دو۔ اور جب تم پر کوئی احسان کرے تو اس سے بڑھ چڑھ کر بدلہ دو، اگرچہ اس صورت میں بھی فضیلت پہل کرنے والے ہی کی ہوگی۔ (62- احسان کا بدلہ) حکمت حکمت 62

حکمت (62) : جب تم پر سلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقے سے جواب دو۔ اور جب تم پر کوئی احسان کرے تو اس سے بڑھ چڑھ کر بدلہ دو، اگرچہ اس صورت میں بھی فضیلت پہل کرنے والے ہی کی ہوگی۔ (62- احسان کا بدلہ)

جب تم پر سلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقے سے جواب دو۔

مزید پڑھیے
حکمت (78) :  ایک شخص نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ہمارا اہل شام سے لڑنے کے لیے جانا قضا و قدر سے تھا؟ تو آپ نے ایک طویل جواب دیا۔ جس کا ایک منتخب حصہ یہ ہے۔ خدا تم پر رحم کرے شاید تم نے حتمی و لازمی قضاء و قدر سمجھ لیا ہے (کہ جس کے انجام دینے پر ہم مجبور ہیں) اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ ثواب کا کوئی سوال پیدا ہوتا نہ عذاب کا نہ وعدے کے کچھ معنی رہتے نہ وعید کے۔ خدا وند عالم نے تو بندوں کو خود مختار بنا کر مامور کیا ہے اور (عذاب سے) ڈراتے ہوئے نہی کی ہے۔ اُس نے سہل و آسان تکلیف دی ہے اور دشواریوں سے بچائے رکھا ہے۔ وہ تھوڑے کیے پر زیادہ اجر دیتا ہے۔ اس کی نافرمانی اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ دب گیا ہے اور نہ اس کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے۔ اس نے پیغمبروں کو بطور تفریح نہیں بھیجا اور بندوں کے لیے کتابیں بے فائدہ نہیں اتاری ہیں اور نہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو بیکار پیدا کیا ہے۔ یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے کفر اختیار کیا آتش جہنم کے عذاب سے۔  

اس روایت کا تتمہ یہ ہے پھر اس شخص نے کہا کہ وہ کون سی قضاء و قدر تھی جس کی وجہ سے ہمیں جانا پڑا؟ آپ نے کہا کہ قضا کے معنی حکم باری کے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے۔ وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ اور تمہارے پروردگار نے تو حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا۔ یہاں پر قضی بمعنی امر کے ہے۔ (78- قضا و قدر) حکمت حکمت 78

حکمت (78) : ایک شخص نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ہمارا اہل شام سے لڑنے کے لیے جانا قضا و قدر سے تھا؟ تو آپ نے ایک طویل جواب دیا۔ جس کا ایک منتخب حصہ یہ ہے۔ خدا تم پر رحم کرے شاید تم نے حتمی و لازمی قضاء و قدر سمجھ لیا ہے (کہ جس کے انجام دینے پر ہم مجبور ہیں) اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ ثواب کا کوئی سوال پیدا ہوتا نہ عذاب کا نہ وعدے کے کچھ معنی رہتے نہ وعید کے۔ خدا وند عالم نے تو بندوں کو خود مختار بنا کر مامور کیا ہے اور (عذاب سے) ڈراتے ہوئے نہی کی ہے۔ اُس نے سہل و آسان تکلیف دی ہے اور دشواریوں سے بچائے رکھا ہے۔ وہ تھوڑے کیے پر زیادہ اجر دیتا ہے۔ اس کی نافرمانی اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ دب گیا ہے اور نہ اس کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے۔ اس نے پیغمبروں کو بطور تفریح نہیں بھیجا اور بندوں کے لیے کتابیں بے فائدہ نہیں اتاری ہیں اور نہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو بیکار پیدا کیا ہے۔ یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے کفر اختیار کیا آتش جہنم کے عذاب سے۔ اس روایت کا تتمہ یہ ہے پھر اس شخص نے کہا کہ وہ کون سی قضاء و قدر تھی جس کی وجہ سے ہمیں جانا پڑا؟ آپ نے کہا کہ قضا کے معنی حکم باری کے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے۔ وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ اور تمہارے پروردگار نے تو حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا۔ یہاں پر قضی بمعنی امر کے ہے۔ (78- قضا و قدر)

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے قضا و قدر کے بارے میں اہم نکات بیان کیے۔

مزید پڑھیے
حکمت (63) :  سفارش کرنے والا امیدوار کے لیے بمنزلہ پردہ بال ہوتا ہے۔ (63- سفارش) حکمت حکمت 63

حکمت (63) : سفارش کرنے والا امیدوار کے لیے بمنزلہ پردہ بال ہوتا ہے۔ (63- سفارش)

سفارش کرنے والا امیدوار کے لیے بمنزلہ پردہ بال ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (79) : حکمت کی بات جہاں کہیں ہو، اسے حاصل کرو، کیونکہ حکمت منافق کے سینے میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن جب تک اس (کی زبان) سے نکل کر مومن کے سینے میں پہنچ کر دوسری حکمتوں کے ساتھ بہل نہیں جاتی، تڑپتی رہتی ہے۔ (79- حکمت) حکمت حکمت 79

حکمت (79) : حکمت کی بات جہاں کہیں ہو، اسے حاصل کرو، کیونکہ حکمت منافق کے سینے میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن جب تک اس (کی زبان) سے نکل کر مومن کے سینے میں پہنچ کر دوسری حکمتوں کے ساتھ بہل نہیں جاتی، تڑپتی رہتی ہے۔ (79- حکمت)

حکمت کی بات جہاں کہیں ہو، اسے حاصل کرو۔

مزید پڑھیے